حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ذکرِ الٰہی کرنے والے اور ذکر الٰہی نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مُردہ کی طرح ہے یعنی جو ذکرِ الٰہی کرتا ہے وہ زندہ ہے اور جو نہیں کرتا وہ مُردہ ہے ۔
مسلم کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ وہ گھر جن میں خدا تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے اور وہ گھر جن میں خدا تعالیٰ کا ذکر نہیں ہوتا، ان کی مثال زندہ اور مُردہ کی طرح ہے ۔
(بخاری کتاب الدعوات باب فضل ذکر اللہ تعالیٰ ۔ مسلم کتاب الصلٰوۃ باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بَیتہٖ وجوازھا فی المسجد)
حضرت جابرؓ بیان کرتےہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا ’’ اے لوگو! جنّت کے باغوں میں چرنے کی کوشش کرو ‘‘ ہم نے عرض کیا ۔یا رسول اللہ! جنّت کے باغ سے کیا مراد ہے ؟ آپؐنے فرمایا ’’ ذکر کی مجالس جنّت کے باغ ہیں۔ ‘‘ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ صبح اورشام کے وقت خصوصًا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو ۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اُسے اس قدر و منزلت کا علم ہو جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی ہے تو وہ یہ دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا کیا تصوّر ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی ایسی ہی قدر کرتا ہے جیسی اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ہے ۔ (قشیریہ باب الذکر صفحہ۱۱۱)
(بحوالہ حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 76-75)