{2612} حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطابؓ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی دھاریدار جوڑا (بکتے) دیکھا تو انہوں نے کہا: یارسول اللہ! اگر آپؐاسے خریدلیں اور جمعہ کے دن اور نمائندوں سے ملنے کے وقت پہنا کریں تو مناسب ہوگا۔ آپؐنے فرمایا: اسے تو وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اس کے بعد چند ریشمی جوڑے آئے تو رسول اللہ ﷺ نے اُن میں سے ایک جوڑا حضرت عمرؓ کو بھی دیا اور حضرت عمرؓ نے کہا: کیا آپؐنے یہ مجھے پہننے کو دیا ہے حالانکہ عطارد کے جوڑے سے متعلق آپؐفرما چکے ہیں جو فرما چکے ہیں۔ تو آپؐنے فرمایا: میں نے تمہیں یہ اس لئے نہیں دیا کہ تم اسے پہنو۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اپنے ایک بھائی کو وہ پہننے کے لئے دے دیا جو مکہ میں مشرک تھا۔
{2614} حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے مجھے ایک دھاریدار ریشمی جوڑا دیا۔ میں نے وہ پہن لیا۔ پھر میں نے آپؐکے چہرے میں ناراضگی دیکھی۔ میں نے اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں میں تقسیم کردیا۔
(صحیح البخاری ، جلد 4، کتاب الہبہ)