اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2025-11-06

ماں باپ کی خدمت اور صِلہ رحمی

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : جَآءَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللہِ ! مَنْ اَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِیْ ؟ قَالَ : اُمُّکَ ۔ قَالَ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : اُمُّکَ ۔ قَالَ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ: اُمُّکَ ۔ قَالَ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : اَبُوْکَ ۔ وَفِی رِوَایَۃٍ ، یَا رَسُوْلَ اللہِ ! مَنْ اَحَقُّ بِحُسْنِ الصُّحْبَۃِ؟ قَالَ اُمُّکَ ثُمَّ اُمُّکَ ثُمَّ اُمُّکَ ثُمَّ اَبُوْکَ ثُمَّ اَدْنَاکَ اَدْنَاکَ ۔
حضرت ابوہریرہؓبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آنحضرت ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ لوگوں میں سے میرے حُسنِ سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپؐنے فرمایا تیری ماں ۔ پھر اس نے پوچھا پھر کون؟ آپؐنے فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپؐنے فرمایا تیری ماں ۔ اس نے چوتھی بار پوچھا۔ پھر کون؟ آپؐنے فرمایا۔ ماں کے بعد تیرا باپ تیرے حُسنِ سلوک کا زیادہ مستحق ہے پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ دار ۔
(بخاری کتاب الادب باب من احق الناس بحسن الصحبۃ ومسلم)
(بحوالہ حدیقۃ الصالحین مصنفہ ملک سیف الرحمٰن صاحب حدیث 394 )