(2585) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہدیہ قبول فرمایا کرتے تھے اور خود بھی ہدیہ بھیجا کرتے تھے۔
(2586) نعمان بن بشیر سے روایت کی کہ ان کے باپ رسول اللہﷺ کے پاس ان کو لائے اور کہا: میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام دیا ہے۔آپؐنے فرمایا: کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح دیا ہے جیسے اس کو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا: اس کو واپس لے لو۔
(2587) حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے باپ نے ایک عطیہ مجھے دیا تو عمرہ بنت رواحہؓنے کہا: میں اُسوقت تک راضی نہیں ہونگی جب تک تم رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ ٹھہراؤ۔ اس پر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: میں نے اپنے اس بیٹے کو جو عمرہ بنت رواحہؓ سے ہے، ایک عطیہ دیا ہے اور اس نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپؐکو یا رسول اللہ گواہ ٹھہراؤں۔ آپؐنے فرمایا: کیا تم نے اپنے باقی تمام بیٹوں کو اسی طرح دیاہے۔ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپؐنے فرمایا: اللہ کی ناراضگی سے بچو او راپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔ اس پر وہ لَوٹ آئے اور انہوں نے اپنا عطیہ واپس لے لیا۔ (بخاری کتاب الہبہ)