اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2026-07-16

وہ شخص جھوٹانہیں ہو سکتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے۔

عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُمْ اصْطَلَحُوا عَلَى وَضْعِ الْحَرْبِ عَشْرَ سِنِينَ ، يَأْمَنُ فِيهِنَّ النَّاسُ وَعَلَى أَنَّ بَيْنَنَا عَيْبَةً مَكْفُوفَةً ، وَأَنَّهُ لَا إِسْلَالَ وَلَا إِغْلَالَ۔
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم سے روایت ہے کہ انہوں نے (صلح حدیبیہ کے موقعہ پر)اس بات پر صلح کی کہ دس برس تک لڑائی بند رہے گی، اس مدت میں لوگ امن و امان سے رہیں گے، طرفین کے دل ایک دوسرے کے بارے میں صاف رہیں گے اور نہ تلوار سونتی جائے گی اور نہ زرہ پہنی جائے گی۔ (سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2766 )
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَنْمِي خَيْرًا أَوْ يَقُولُ خَيْرًا۔ (مسلم، كتاب البر والصلة والآداب،حدیث: 2605)
ابن شہاب سے روایت ہے کہ حمید بن عبد الرحمٰن بن عوف ؓنے مجھے بتایا کہ اس کی ماں حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ شخص جھوٹانہیں ہو سکتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے اور نیک باتیں کہتا ہے اور نیک با تیں پہنچاتا ہے۔