اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2025-09-11

ماتحتوں سے حسن سلوک

حضرت امام ابوحنیفہؒ عطاء سے روایت بیان کرتے ہیں کہ عطا ء نے بہت سے صحابہؓ سے یہ واقعہ سُنا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی ایک لونڈی تھی جو ان کی بکریاں چرایا کرتی تھی ۔ عبد اللہ بن رواحہ نےا س کو ایک بکری کا خاص طور پر خیال رکھنے کی ہدایت کی۔ چنانچہ وہ بکری موٹی تازی ہوگئی ۔ ایک دن چرواہن بعض اور جانوروں کی دیکھ بھال میں  مصروف تھی کہ ایک بھیڑیے نے آکر اس بکری کو چیر پھاڑ دیا ۔ عبد اللہ بن رواحہ نے اس بکری کو نہ پایا تو اس کے متعلق پوچھا۔ چرواہن نے سارا واقعہ بتادیا جس پر انہوں نے چرواہن کو ایک تھپّڑ مارا ۔ بعد میں اپنے فعل پر شرمندہ ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر حضور ﷺ سے کیا ۔ حضوؐر نے اس بات کو بڑی اہمیت دی اور فرمایا کہ تم نے ایک مومنہ کے مونہہ پر تھپّڑ مارا؟ اس پر عبد اللہ بن رواحہ نے عرض کیا حضور وہ تو حبشن ہے اور جاہل سی عورت ہے اسے دین وغیرہ کا علم نہیں ۔ حضوؐر نے اس چرواہن کو بلابھیجا اور اس سے پوچھا ۔ اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا۔ آسمان پر ۔ پھر آپؐ نے دریافت کیا۔ مَیں کون ہوں؟ اس نے جواباً کہا اللہ کے رسول ۔ یہ سن کر حضوؐر نے فرمایا۔ یہ مؤمنہ ہے اسے آزاد کردو ۔ اس پر عبد اللہ بن رواحہ نے اسے آزاد کردیا ۔(مسند الامام الاعظم ۔ الایمان والاسلام)(حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 179 مصنفہ ملک سیف الرحمٰن صاحب) ٭٭٭