(2600)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں ہلاک ہوگیا۔ آپؐنے پوچھا: کیوں؟ اُس نے کہا : میں رمضان میں اپنی بیوی سے مباشرت کربیٹھا۔ آپؐنے فرمایا: ایک گردن آزاد کرنے کی طاقت رکھتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؐنے فرمایا:کیا دوماہ لگاتار روزے رکھنے کی طاقت ہے ؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؐنے فرمایا: آیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے کہ اتنے میں ایک انصاری شخص کھجور کا ایک ٹوکرا لایا اور عرق یعنی یہ ٹوکرا پندرہ صاع کا ہوتا ہے۔ اس میں کھجوریں تھیں۔ آپؐنے فرمایا: اسے لے جائو اور اسے صدقہ میں دے دو۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! جو ہم سے زیادہ محتاج ہو اُس کو دوں؟ اُسی ذات کی قسم جس نے آپؐکو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے، مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیان کوئی گھر والے ہم سے بڑھ کر محتاج نہیں۔ آپؐنے فرمایا: جائو اپنے گھر والوں کو ہی کھلائو۔ (بخاری کتاب الہبہ)