خلاصہ خطبہ عید الفطرحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ مورخہ22؍ اپریل 2023ءبمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)یو.کے
تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی۔وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۰ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨا(النساء:37)
پھر فرمایا:اللہ تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اَور رمضان سے گزرنے کی توفیق دی۔ بہت سے ایسے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے بہتر رنگ میں عبادت کی بھی توفیق دی ہو گی۔ بہت سے ایسے ہوں گے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے افضال کے نظارے دیکھے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ آج کے دن جب ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عید منا رہے ہیں تو سال کے باقی دنوں میں بھی اپنی اس حالت کو جاری رکھنے کا عہد کریں اور اپنی عبادتوں کے معیاروں کو بھی اس طرح قائم کرنے کی کوشش کریں جس طرح اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے ۔ اسکے ساتھ ہی ہمیں حقوق العباد کے ان معیاروں کو بھی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جسکے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں توجہ دلائی ہے۔ اگر ہم اس طرح اپنی زندگی گزارنے والے بن جائیں گے تو وہی ہماری حقیقی عید ہو گی۔
حضور انور نے فرمایا:آج حقوق العباد کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بعض باتیں کروں گا۔
حقوق العباد ادا کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے جو ہدایات ایک جگہ فرمائی ہیں ان کے آخر میں فرمایا کہ اگر یہ حق ادا نہیں کر رہے تو تم متکبر اور شیخی بگھارنے والے ہو جنہیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ جو آیت مَیں نے تلاوت کی ہے اسکا ترجمہ یہ ہے کہ اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اسکا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور قریبی رشتہ داروں سے بھی اور یتیموں سے بھی اور مسکین لوگوں سے بھی اور رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور غیر رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور اپنے ہم جلیسوں سے بھی اور مسافروں سے بھی اور ان سے بھی جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔ یقیناً اللہ اس کو پسند نہیں کرتا جو متکبر اور شیخی بگھارنے والا ہے۔
پس جو آپس کے حقوق ہیں، خاندان کے حقوق ہیں، رشتوں کے حقوق ہیں، معاشرے کے حقوق ہیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ تفصیل فرما دی ہے۔ ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شرک سے بچنے اور عبادت کا حق ادا کرنے کے بعد جو سب سے اوّل حق تم نے ادا کرنا ہے وہ والدین کا ہے۔اور پھر درجہ بدرجہ باقی تعلقات کے حق ہیں۔ والدین سے احسان کے سلوک سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ ان کی خدمت ان پر احسان ہے۔ احسان کا ایک مطلب بہترین طریق سے حق ادا کرنا بھی ہے اور اس بہترین طریق پر حق ادا کرنے کا دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ان کی ایسی باتیں سن کر جو تمہیں پسند نہ آئیں پھر بھی تم نے انہیں اُف نہیں کہنا۔ فرمایا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَآ اُفٍٍّّ یعنی کبھی بھی انہیں اُف نہیں کہنا۔ پس جب یہ کہا کہ تم والدین سے احسان کا سلوک کرو تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ تم کسی طرح بھی ان پر احسان کرنے والے ہو بلکہ ان کے تم پر احسان ہیں جنہوں نے تمہیں پال پوس کر بڑا کیا۔ پس تمہارا فرض ہے کہ ان کی ہر بات برداشت کرو۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے ماں باپ کا احسان تو کبھی اتار ہی نہیں سکتے اور ماں باپ کے احسانوں کا شکر گزار ہونے کیلئے اللہ تعالیٰ ان کے حق میں ہمیں یہ دعا کرنے کی بھی تلقین فرماتا ہے کہ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا کہ اے میرے ربّ! ان پر مہربانی فرما کیونکہ انہوں نے بچپن کی حالت میں میری پرورش کی تھی۔ پس جب اس طرح انسان دعا کر رہا ہو گا تو ماں باپ کے احسان بھی اسے یاد آتے رہیں گے۔
یہاں یہ بھی واضح کروں کہ جس طرح مرد کو اپنے ماں باپ سے حسنِ سلوک اور خدمت کا حکم ہے اسی طرح عورت کو بھی ہے۔ بعض مرد شاید اپنی بیویوں کو ان کے اپنے ماں باپ کی خدمت سے روکتے ہیں یا حق ادا کرنے سے منع کرتے ہیں یا عورتوں کو خود خیال آ جاتا ہے کہ جب ہماری شادی ہو گئی تو پھر شاید ہمارے لئے اپنے گھر کو سنبھالنا زیادہ ضروری ہے۔ بےشک یہ فرض بھی ان کا ہے کہ اپنے خاوند کے گھر کو سنبھالیں لیکن عورت کو بھی اسی طرح حکم ہے کہ اپنے ماں باپ کی خدمت کرے اور مردوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ انہیں اس خدمت سے روکیں ۔ اگر عورت کا یہ فرض ہے کہ اپنے ساس سسر کی خدمت کرے تو اسکا یہ بھی فرض ہے کہ اپنے ماں باپ کی خدمت کرے اور اس طرح خاوند کا بھی فرض ہے کہ اپنی بیوی کے ماں باپ سے بھی حسن سلوک کرے اور اس کا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے بلکہ تمام رحمی رشتوں کو ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہئے اور تقویٰ پر چلتے ہوئے ان فرائض کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔
آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ جو شخص رزق کی فراخی چاہتا ہےیا خواہش رکھتا ہے کہ اس کی عمر زیادہ ہو۔ اسے صلہ رحمی کا خُلق اختیار کرنا چاہئے۔اس میں ہر ایک رشتہ آ جاتا ہے۔ پس عمر و صحت اور رزق میں فراخی اور لوگوں کا اچھے الفاظ میں کسی کے بارے میں ذکر کرنا، اسکا راز آپ ﷺنے یہ بتا دیا کہ اپنے رشتہ داروں اور قریبیوں سے اعلیٰ اخلاق سے پیش آؤ اور ان کے حق ادا کرواور اس حق ادا کرنے کی آپ ﷺنے یہاں تک تلقین فرمائی کہ ایک دفعہ ایک صحابی نے آنحضرتﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں اپنے رشتہ داروں سے بنا کر رکھوں ،حسن سلوک کروں تب بھی وہ تعلق توڑتے ہیں اور بدسلوکی سے پیش آتے ہیں۔ان حالات میں کیا کرنا چاہئے۔ آپﷺ نے فرمایاکہ اگر جو تم کہہ رہے ہو سچ ہے تو ان پر تیرا احسان ہے اور جب تک تم اس حالت میں ہو ۔ اللہ تعالیٰ ان کے خلاف تمہاری مدد کرتا رہے گا۔پس یہ تو بڑا سستا سودا ہے۔
پھر فرمایا یتیموں سے بھی احسان کا سلوک کرو۔ انہیں نہ بھولو، ان کے حق ادا کرو۔ اپنے معاشرے کا بہترین حصہ انہیں بناؤ۔آنحضرت ﷺنے تو یتیم کی پرورش کی اس قدر تلقین فرمائی ہے کہ فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والے جنت میں ساتھ ہوں گے بلکہ اپنی دونوں انگلیاں جوڑ کر دکھایا کہ اس طرح ساتھ ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں بھی یتامیٰ کی پرورش کا نظام رائج ہے۔ یتامیٰ فنڈ کے نام سے مدّ بھی ہے۔ عید کی خوشی کے موقع پر بھی اس میں خرچ کرنا چاہئے۔ ان کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنا چاہئے اور سارا سال ہی اس طرف پھر توجہ بھی رہنی چاہئے۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا دل نرم ہو جائے تو مساکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ۔پس اپنی اصلاح کیلئے بھی یہ بہت ضروری ہے کہ انسان یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھے اوریہ نیکیاں بہرحال قربانی کر کے ہی کرنی پڑتی ہیں۔
پھر جماعت میں ضرورتمندوں کی ضرورت پوری کرنے کیلئے اَور مدّات بھی ہیں۔ شادی فنڈ ہے اس سے ضرورتمندوں کی کسی حد تک مدد کی جاتی ہے۔ اس کیلئے بھی افراد جماعت کو خاص کوشش کرنی چاہئے اور جو صاحبِ حیثیت ہیں انہیں تو ایک سے زیادہ غریب جوڑوں کی شادی کا انتظام کرنا چاہئے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام غریبوں، یتیموں کا خیال رکھنے اور ان سے ہمدردی کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں:’’تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو یاد رکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو ہمدردی کرو اور بلا تمیز ہرایک سے نیکی کروکیونکہ یہی قرآنِ شریف کی تعلیم ہے۔ وَ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيْـمًا وَّ اَسِيْرًا ‘‘
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمسایوں سے نیک سلوک کرو چاہے تم انہیں جانتے ہو یانہیں جانتے۔پس عید کے دن ہمسایوں کو تحفہ دینے یا ان سے اچھی طرح ملنے سے بھی ایک ایسا معاشرہ قائم ہوتا ہے جو امن و سلامتی کا معاشرہ ہے اور خاص طور پر غیر مسلم معاشرے میں جب ہم اس طرح ہمسایوں سے تعلقات بڑھائیں گے تو تبلیغ کے بھی راستے کھلیں گے۔ اسلام کی خوبصورت تعلیم کا بھی دوسروں کو پتا چلے گا۔ اسلام کے خلاف جو اعتراضات ہیں وہ دُور ہوں گے۔
آنحضرتﷺ اچھے ہمسائے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساتھیوں میں سے وہ ساتھی اچھا ہے جو اپنے ساتھیوں کیلئے اچھا ہے اور پڑوسیوں میں سے وہ پڑوسی اچھا ہے جو اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے۔ کسی نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ مجھے کس طرح پتا چلے کہ میں اچھا ہمسایہ ہوں۔ آپﷺ نے فرمایااگر تمہارا ہمسایہ تمہاری تعریف کرے تو تم اچھے پڑوسی ہو اور اگر تمہاری برائی کرے تو تم بُرے پڑوسی ہو۔
پس اگر ہمارے مرد، عورتیں، بچے اس اصول پر عمل کرنے لگ جائیں تو ہم غیر مسلم ممالک میں خاص طور پر تبلیغ کے نئے راستے کھولنے والے ہوں گے۔پس ہمیں حقیقی خوشیاں تو تب ملیں گی جب ہم خود بھی اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں گے اور غیروں کے دل سے بھی اسلام کے خلاف بغض و کینہ نکال کر، غلط سوچیں نکال کر انہیں حقیقی اسلامی تعلیم سے آگاہ کریں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو تمہارے زیر نگین ہیں، تمہارے ملازم ہیں ان کا بھی خیال رکھنا اور ان کا حق ادا کرنا بھی تمہارا فرض ہے۔کسی بھی قسم کے تکبر کا اظہار تمہاری طرف سے ان کیلئے نہیں ہونا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اصلاح کی طرف ہمیشہ متوجہ رکھے اور ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والے ہوں،اپنی تمام رنجشوں کو بھول کر صلح کی بنیاد ڈالنے والے ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا حق ادا کرکے اپنی زندگی کے ہر لمحہ کو حقیقی عید کی خوشی میں ڈھالنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
دعا میں عمومی طور پر تمام انسانیت کو یاد رکھیں خاص طور پر ان بھوکے فاقہ زدہ بلکہ پانی کی ایک بوند سے بھی محروم لوگوں کو جو سوڈان میں آج کل وہاں کے فسادوں کی نظر ہوئے ہوئے ہیں ان کو یاد رکھیں۔
عالمگیر جماعت احمدیہ کو بھی عمومی طور پر دعا میں یاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ جماعت پر فضل فرمائے اور جہاں بھی احمدی کسی بھی رنگ میں ظلم کا شکار ہیں اللہ تعالیٰ انہیں محفوظ رکھے اور ظالموں کی پکڑ فرمائے۔
شہدائے احمدیت کے خاندانوں کیلئے دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کو اپنی حفاظت میں رکھے اور ان کے ایمان و ایقان میں اضافہ فرماتا رہے۔ ان کو اپنی نعمتوں سے نوازتا رہے۔
بیماروں، مریضوں، ضرورتمندوں کیلئے دعا کریں۔ دنیا سے ہر قسم کی بےحیائی اور شرک کے ختم ہونے کیلئے دعا کریں۔ عالَمِ اسلام کیلئے دعا کریں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل دے، وہ آپس میں ایک ہوں۔ ان کے سینے کھولے کہ یہ زمانے کے امام کو بھی ماننے والے بنیں کیونکہ یہی ایک ذریعہ ہے ان کی نجات کا اور اختلافات ختم کرنے کا۔ پس جب عالم اسلام ایک ہو جائے گا تو یہی ہماری حقیقی عید ہو گی۔ یہی عالم اسلام کی حقیقی عید ہو گی۔اللہ تعالیٰ کرے کہ یہ نظارہ ہم دیکھنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ خدائے واحد و یگانہ کی حکومت دنیامیں قائم کرے کیونکہ یہی ایک ذریعہ ہے جس سے دنیا کو خوشیاں نصیب ہو سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
…٭…٭…٭…