حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو مسجد میں (قرآن مجید) پڑھتے سنا تو آپؐنے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے، اس نے تو مجھے فلاں فلاں آیت یاد دِلا دی ہے جنہیں میں فلاں فلاں سورۃ میں بھول گیا تھا۔ اور عباد بن عبداللہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے اتنا اور بڑھایا کہ نبی ﷺ میرے گھر میں تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں آپؐنے عَبَّادْ (بن بِشرؓ) کی آواز سنی جو مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے، تو آپؐنے پوچھا۔ عائشہؓ! کیا یہ عَبَّادْ کی آواز ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپؐنے فرمایا: اے اللہ! عَبَّادْ پر رحم کر۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو بلالؓرات کو اذان دیتے ہیں، تم کھاتے پیتے رہو، یہاں تک کہ ابن امّ مکتومؓاذان دے یا فرمایا: یہاں تک کہ تم ابن امّ مکتومؓکی اذان سنو۔ اور حضرت ابن امّ مکتومؓنابینا شخص تھے وہ اذان نہیں دیا کرتے تھے جب تک کہ لوگ ان کو نہ کہتے کہ صبح ہوگئی ہے۔