حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین آدمی ہیں جنسے اللہ بات نہیں کریگا اور نہ انکی طرف دیکھے گا اور نہ انکو پاک کریگا اور انہیں دردناک عذاب ہوگا: ایک وہ شخص جسکے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو او روہ اس سے مسافروں کو محروم کرتا ہے اور وہ شخص جسنے کسی شخص کی بیعت کی اور صرف دنیا ہی کی خاطر بیعت کی۔ اگر اسنے اسکو جو وہ چاہتا ہے دیدیا تو اسکا وفادار رہا ورنہ اُسنے وفاداری نہ کی اور وہ شخص جسنے عصر کے بعد کسی شخص سے کسی سامان کا بھاؤ کیا او راللہ کی قسم کھائی کہ اس چیز کا اتنا معاوضہ ملتا تھا اور لینے والا اس چیز کو لے لے۔
تشریح: حضرت سیّد زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: عصر کا وقت جو مقرر کیا گیا ہے اسکا زیادہ تر تعلق نفسیات سے ہے۔ زوال کا وقت جھوٹ اور اسکے بدعواقب سے معنوی مناسبت رکھتا ہے۔ قادیان میں ایک چوری کے الزام میں لالہ رام چند صاحب تھانیدار نے ملزمین کو مہلت دی اور مجھ سے بحیثیت ناظر اُمورعامہ امداد طلب کی۔ میں نے مولوی نذیر احمد صاحب کارکن نظارت اُمورعامہ سے کہا کہ رات کے بارہ بجے میرے مکان پر مشتبہین کو لے آئیں اور ایک بڑی طاقت کا بلب بھی بہم پہنچایا جائے۔ رات تاریک تھی۔ دراصل ملزم جو شدومد سے الزام کا انکار کرتے تھے، رات کی تاریکی اور یکدم روشنی سے ایسے متاثر ہوئے کہ اپنے جرم کا اقرار کرلیا اور مسروقہ زیورات بھی پیش کردئیے، جس پر تھانیدار نے چالان مکمل کیا۔ غرض حلف کیلئے نماز عصر کے بعد کی تخصیص اسی حکمت پر مبنی ہے کہ وقت اور مقام کا تعلق نفسیات سے ہے۔ ٭٭٭