اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2024-08-22

اسلامی زندگی کے رہنما اصول: ذکرِ الٰہی، حُسنِ اخلاق اور تقویٰ

کسی کو کیا معلوم ہے کہ ظہر کے بعد عصر کے وقت تک زندہ رہیں۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ یکدفعہ ہی دوران خون بندہو کر جان نکل جاتی ہے۔ بعض دفعہ چنگے بھلے آدمی مر جاتے ہیں۔ وزیر محمد حسن خاں صاحب ہوا خوری کر کے آئے تھے اور خوشی خوشی زینہ پر چڑھنے لگے۔ ایک دو زینہ چڑھے ہوں گے کہ چکر آیا، بیٹھ گئے۔ نوکر نے کہا کہ میں سہارا دوں؟ کہا نہیں۔ پھر دو تین زینہ چڑھے پھر چکر آیا اور اسی چکر کے ساتھ جان نکل گئی۔ ایسا ہی غلام محی الدین کوتلی کشمیر کا ممبر یکدفعہ ہی مر گیا۔ غرض موت کے آجانے کا ہم کو کوئی وقت معلوم نہیں کہ کس وقت آجاوے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اس سے بے فکر نہ ہوں۔ پس دین کی غم خواری ایک بڑی چیز ہے جو سکرات الموت میں سر خرو رکھتی ہے۔ قرآن شریف میں آیا ہے اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ(الـحج:۲) ساعت سے مراد قیامت بھی ہو گی ہم کو اس سے انکار نہیں،مگر اس میں سکرات الموت ہی مراد ہے کیونکہ انقطاع تام کا وقت ہوتا ہے۔ انسان اپنے محبوبات اور مرغوبات سے یکدفعہ الگ ہوتا ہے اور ایک عجب قسم کا زلزلہ اس پر طاری ہوتا ہے۔ گویا اندر ہی اندر وہ ایک شکنجہ میں ہوتا ہےاس لئے انسان کی تمام تر سعادت یہی ہے کہ وہ موت کا خیال رکھے اور دنیا اور اس کی چیزیںاس کی ایسی محبوبات نہ ہوں جو اس آخری ساعت میں علیحدگی کے وقت اس کی تکالیف کا موجب ہوں۔
قرآن کریم نے اس مضمون کو اس آیت میں ادا کر دیا ہےاِنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ (الانفال:۲۹) اَمْوَالُكُمْ میں عورتیں داخل ہیں۔ عورت چونکہ پردہ میں رہتی ہے،اس لئے اس کا نام بھی پردہ ہی میں رکھا ہے اور اس لئے بھی کہ عورتوں کو انسان مال خرچ کر کے لاتا ہے۔ مال کا لفظ مائل سے لیا گیا ہے۔ یعنی جس کی طرف طبعاً توجہ اور رغبت کرتا ہے۔ عورت کی طرف بھی چونکہ طبعاً توجہ کرتا ہے،اس لئے اس کو مال میں داخل فرمایا ہے.....غرض مال سے مراد کُلَّ مَا یَـمِیْلُ اِلَیْہِ الْقَلْبُ ہے۔ اولاد کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ انسان اولاد کو جگر کا ٹکڑہ اور اپنا وارث سمجھتا ہے۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ29، ایڈیشن 2018، قادیان)