اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2024-07-18

معجزۂ رسولؐ اور ادائے قرض

(2601) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ ان کے باپ حضرت عبداللہؓ جنگ اُحد میں شہید ہوگئے تو ان کے قرض خواہوں نے اپنے قرضوں کا سختی سے مطالبہ شروع کردیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ساری بات آپؐسے عرض کی۔ آپؐنے قرض خواہوں سے کہا کہ وہ میرے باغ کا میوہ قبول کرلیں اور میرے باپ کو قرضہ سے آزاد کردیں۔ انہوں نے یہ ماننے سے انکار کردیا۔ اِس پر رسول اللہ ﷺ نے اُن کو میرا باغ نہ دیااور نہ ان کے لئے میوہ تڑوایا بلکہ فرمایا: میں کل صبح انشاء اللہ تمہارے پاس آئوں گا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو آپؐہمارے پاس آئے اور کھجور کے درختوں میں اِدھر اُدھر پھرے اور ان کے لئے پھلوں میں برکت کی دعا مانگی۔ پھر میں نے ان خوشوں کو کاٹا اور ان قرض خواہوں کو ان کے حقوق اداکردئیے اور ان کھجوروں کے پھلوں سے تھوڑی سی کھجوریں ہمارے لئے بھی بچ رہیں۔ پھر میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا۔ آپؐبیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے آپؐسے واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا: عمرؓ سنو! اور وہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یہ کیوں نہ ہوتا ۔ بخدا ہمیں تو علم ہے کہ آپؐیقیناً اللہ کے رسول ہیں۔ (بخاری کتاب الہبہ)
…٭…٭…