اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2025-08-07

آنحضرت ﷺنے کسی کی موجودگی میں اس کی تعریف ناپسند فرمائی ہے

حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی ﷺکےپاس کسی شخص نے ایک شخص کی تعریف کی، تو آپؐنے فرمایا: وائے تجھ پر،تُو نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔تُو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔ آپؐنے کئی بار یہ فرمایا۔ پھر فرمایا: تم میں سے جس نے اپنے بھائی کی ضرور تعریف ہی کرنی ہو تو چاہئے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں کو یوں سمجھتا ہوں اور اللہ ہی اس سے خوب واقف ہے۔ میں اللہ کے سامنے کسی کو بے عیب نہیں کہہ سکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسا ایسا ہے۔ وہ بیان کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ اسے ویسا ہی جانتا ہو۔
تشریح: حضرت سیّد زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں:
آنحضرت ﷺنے کسی کی موجودگی میں اس کی تعریف ناپسند فرمائی ہے۔ نہ صرف یہ کہ ایسی تعریف بے محل ہے بلکہ ممدوح کو خود پسندی میں مبتلا کرنے کا باعث ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازیں عندالضرورت تعریفی الفاظ میں احتیاط ہونی چاہئے۔ ارشاد فَلْیَقُلْ اَحْسِبُ فُلَانَا وَاللہُ حَسِیْبُہُ ……سے آنحضرت ﷺنے یہی سبق دیا ہے۔