حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بعض لوگوں سے وحی کی بناء پر مؤاخذہ کیا جاتا تھا اور اب وحی تو منقطع ہوچکی ہے اور ہم تم سے صرف تمہارے انہی عملوں کی بناء پر مواخذہ کریں گے جو ہم پر ظاہر ہوں۔ سو جس نے ہمیںبھلے کام دکھائے ہم اس سے مطمئن ہوں گے اور اس کو ہم اپنے قریب کریں گے اور اس کے اَندرُونے کا ہم سے کچھ واسطہ نہیں۔ اللہ اس کے اَندرُونے کا (اس سے) حساب لے گا۔ اور جس نے ہمیں برے کام دِکھلائے ہم اس سے مطمئن نہیںہوں گے اور نہ اسے سچا سمجھیں گے، اگرچہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ اس کا اَندرُونہ اچھا ہے۔