آج آپ سوشل میڈیا اور اخبارات کے صفحات کھول کر دیکھ لیں مذہب کے ہر معاملہ میں ملاںنہ صرف باہم تقسیم ہو چکے ہیں بلکہ باہم سر بگریباں ہیں۔ جس کے نتیجہ میں مسلم عوام مذہبی معاملات میں شدید ذہنی الجھنوں کا شکار ہیں۔ ملاں اپنی سرداری کو قائم رکھنے کے لئے اپنی جھوٹی اناؤں کو تسکین دینے کے لئے کوئی ایسا لمحہ نہیں چھوڑتے جس سے مسلمان پارہ پارہ نہ ہو جائیں۔ان کے دل و دماغ میں مسلمانوں کو متحد کرنے کا کبھی خیال بھی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہ تو بس چاہتے ہیں کہ جس حصہ یا طبقہ پر ان کو چودراہٹ اور سرداری حاصل ہے کہیں دوسری مسجد کا ملا ںاس کو کسی طرح ہتھیا نہ لے۔
ابھی حال ہی میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے انہوں نے مسلمانوں کو منتشر وپارہ پارہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایک طرف وہ مسلمان تھے جوان بدعات کے دلائل پیش کر رہے تھے تو دوسری طرف وہ تھے جو انہیں گمراہ، بے دین اور گستاخِ رسول قرار دے رہے تھے۔ معاملہ صرف عید میلاد النبی کا ہی نہیں ہے۔دین کے ہر معاملہ میں اختلاف پیدا کرنا اس کوہوادینا اور فتنہ و فساد کا بازار گرم کرتے رہنا یہ آج کے ملائوں کا گھنائونا کھیل بن چکا ہے۔ نماز پڑھنے میں اختلاف ، رفع یدین میں اختلاف ،آمین بالجہر و بالسّرمیں اختلاف، رمضان آ جائے تو تراویح پڑھنے نہ پڑھنے میں اختلاف، اس کی رکعات میں اختلافات۔ غرض تمام مسائل میں اختلافات کا ایک انبار ہے ۔جن کو یہ ملاں دن رات اپنے مفادات کی خاطر اچھالتے رہتے ہیں ۔کوئی وہ ہیں جو دن رات اولیاء اللہ کو خدائی کا درجہ دیتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو ان کی توہین کرتے ہیں۔
مسجد اگرچہ خداکا گھرہے لیکن مجال ہے دوسرے فرقہ کا مسلمان اس میں اطمینان سے نماز پڑھ سکے۔ دوسرے فرقوں کی نماز جنازہ اور نکاح پڑھانے سے نہ صرف پڑھانے والا کافر ہو جاتا ہے اور اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے بلکہ اسی مجلس میں موجود سب لوگ کافر ہو جاتے ہیں اور ان کے نکاح بھی ٹوٹ جاتے ہیں ۔تا وقتیکہ وہ اپنے اس عمل سے تائب ہو کر پھر اپنے پہلے فرقہ والے مولوی کی طرف نہ لوٹ جائیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ تو یہ ہے کہ آپ کی خدمت میں نجران کے عیسائی مذہبی گفتگو کے لیے آئے تھے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف مسجد میں ان کی رہائش کا انتظام کیا، ان کی تواضع کا انتظام کیا، بلکہ انہیں فرمایا کہ وہ اپنے طریق پر اس مسجد میں خدائے واحد کی عبادت بھی کر سکتے ہیں۔ اور یہاں یہ عالم ہے کہ غیر مذاہب والے تو درکنار، مسلمان مسلمان کی مسجد میں نماز ادا کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرون ثلاثہ کے بعد اور بالخصوص مسیح موعود کے زمانہ کے نزدیک امت کے کئی فرقوں میں بٹ جانے اور تقسیم در تقسیم ہو جانے کا ذکر فرمایا تھا اور اس کے ذمہ دار ان علما کو قرار دیا تھا جو اس دور میں ہوں گے آپ نے فرمایا تھا۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت پر بھی ایک زمانہ آئے گاجیسے بنی اسرائیل پر آیا تھا، جیسے ایک جوتا دوسرے کے برابر ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی ان میں سے اپنی ماں کے پاس کھلم کھلا آیا تھا، میری امت میں سے بھی کوئی ہوگا جو ایسا کرے گا، اور بے شک بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں منتشر ہو جائے گی، سب دوزخ میں جائیں گے مگر ایک گروہ۔ صحابہ نے عرض کیا کہ وہ کون سا گروہ ہوگا؟ اے اللہ کے رسول، فرمایا جس طرح میں ہوں اور میرے اصحاب ہیں۔
( ترمذی)۔
احمد اور ابو دائود نے معادیہ سے بیان کیا بہتر دوزخ میں ہوں گے اور ایک جنت میں ہوگا اور وہ گروہ ’’جماعت‘‘ ہوگا۔ (مشکوٰۃ مترجم جلد اول صفحہ 57تا 58)
اسی طرح ایک موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی گمراہی ان کے انتشار اور ملائوں کے فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہ رہے گا، الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔ اس زمانہ کے لوگوں کی مسجدیں بظاہر تو آباد ہوں گی لیکن ہدایات سے خالی ہوں گی۔ ان کے علما ءآسمان کے نیچے بسنےوالی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ ان سے ہی فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے۔ (مشکوٰۃ کتاب العلم)
اسی طرح فرمایا میری امت پر ایک زمانہ انتشار و اضطراب کا آئے گا، لوگ اپنے علما ءکے پاس رہنمائی کی امید سے جائیں گے تو وہ انہیں بندروں اور سوروں کی طرح پائیںگے۔ (کنزالعمال بحوالہ حدیقۃ الصالحین)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مثال آج کل کے علما ءکی دی ہے اس سے بدتر اور کوئی مثال نہیں ہو سکتی۔ آسمان کے نیچے تمام مخلوقات میں سے بدتر اور سوروں، بندروں کی طرح ہونا، یہ وہ لوگ ہیں جو سوروں کی طرح اسلام کی کھیتی کو اجاڑ رہے ہیں۔ اور ہر قسم کی بد حرکات میں ملوث ہیں۔ ان کی طرف سے مسلمانوں پر کفر کے تیر وں کی بوچھاڑ ہو رہی ہے اور کفر کے تیروں کی یلغار میں یہ بھی نہیں سوچتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توبحالت جنگ سونتی ہوئی تلوار کو دیکھ کر کلمہ پڑھ لینے والے کو بھی قتل کرنے اور کافر کہنے سے منع فرمایا تھا اور اس صحابی پر شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا تھا جس نے بحالت جنگ کلمہ پڑھ لینے کے باوجود ایک شخص کو قتل کر دیا تھا۔ وہ صحابی عرض کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے اس قدر ناراض ہوئے کہ میں نے سوچا کاش میں آج کے بعد ہی ایمان لاتا تو اچھا تھا۔ اور آج حال یہ ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر کلمہ گو مسلمانوں کو کافر کہا جاتا ہے یہاں تک کہ ان کے مرتد اور زندیق ہونے کے فتوے دیے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ قتل کے بھی فتوے دیے جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کی مساجد میں نماز پڑھنے سے روکنا تو اب دور کی بات ہے۔ دوسرے فرقہ کی مساجد کو بم دھماکوں سے اڑا دیا جاتا ہے اور معصوم نمازی نماز کی حالت میں ہی خدا کے حضور حاضر ہو جاتے ہیں۔
اب تو بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو بھی تجارت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ کتنے ہی معصوم مسلمانوں پر گستاخ رسول ہونے کے فتوے لگا کر پاکستان میں اب ان کے خلاف مقدمے کھڑے کیے گئے ہیں اور ان کے قتل کے فتوے دیے گئے ہیں جن میں ایسے ایسے معصوم نوجوان بچے بچیاں بھی شامل ہیں جو اپنا قصور تک نہیں جانتے۔ خود ہی اندازہ لگا لیجئےکہ وہ قوم جس کو اللہ تعالیٰ نے ’’خیر امت ‘‘کے لقب سے سرفراز فرمایا ہے ان ملاؤں کے طفیل بھٹکتے بھٹکتے کہاں تک پہنچ گئی ہے۔ جہاں ہر طرف خوفناک اندھیرا اوردلدل ہے اور راستہ کہیں نظر نہیں آتا۔
ایسے میں راستہ کہاں ہے؟ صراط المستقیم کدھر ہے؟ اور اسلام کی روشنی کہاں چمک رہی ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب ظلمت و ضلالت سے بھرا ہوا ایسا دور شروع ہو جائے۔ تو امید کی کرن صرف اور صرف امام مہدی ہوگا جو امام مہدی بھی ہوگا اور مسیح موعود بھی ہوگا اور اسی کا دامن دامن عافیت ہوگا ۔بجز اس کے ہر طرف اندھیرا ہوگا۔ ہر طرف تاریکی ہوگی، ہر طرف گمراہی ہوگی، ہر طرف ضلالت ہوگی۔چنانچہ دیکھ لیں آج مسلمان پوری دنیا میں ذلت و نکبت اورشکست وادبار سے دوچار ہیں،خیر اُمت بن کر دنیا کی رہنمائی کرنا تو دور کی بات ہے ہر جگہ شرمناک ناکامیاں آج مسلمانوں کی قسمت بن چکی ہیں۔
کبھی سوچا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ کیوں تمام مذاہب کے مقابل پر ہم ہر محاذپر پیچھے کی طرف دھکیل دیے گئے ہیں۔ اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ آنے والے اس موعود کا انکار کر دیا گیا۔ اس کی شان میں گستاخیاں کی گئی ہیں جن کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا کہ وہ ہدایت کا مینار ہوگا۔ آج جو لوگ اس ہدایت کے پیچھے چل چکے ہیں، گذشتہ سو سال میں انہوں نے عظیم الشان کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وہ دین و دنیا میں ہر جگہ اسلام کی روحانی فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ جس کی تمام تفصیلات ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں:
اب اسی گلشن میں لوگوں راحت و آرام ہے
وقت ہے جلد آؤ، اے آوارگانِ دشت خار
ہے کوئی کاذب جہاں میں لاؤ لوگو کچھ نظیر
میرے جیسی جس کی تائیدیں ہوئی ہوں بار بار
آفتابِ صبح نِکلا اب بھی سوتے ہیں یہ لوگ
دن سے ہیں بیزار اور راتوں سے وہ کرتے ہیں پیار
(در ثمین)