اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2024-07-04

سلسلہ کے اموال کی حفاظت کی اہمیت اورناجائز تصرف پر نبی کریمﷺ کا انذار

(2597) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اَزد میں سے ایک شخص کو جسے ابن اُتبیہ کہتے تھے، زکوٰۃ وصول کرنے پر( کارکن) مقرر فرمایا۔ جب وہ آیا تو اس نے کہا: یہ تو آپ کا ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا تھا۔ آپؐنے فرمایا: تو پھر وہ اپنے باپ کے گھر یا اپنی ماں کے گھر ہی کیوں نہ بیٹھا رہا اور پھر دیکھتا اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو کوئی بھی تم میں سے (اس زکوٰۃ کے مال سے) کچھ لے گا تو وہ ضرور ہی قیامت کے دن اپنی گردن پر اس (مال) کو اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اگر اُونٹ ہوگا تو وہ بڑبڑا رہا ہوگا، یا گائے ہوگی تو وہ بائیں بائیں کررہی ہوگی، یا بکری ہوگی تو وہ مَیں مَیں کررہی ہوگی۔ پھر آپؐنے اپنے ہاتھ اُٹھائے، یہاں تک کہ ہم نے آپؐکی بغلوں کی سپیدی دیکھ لی۔ (آپؐنے فرمایا:) اَے میرے اللہ ! کیا میں نے تیرے حکم کو پہنچا دیا ہے۔اَے میرے اللہ! کیا میں نے تیرے حکم کو پہنچا دیا ہے۔ یہ فقرہ تین دفعہ فرمایا۔ (بخاری کتاب الہبہ)
…٭…٭…٭…