تین اشخاص جن سے اللہ بروز قیامت جھگڑا کریگا
(2227)حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :تین شخص ہیں جن سے قیامت کے روز میں جھگڑا کروں گا۔ ایک وہ شخص جس نے میرا نام لے کر کسی سے عہد کیا اور پھر غداری کی ۔ دوسرا وہ شخص جس نے کسی آزاد کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔ تیسرا وہ شخص جس نے مزدور کومزدوری پر رکھا اور اس سے پورا کام لیا مگر اس کی مزدوری اسے نہ دی۔
کون ساپڑوسی زیادہ حقدار ہے
(2259)حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ انہوں نے کہا!یا رسول اللہ !میرے دو پڑوسی ہیں ان دونوں میں سے مَیں کس کو ہدیہ بھیجوں؟ آپؐنے فرمایا :ان دونوں میں سے جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہے۔
کام کی خواہش رکھنے والے یا عہدہ مانگنے والے
(2261)حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓسے روایت ہے کہ مَیں(یمن سے) نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور میرے ساتھ اشعر قبیلے کے دو شخص تھے (جو کسی خدمت کے طلبگار تھے، انہوںنے آنحضرت ؐسے اسکی درخواست کی)مَیں نے عرض کیا:مجھے علم نہیں تھا کہ یہ دونوں کام کی خواہش رکھتے ہیں۔ آپؐنے فرمایا:ہم ایسے لوگوں کو اپنے کام پر نہیں لگاتے جو اسکی خواہش رکھتے ہوں (راوی کہتا ہے کہ نبیﷺ نے کلام کرتے ہوئے) لَنْ نَسْتَعْمِلَ فرمایایا لَانَسْتَعْمِلُ فرمایا۔
( بخاری،جلد 4 ،،مطبوعہ 2008ءقادیان )
…٭…٭…٭…