اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




ارشاد نبویﷺ

2024-04-25

ہدیہ کا ردّ کرنا بہت ہی مکروہ بات ہے

(2568)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر مجھے بکری کی ایک دستی یا پایہ کھانے کی دعوت دی جائے تو مَیں (اس دعوت کو)ضرور قبول کروں اور اگر بکری کی دستی یا پایہ مجھے بطور ہدیہ بھیجا جائے تو مَیں اس کو ضرور لے لوں ۔
(تشریح)حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں: آنحضرت ﷺ کی مراد یہ ہے کہ معمولی سی دعوت طعام یا ادنیٰ ساہدیہ بھی مَیں ردّ نہ کروں گا۔ طبرانی نے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ام حکیم الخزاعیہ ؓنے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ کیا آپؐہدیہ ناپسند فرماتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا مَا اَقْبَحَہُ لَوْ اُھْدِیَ اِلَیَّ کُرَاعٌ لَقَبِلْتُ ہدیہ کا ردّ کرنا بہت ہی مکروہ بات ہے ۔ اگر مجھے پائے یا کھرکی دعوت دی جائے تو مَیں وہ بھی قبول کرلوں ۔ قرآن مجید نے ردّی شئے بطور ہدیہ قبول کرنا عمدہ اخلاق میں سے شمار فرمایا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ام حکیم خزاعیہؓ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں کوئی ہدیہ پیش کرنا چاہتی تھیں اور وہ گھبراتی تھیں کہ نہ معلوم ان کا ہدیہ حضور ؐکی شان کے شایان ہے یا نہیں ۔ آنحضرت ﷺ کے جوابات سے راستہ کھل گیا کہ تحفہ دینے والا اور تحفہ لینےو الا یہ خیال نہ کرے کہ حقیر شئے ہے جس کا لینا دینا خلاف شان ہے۔ آپؐکے مذکورہ بالا ارشاد میں احساس مہتری اور احساس کہتری دونوں کا علاج ہے جو ایک ایسی لعنت ہے جس سے معاشرہ میں طبقاتی تفاوت پیدا ہو جاتا ہے۔ ایک طبقہ اونچا کہلاتا ہے اور دوسرا نیچا۔ اس تقسیم سے اجتماعی شیرازہ بکھر جاتا ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے مذکورہ بالا ارشاد سے تفاوت دور کردینا چاہاہے۔ تَھَادُّوْا وَتَحَابُّوْا۔
( بخاری ، کتاب الھبۃ، جلد4،مطبوعہ قادیان 2008ء)