حضرت صہیبؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اس کا معاملہ سراسر خیر ہے اور یہ مومن کے علاوہ کسی کے لیے نہیں۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے۔ یہ (بھی) اس کے لیے خیر ہے۔
(مسلم کتاب الزھد و الرقائق باب المؤمن اَمرہ کلہ خیر)
حضرت ابو ہریرہؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: اُسی کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے باپ اور اس کے بیٹے سے زیادہ اسے پیارا نہ ہوں۔
(بخاری كِتَاب الْاِيمَانِ بَابُ مِنَ الإِيمَانِ اَنْ يُحِبَّ لِاَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِہٖ)
حضرت عبد اللہ بن عباسؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم جنت کے باغوں میں سے گزرو تو خوب چرو۔ صحابہؓ نے عرض کیا:یارسول اللہ ﷺ! ریاض الجنہ سے کیا مراد ہے ؟ آپؐنے فرمایا: مجالس علمی۔
(الترغيب والترهيب للمنذرى ، كتاب العلم باب الترغيب فى مجالسة العلماء 161)