اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2025-11-27

وعدہ کرکے مکر جانے والا خالص منافق ہے

عَنْ عَبْدِ اللّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اَرْبَعُ خِصَالٍ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا : مَنْ اِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ ، وَاِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَاِذَا خَاصَمَ فَجَرَ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاچار خصلتیں جس میں ہوں گی وہ تو پکا نرا منافق ہوگاجب بات کہے تو جھوٹ اور جب وعدہ کرے تو خلاف اور جب عہد کرے دغا کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ پر آجائے جس میں ان خصلتوں میں کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی خصلت ہے جب تک اس کو نہ چھوڑ دے۔
(بخاری کتاب الجہاد والسیر
باب اثم من عاھد ثم غدر)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ اَبِي الْحَمْسَآءِ قَالَ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ وَبَقَيْتُ لَهٗ بَقِيَّةٌ فَوَعَدْتُّهٗ اَنْ اٰتِيَهٗ بِهَا فِيْ مَكَانِہٖ فَنَسِيْتُ فَذْكَرْتُ بَعْدَ ثَلٰثٍ فَاِذَا هُوَ فِيْ مَكَانِهٖ فَقَالَ لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَىَّ اَنَا هٰهُنَا مُنْذُ ثَلٰثٍ اَنْتَظِرُكَ۔
حضرت عبد اللہ بن ابی الحمساء سے روایت ہے کہ زمانہ بعثت سے پہلے میں نے آنحضرت ﷺ سے خرید و فروخت کی اور آپ کا کچھ بقایا رہ گیا ۔ میں نے وعدہ کیا کہ آپ اسی جگہ ٹھہریں اس کے بعد میں بھول گیااچانک مجھے تین روز بعد یاد آیا کیا دیکھتا ہوں کہ آپؐاسی جگہ ٹھہرے ہوئے ہیں ۔آپؐنے صرف اتنا فرمایا تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا میں یہاں تین روز سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔
(مشکوٰۃکتاب الآداب ،باب الوعد)