اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2026-07-30

سیرتِ طیبہ ﷺ کے بارے میں منتخب احادیث

سیرتِ طیبہ ﷺ کے بارے میں منتخب احادیث

آپ ﷺ کا حلیہ مبارک اور عادات

چہرہ مبارک کی چمک اور بناوٹ

عَنْ اَبِی إِسْحَاقَ، قَالَ سُئِلَ البِرَاءُ بْنُ عَازِبٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُمَا اَكَانَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ السَّيْفِ؟ قَالَ لَا، بَلْ كَانَ مِثْلَ القَمَرِ۔

ترجمہ: ابو اسحاق سے روایت ہے کہ حضرت براء بن عازبؓ سے پوچھا گیا:کیا رسول اللہﷺ کا چہرہ مبارک (چمک اور درازی میں) تلوار کی طرح تھا؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ آپﷺ کا چہرہ مبارک چاند کی طرح (روشن، چمکدار اور گول) تھا۔

(صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب صفۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر: 3552)

گفتگو اور کلام کا انداز

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهَا، قَالَتْ كَانَ كَلَامُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَامًا فَصْلًا يَفْهَمُهُ كُلُّ مَنْ سَمِعَهُ۔

ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی گفتگو بالکل صاف، واضح اور الگ الگ کلمات پر مشتمل ہوتی تھی، جسے ہر وہ شخص آسانی سے سمجھ لیتا تھا جو اسے سنتا تھا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب في التؤدۃ في الکلام، حدیث نمبر: 4839)

چلنے کا پروقار انداز

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضَِیَ اللّٰہُ عَنْهُ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ تَكَفُّؤًا كَأَ نَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ۔

ترجمہ:حضرت علی بن ابی طالبؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب چلتے تھے تو مستعدی اور قوت کے ساتھ قدم بڑھاتے تھے، گویا آپ ﷺ کسی بلندی سے نیچے کی طرف اتر رہے ہوں۔

(جامع ترمذی، کتاب المناقب، باب في صفۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر: 3636)

روزمرہ کی زندگی اور سادگی

گھر کے کام کاج اور اہل خانہ کی مدد

عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهَا مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ۔

ترجمہ: اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا: نبی کریم ﷺ گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا:آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے کام کاج (خدمت) میں لگے رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو فوراً نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔

(صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب من کان في حاجۃ اہلہ، حدیث نمبر: 676)

طعام میں قناعت اور سادگی

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا حَتّٰى مَضَى لِسَبِيلِهِ۔

ترجمہ:حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: آلِ محمد ﷺ نے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد سے آپ ﷺ کی وفات تک کبھی بھی مسلسل تین دن تک گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔ ( صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقائق، حدیث نمبر: 2970)

آرام گاہ اور بستر مبارک

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهُ لِيفٌ۔

ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا جس کے اندر کھجور کے درخت کی چھال (روئی کی جگہ) بھری ہوئی تھی۔

(صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، حدیث نمبر: 6456)

عبادت اور خوفِ خدا

کثرتِ عبادت اور شکر گزاری

عَنْ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ المُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ غَفَرَ اللّٰہ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا۔

ترجمہ: حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ رات کو (عبادت میں) اس حد تک طویل قیام فرماتے کہ آپ ﷺ کے دونوں پاؤں مبارک سوج جاتے۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: اللہ نے تو آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں (پھر اتنی مشقت کیوں؟) آپ ﷺ نے فرمایا: تو کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

(صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب لِیَغْفِرَ لَکَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ، حدیث نمبر 4837 )

کثرت سے استغفار کرنا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰہ عَنْهُ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَاللّٰہِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي اليَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً۔

ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ کی قسم! میں ایک دن میں ستر (70) مرتبہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے استغفار (معافی کا طلبگار) ہوتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔

(صحیح بخاری، کتاب الدعوات، باب استغفار النبي في الیوم واللیلۃ، حدیث نمبر:6307)

شرم و حیا اور پاکیزگی

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ العَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، فَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ۔

ترجمہ:حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرمیلے (حیا دار) تھے، اور جب آپ ﷺ کوئی ایسی بات دیکھتے جو آپ کو ناپسند ہوتی، تو ہم (آپ ﷺ کی زبان مبارک سے سننے سے پہلے ہی) اس کا اثر آپ ﷺ کے چہرہ مبارک سے پہچان لیتے تھے۔

(صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب صفۃ النبي، حدیث نمبر: ۳۵۶۲ (صحیح مسلم: ۲۳۲۰)

سخاوت اور فیاضی

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُمَا، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ فَلَرَسُولُ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ المُرْسَلَةِ۔

ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ سخی تھے، اوررمضان المبارک کے مہینے میںجب حضرت جبرائیلؑ آپؐ سے ملاقات کرتے تو آپ ﷺ کی سخاوت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی تھی... یقیناً رسول اللہ ﷺ بھلائی کے کاموں میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے۔

( صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی، حدیث نمبر: ۶)

***