طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے مقداد بن اسود کا ایک ایسا کارنامہ دیکھا ہے کہ اس کے مقابلہ میں میری ساری نیکیاں کچھ بھی وزن نہیں رکھتیں اور میری تمنّا ہے کہ کاش یہ کام میں نے کیا ہوتا ۔ حضور ﷺ (جنگ بدر کے موقع پر) مشرکین کے خلاف لڑنے کی دعوت دے رہے تھے (اور اپنے صحابہؓ سے پوچھ رہے تھے کہ وہ جنگ کیلئے تیار ہیں یا نہیں) اس وقت مقداد بن اسود اُٹھے اور حضوؐر کی خدمت میں عرض کیا کہ حضوؐر ہم ایسا نہیں کہیں گے جیسا کہ موسیٰ کی قوم نے کہا تھا کہ جا تُو اور تیرا رب لڑیں (ہم تو یہاں بیٹھیں گے اور دشمن کے مقابلہ میں نہیں جائینگے) بلکہ حضوؐر ہم آپؐکے دائیں بھی لڑیں گے اور آپؐکے بائیں بھی ۔ آگے بھی اور پیچھے بھی (ہر حال میں آپ کا ساتھ دیں گے یہ سن کر) حضور اس قدر خوش ہوئے کہ آپ کا چہرہ مبارک خوشی کی وجہ سے تمتما اٹھا۔ (بخاری کتاب المغازی قصۃ غزوۃ بدر باب قول اللہ تعالیٰ اذ تستغیثوں ربکم)(بحوالہ حدیقۃ الصالحین حدیث 997، مصنفہ ملک سیف الرحمٰن صاحب)