10؍اپریل 2024ءبروز بدھ مسجد مبارک اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں سیّدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نمازِ عید پڑھائی اورخطبہ عید الفطر ارشاد فرمایا۔ برطانیہ بھر کے مختلف شہروں نیز بعض دیگر ممالک سے بھی احمدی احباب اپنے پیارے امام کی اقتدا میں نمازِ عید ادا کرنے کیلئے حاضر ہوئے۔ 3300 سے زائد احباب و خواتین نےسیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اقتدا میں نماز عید ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔ لندن وقت کے مطابق 11بجے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے نمازعید پڑھائی اور بعدہ خطبہ عید ارشاد فرمایا۔
تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج ہم عید منا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ موقع عطا فرمایا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ایک اور عید دیکھیں۔ عید کی حقیقی خوشی تو ہمیں اس وقت پہنچ سکتی ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں پر چلتے ہوئے اسکے انعاموں سے فیض پانے والے ہوں۔ رمضان کے دوران سینکڑوں لوگوں نے مجھے یہ بات لکھی کہ ہمیں رمضان میں وہ عمل کرنے کی توفیق ملے جن سے خدا راضی ہو جائے۔ اس کیلئے ہر احمدی نے اپنی اپنی بساط کے مطابق کوشش بھی کی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی کوششوں کو قبول فرمائے آمین۔ اللہ تعالیٰ ہم پر اتنا مہربان ہے کہ ہمیں اپنی رضا حاصل کرنے کیلئے مختلف مواقع فراہم کرتا رہتا ہے۔ رمضان کا مہینہ ان میں سے ایک ہے۔ اس میں رحمت کا عشرہ بھی ہے، پھر مغفرت کا عشرہ ہے اور پھر آگ سے نجات کا عشرہ بھی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ تو اس طرح انعام دینے والا ہے۔ اگر ہم رمضان سے فیض نہ اٹھائیں تو یہ ہماری کمزوری ہے۔ پس آج ہمیں اس بات کا عہد کرنا چاہئے کہ جو حالات اللہ تعالیٰ نے ہماری بہتری کیلئے ایک خاص ماحول مہیا فرما کر میسر فرمائے تھے اور ہر ایک نے ان سے فیض اٹھانے کی کوشش کی تھی، جس میں حقوق اللہ بھی تھے، حقوق العباد کی ادائیگی بھی تھی اور اپنے نفس کی اصلاح بھی تھی، اسے ہم نے اب جاری رکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف رمضان المبارک میں دس دن کیلئے رحمت کے دروازے نہیں کھولے تھے بلکہ اس نے اس رحمت کو پھر مغفرت پانے کا ذریعہ بنا دیا تھا۔ رحمت کیا چیز ہے؟ اس کا مطلب ہے انتہائی رحم اور انتہائی ہمدردی کا جذبہ۔ انتہائی نرمی کا سلوک۔ غلطیوں کو معاف کرنا اور ان سے صرفِ نظر کرنا۔ یہ ہے رحمت۔پس ایسی رحمت کو پانے کی خواہش ہر انسان کی ہوگی اور جب یہ خواہش ہے تو پھر اپنی زندگیوں کو بھی ہمیں ایسے ڈھالنے کی ضرورت ہے کہ ہم مغفرت کے دروازے میں داخل ہوجائیں۔ یہ سب تب ہی ہوسکتا ہے جب ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی کوشش کریں۔ جب یہ کوشش ہوگی تب ہی انسان آگ سے بچ سکتا ہے۔ شیطان تو ہمیں دنیا و آخرت کی آگ میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ اس سے بچنے کیلئے ہمیں اپنے اعمال ایسے بجا لانے ہوں گے جن سے خدا راضی ہو۔ نیکیوں کے ذریعے اپنے اعمال کو سجانے کی کوشش کرنی ہوگی۔ آج کل جو دنیا کے حالات ہیں اس پر تو ہمیں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے اس سے قرب کا تعلق استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ آج کل ہر طرح کی آگ نے دنیا کو گھیرا ہوا ہے۔ ایسے میں خدائے ذوالعجائب سے پیار کی بہت ضرورت ہے۔ عید پر صرف عید کی خوشیوں میں مصروف نہ ہو جائیں بلکہ آج بھی ذکرِ الٰہی اور استغفار کی طرف بہت توجہ کریں۔ آج ہم یہاں عید منا رہے ہیں مگر ایسے لوگ بھی ہیں جن پر شیطانوں نے زمین تنگ کی ہوئی ہے۔ جن کو رہنے کو چھت تو کیا کھانے کو روٹی بھی میسر نہیں۔ پس ایسے میں نہ صرف خود اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بنیں بلکہ ان محروموں کو بھی دعا میں یاد رکھیں۔ آج کی نیکیوں میں یہ بھی سرِ فہرست نیکی ہے کہ ایسے فلاحی اداروں کی مدد کی جائے جو ان جنگ زدہ لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ ایسے محروموں کی مدد کرکے جو ان کے چہروں پر خوشی دیکھ کر تسکین ہوتی ہے وہی عید کی حقیقی خوشی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر رحم کرتا اور شفقت اور پیار کی نگاہ سے دیکھتا ہے تم بھی اسکی مخلوق کے ساتھ سچی محبت اور حقیقی شفقت کرو۔ہمیں ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ہر حرکت و سکون کو دیکھ رہا ہے۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد ادا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دور جارہے ہوں گے اور اگر یہ کریں گے تو ہماری مغفرت کے سامان بھی ہورہے ہوں گے اور ہم شیطان کے چنگل سے نکل کر اپنے آپ کو آگ سے بھی محفوظ کر رہے ہوں گے اور یہی وہ حقیقی عید ہے جو ایک مومن چاہتا ہے۔تقویٰ کا ایک اہم جزو حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔ پس ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ حقیقی عید کھانے پینے اور خوشیاں منانے کا نام نہیں ہے بلکہ تقویٰ پر چلتے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا نام ہے۔ یہ مقام جس کو حاصل ہوجائے اور جو اس مقام کے حصول کیلئے کوشش کرے وہی حقیقی عید سے فیض پاسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ’’اور جو بھی ایمان لایا اور نیک عمل کیے تو اس کیلئے جزا کے طور پر بھلائی ہی بھلائی ہے اور ہم ضرور اس کیلئے آسانی کا فیصلہ کریں گے۔‘‘ جس کیلئے اللہ تعالیٰ آسانی کا فیصلہ کردے تو اسے اور کیا چاہئے لیکن ایمان میں مضبوطی اور نیک اعمال اللہ تعالیٰ نے شرط رکھی ہے۔ پس آج ہمیں یہ مقام حاصل کرنے کا عہد اور دعا کرنی چاہئے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حقیقی نیکی کے حصول کیلئے یہ ضروری ہے کہ خدا کے وجود پر ایمان ہو کیونکہ مجازی حکام کو یہ معلوم نہیں کہ کوئی گھر کے اندر کیا کرتا ہے اور پسِ پردہ کسی کا کیا فعل ہے۔ پس درستی اخلاق کے واسطے ایسی ہستی پر ایمان کا ہونا ضروری ہے جو ہر حال اور ہر وقت میں اس کی نگران اور اسکے اعمال اور افعال اور اسکے سینے کے بھیدوں کا شاہد ہو۔ پس یہ بات ہر مومن کے دل میں ہمیشہ ہونی چاہئے کہ خدا میری ہر حرکت و سکون کو دیکھ رہا ہے۔ جب یہ کیفیت ہو تو انسان خدا کی پناہ میں آتا ہے مگر یاد رہے کہ اس کے حصول کیلئے مستقل استغفار کی ضرورت ہے۔ یہی وہ بات ہے جو اس فیض کو پھر کبھی ختم نہیں ہونے دیگی جو مستقل عید کا سامان کرتی ہے۔
خطبہ کے آخر پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا آپ سب کو عید مبارک ہو۔ دنیا میں بسنے والے تمام احمدیوں کو عید مبارک ہو۔ دعا میں پاکستان کے احمدیوں کو یاد رکھیں۔ اسیران راہ مولیٰ کو یاد رکھیں۔ پاکستان کے احمدی مسلسل ابتلا و امتحان سے گزر رہے ہیں۔ اسکے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے ایمان کو بچائے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ جلد ان کیلئے آسانیاں پیدا فرمائے آمین۔ اسیران کی جلد رہائی کیلئے بھی دعا کریں۔ یمن کے اسیران کی رہائی کیلئے بھی دعا کریں۔ کافی مشکل میں ہیں وہ لوگ۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں احمدیت کی وجہ سے، یا کسی بھی وجہ سے مشکلات میں گھرے احمدیوں کیلئے بھی دعا کریں اور ہر مظلوم اور معصوم کیلئے دعا کریں۔ شہدائے احمدیت کے خاندانوں کیلئے دعا کریں۔ بورکینا فاسو کے شہداء اور ان کے لواحقین کو بھی خاص طور پر یاد رکھیں۔ آج کل پھر دشمن کی بورکینا فاسو کے احمدیوں پر نظر ہے۔ خاص طور پر ڈوری کے علاقے میں جہاں ہمارے آٹھ شہید ہوئے تھے، وہاں دوبارہ مشکوک لوگ دیکھے گئے ہیں۔ رمضان میں مالی قربانی کرنے والوں کیلئے بھی دعا کریں۔ امت مسلمہ کیلئے دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کے افتراق کو دور فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقیقی عید کی خوشیاں عطا کرے۔ دنیا کے ظالم حکمرانوں کا جلد خاتمہ کرے اور انصاف پسند راہ نما دنیا کوملیں۔ آمین۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 13؍ اپریل 2024ء)