حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: جس نے اس غرض سے قسم کھائی کہ اسکے ذریعے کسی کا مال مارے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔
تشریح : حضرت سیّد زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت زیدؓبن ثابت کا واقعہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے مؤطا میں نقل کیا ہے کہ اُن کا عبداللہ بن مطیع ؒ سے کسی امر میں جھگڑا ہوا اور فیصلہ کے لئے مروان بن حکم امیر مدینہ کی طرف رجوع کیا گیا۔ انہوں نے چاہا کہ حضرت زیدؓبن ثابت منبر نبویؐپر جا کر قسم کھائیں تو انہوں نے کہا کہ میں اپنی جگہ پر ہی قسم کھاؤں گا۔ مروان نے کہا: لَا وَاللہِ اِلَّا عِنْدَ مَقَاطِعِ الْحُقُوْقِ۔ بارے خدایا! وہیں قسم ہوگی جہاں حقوق کا قطعی فیصلہ ہوسکتا ہے مگر حضرت زیدؓبن ثابت نے جہاں تھے ، وہیں حلفیہ بیان دیا کہ وہ اپنے حق کے مطالبہ میں راستی پر ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت زیدؓبن ثابت کے قول کو مروان بن حکم کے اجتہاد پر ترجیح دی ہے اور اس کی تائید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا حوالہ دیاہے جس میں جگہ کی تخصیص نہیں۔ جھوٹی قسم جہاں بھی کوئی کھائے گا عذاب الٰہی کا سزاوار ہوگا۔