(2581)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج دو ٹولیوں کی صورت میں تھیں۔ ایک میں عائشہؓ، حفصہؓ، صفیہؓ اور سودہؓ شامل تھیں اور دوسری میں امّ سلمہؓ اور باقی ازواج۔ اور مسلمانوں کو یہ علم ہوچکا تھا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہؓ کو زیادہ محبوب رکھتے ہیں، تو جب ان میں سے کسی کے پاس کوئی ایسا ہدیہ ہوتا جسے وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا تو وہ اسے پیش کرنے میں اُس وقت کا انتظار کرتا جبکہ رسول اللہ ﷺ عائشہؓ کے گھر میں ہوتے۔
حضرت سیّد زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : امام ابن حجرؒ نے آنحضرت ﷺ کے خلق کریم سے متعلق ایک لطیف تبصرہ کیا ہے کہ اَخلاقِ فاضلہ، ہدایا وغیرہ بھجوانے کے متعلق کسی کو ہدایات دینے میں مانع ہیں۔ اگر حضورؐ صحابہ سے یہ فرماتے کہ ایک بیوی کی باری سے تخصیص نہ کی جائے جس بیوی کے ہاں حضورؐ تشریف فرماہوں وہاں ہدیہ بھیج دیا جائے تو اس میں بھی آنحضرت ﷺ کوہدیہ بھیجے جانے کا اشارہ ہوتا، اس لئے حضور نے اسے بھی گوارا نہ فرمایا اور خاموشی اختیار کی۔ ہدیہ دینے یا نہ دینے میں ہر شخص آزاد ہے، جسے چاہے دے یا نہ دے۔ ایسی باتوں میں مداخلت یا فرمائش نزاہت نفس اور خلق عظیم کے منافی ہے۔ عورتوں کو عدل کے بارے میں بھی غلط فہمی تھی۔ عدل کا تعلق خاوند کی ذات سے ہے نہ دوسرے لوگوں کی مرضی سے۔
(بخاری کتاب الہبہ باب من اَھدیٰ الی صاحبہ)