اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2024-05-02

داہنی طرف والا مقدم ہوتا ہے

٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر میں آئے اورآپؐنے پانی مانگا۔ ہم نے آپؐکیلئے اپنی ایک بکری دوہی پھر مَیں نے اس (دودھ) میں اپنے کنوئیں کا پانی ملایا اور آپؐکو دیا اور حضرت ابوبکرؓ آپؐکے بائیں طرف تھےاور حضرت عمرؓ آپؐکے سامنے اور ایک بدوی آپؐکے داہنی طرف۔ جب آپؐپی چکے تو حضرت عمرؓ نے کہا: یہ ابوبکرؓ ہیں۔ آپؐنے اپنا بچا ہوا بدوی کو دیا او راسکے بعد فرمایا: جو داہنی طرف ہے وہی مقدم ہوگا۔ تم لوگ داہنی طرف سے ہی شروع کیا کرو۔ حضرت انسؓکہتے تھے: آپؐکی سنت یہی ہے
(بخاری جلد4کتاب الہبۃباب من استسقَی)
ضبّ کی حلّت مگر آنحضرتؐکا کھانے سے احتراز
٭ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓکی خالہ حضرت امّ حُفَیدؓ نے نبی ﷺ کو پنیر اور گھی اور گوہ (چھپکلی کے مشابہ مگر بڑا ایک جانور)بطور ہدیہ بھیجی۔ نبیﷺ نے پنیر اور گھی سے کچھ تناول فرمایا اور گوہ بوجہ کراہت چھوڑ دی۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے مگر وہ رسول اللہ ﷺ کے دسترخوان پر کھائی گئی اور اگر حرام ہوتی تو رسول اللہ ﷺکے دسترخوان پر نہ کھائی جاتی۔
(بخاری جلد 4 کتاب الہبۃباب قبول الہدیّہ)