اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2025-06-05

جو رشتہ نسب کیوجہ سے حرام ہوتا ہے وہ رضاعت کیوجہ سے بھی حرام ہوتا ہے

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہتی تھیں: افلح نے مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ میں نے ان کو اجازت نہیںدی۔ انہوں نے کہا: کیا تم مجھ سے پردہ کرتی ہو بحالیکہ میں تمہارا چچا ہوں۔ میں نے کہا: یہ کیسے؟ تو انہوں نے کہا: میری بھاوج نے تم کو میرے بھائی کا دودھ پلایا ہے۔٭ کہتی تھیں: میں نے اس کی بابت رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپؐنے فرمایا: افلح نے سچ کہا ہے، اسے اندر آنے کی اجازت دو۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہؓ کی بیٹی سے متعلق فرمایا کہ وہ میرے لئے جائز نہیں۔ جو رشتہ نسب کی وجہ سے حرام ہوتا ہے وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوتا ہے۔ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔
٭ بھاوج نے بھائی کا دودھ پلایا ہے سے مراد تم نے میرے بھائی کی بیوی کا دودھ پیا ہے۔ لہٰذا افلح کے بھائی حضرت عائشہ کے رضاعی والد ہوئے اور افلح رضاعی چچا ہوئے۔