اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-09-10

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احیائے موتیٰ کا عظیم نشان!

سیّدنا حضرت اقدس مرزا غُلام احمد قادیانی علیہ السلام جن کو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود و مہدی معہود کے منصب پر فائز فرمایا ہے آپ نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ فرمایا تھا اور مسیح کے متعلق قرآن مجید اور انجیل میں لکھا ہے کہ وہ باذنِ الٰہی مُردوں کو زندہ کرتے تھے اور بیماروں کوچنگا کرتے تھے۔ اندھوں کو بینائی بخشتے تھے اگرچہ اس کا مطلب روحانی مُردوں کو زندگی بخشنا اورروحانی بیماروں کو اچھا کرنا ہے اور روحانی اندھوں کو بینائی بخشنا ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اللہ نے محض اپنے فضل سے مسیح کو اور دیگر انبیاء کوبالخصوص ہمارے نبی حضرت محمد ﷺکو یہ طاقت بھی بخشی تھی کہ جسمانی طور پر بھی جو لوگ موت کے منہ میں جاچکے تھے اورقریب المرگ تھے اور جن کے علاج سے دنیوی ڈاکٹروں نے ہاتھ کھڑے کردئے تھے ایسے مریضوں کو بھی انہوں نےموت کے منہ سے نکالا ہے۔

ایسے ہی عظیم الشان معجزات آج حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ بھی ظاہر ہوئے ہیں۔ اِن نشانات کو دیکھ کر اُن سابقہ انبیاء اور حضرت مسیح کے نشانات پر بھی یقین کامل پیدا ہوتا ہے ورنہ وہ تو آج کے اس دور میں صرف سُنی سُنائی باتوں کے رنگ میں ہیں۔

ذیل میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ایسے ہی سینکڑوں معجزات میں سے سردست صرف ایک معجزہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔

1906ء کا ذکر ہے قادیان میں ایک طالب علم جس کا نام عبدالکریم تھا پڑھنے کیلئے آیا اور مدرسہ احمدیہ قادیان کے چوتھے سال میں داخل ہوا۔ اس کے ساتھ کیا بیتی وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک الفاظ میں پڑھئے!

’’ عبدالکریم نام ولد عبدالرحمان ساکن حیدرآباد دکن ہمارے مدرسہ میں ایک لڑکا طالب العلم ہے۔ قضاء و قدر سے اس کوسگِ دیوانہ نے کاٹ لیا۔ ہم نے اس کو معالجہ کے لئے کسولی بھیج دیا چند روز تک اس کا کسولی میں علاج ہوتا رہا پھر وہ قادیان میں واپس آیا۔ تھوڑے دن گزرنے کے بعد پھر اس میں آثار دیوانگی کے ظاہر ہوئے جو دیوانہ کُتّے کے کاٹنے کے بعد ظاہر ہوا کرتے ہیں اورپانی سے ڈرنے لگا اور خوفناک حالت پیدا ہوگئی تب اس غریب الوطن عاجز کیلئے میرا دل سخت بے قرار ہوا اور دعا کیلئے ایک خاص توجہ پیدا ہوگئی۔ ہر ایک شخص سمجھتا تھا کہ وہ غریب چند گھنٹہ کے بعد مرجائے گا۔ ناچار اس کو بورڈنگ سے باہر نکال کر ایک الگ مکان میں دوسروں سے علیحدہ ہر ایک احتیاط سے رکھا گیا اور کسولی کے انگریز ڈاکٹروں کی طرف تار بھیج دیا اور پُوچھا گیا کہ اس حالت میں اس کا کوئی علاج بھی ہے۔ اس طرف سے بذریعہ تار جواب آیا کہ اب اس کا کوئی علاج نہیں۔ مگر اس غریب اور بے وطن لڑکے کیلئے میرے دل میں بہت توجہ پیدا ہوگئی اور میرے دوستوں نے بھی اس کیلئے دعا کرنے کیلئے بہت ہی اصرار کیا کیونکہ اس غربت کی حالت میں وہ لڑکا قابل رحم تھا اور نیز دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ اگر وہ مرگیا تو ایک بُرے رنگ میں اس کی موت شماتتِ اعداء ہوگی۔ تب میرا دل اس کیلئے سخت درد اور بے قراری میں مبتلا ہوا اور خارق عادت توجہ پیدا ہوئی جو اپنے اختیار سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ محض خداتعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوتی ہے اور اگر پیدا ہوجائے تو خدا تعالیٰ کے اذن سے وہ اثر دکھاتی ہے کہ قریب ہے کہ اس سے مردہ زندہ ہوجائے۔ غرض اس کیلئے اقبال علی اللہ کی حالت میسّر آگئی اور جب وہ توجہ انتہا تک پہنچ گئی اور درد نے اپنا پورا تسلّط میرے دل پر کرلیا تب اس بیمار پر جو درحقیقت مُردہ تھا اس توجہ کے آثار ظاہر ہونے شروع ہوگئے اور یا تو وہ پانی سے ڈرتا تھا اور روشنی سے بھاگتا تھا اور یا یَک دفعہ طبیعت نے صحت کی طرف رُخ کیا اور اس نے کہا کہ اب مجھے پانی سے ڈر نہیں آتا۔ تب اس کو پانی دیا گیا تو اس نے بغیر کسی خوف کے پی لیا بلکہ پانی سے وضو کرکے نماز بھی پڑھ لی اور تمام رات سوتا رہا اور خوف ناک اور وحشیانہ حالت جاتی رہی یہاں تک کہ چند روز تک بکلی صحتیاب ہوگیا۔ میرے دل میں فی الفور ڈالا گیا کہ یہ دیوانگی کی حالت جو اس میں پیدا ہوگئی تھی یہ اس لئے نہیں تھی کہ وہ دیوانگی اس کو ہلاک کردے بلکہ اس لئے تھی کہ تا خدا کا نشان ظاہر ہو اور تجربہ کار لوگ کہتے ہیں کہ کبھی دنیا میں ایسا دیکھنے میں نہیں آیا کہ ایسی حالت میں کہ جب کسی کو دیوانہ کُتّے نے کاٹا ہو اور دیوانگی کے آثار ظاہر ہوگئے ہوں پھر کوئی شخص اس حالت سے جانبر ہوسکے۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 47-46)

آج جبکہ Rabiesکے انجکشن کو دریافت ہوئے سوا سو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے اور اس کے موجد LOUIS PASTEUR کی یہ تحقیق سال بسال کامیاب مراحل سے گُزر رہی ہے اور پاگل کُتّے کے کاٹنے کے بعد اس ٹیکہ کا مثبت اثر ظاہر ہورہا ہے اور مریض کی جان بچ جاتی ہے۔ لیکن اب تک ایسا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا کہ جس مریض پر پاگل پن کا دورہ ہوجائے اس پر پھر یہ ویکسین کام کرسکے۔ لیکن سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ خدا نے یہ معجزہ دکھایا کہ وہ شخص جس کو پاگل پن کا دورہ پڑ گیا اور ساری علامتیں ظاہر ہوگئیں اور ڈاکٹروں نے تحریری طور پر جواب دے دیا کہ

"Sorry Nothing Can be done for Abdul Kareem"

باوجود اس کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں سے اللہ نے یہ معجزہ ظاہر فرمایا کہ اللہ نے حضرت عبدالکریم صاحب کو شفا عطا فرمائی۔ میڈیکل سائنس میں یہ ایک ایسا حیران کن واقعہ ہے جس کی مثال آج تک دنیا میں نہیں ملتی اور یقیناً یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا زندہ و تابندہ نشان ہے۔

عبدالکریم صاحب کے ساتھ یہ حادثہ 1907ء میں پیش آیا۔ اس کے بعد 1939ء میں ان کی وفات ہوئی۔ گویا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی قبولیت دُعا کے اس معجزہ کے بعد آپ بتیس سال زندہ رہے اور صحت والی زندگی گذاری۔ آپ یادگیر کرناٹک کے باشندہ تھے۔ قادیان سے واپس جانے کے بعد بفضلہ تعالیٰ یادگیر اوردیگر علاقوں میں جماعتی خدمات بھی سرانجام دیتے رہے۔ یادگیر میں آپ بطور خطیب خطبہ جُمعہ ارشاد فرماتے رہے۔ آپ کے دو پوتے مکرم زبیر احمد صاحب اورخالد احمد صاحب ابھی بھی یادگیر میں حیات ہیں اور فعال زندگی گزار رہے ہیں۔ الحمد اللہ

قادیان دارالامان میں بھی بفضلہ تعالیٰ آپ کی نسل کے بعض افراد مقیم ہیں۔ سبحان اللہ کیا نشان ہے۔ احیائے موتیٰ کے اس عظیم معجزہ کی۔ احیائے موتیٰ کے ایسے ہی بیسیوں نشان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمائے ہیں۔

پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی ایسا ہی احیائے موتیٰ ثابت ہے نہ یہ کہ وہ حقیقی مردوں کو پھر سے زندہ کردیتے تھے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’ اصل میں۔۔۔۔ احیائے موتیٰ پر ہمارا یہ ایمان نہیں ہے۔۔۔۔ نہ احیائے موتیٰ سے یہ مطلب ہے کہ حقیقی مُردہ کا احیاء کیا گیا۔۔۔۔ احیائے موتیٰ کے یہ معنٰی ہیں کہ (1) روحانی زندگی عطا کی جاوے (2) یہ کہ بذریعہ دعا ایسے انسان کو شفا دی جاوے کہ وہ گویا مردوں میں شمار ہوچکا ہو جیسا کہ عام بول چال میں کہا جاتا ہے کہ فلاں تو مرکر جیا۔ احیائے موتیٰ سے مُراد بھی خطرناک مردوں کا تندرست ہونا ہے۔ ‘‘

(بدر 7؍ فروری 1907ء صفحہ 4)

اور دراصل ان نشانوں کا ظہور جہاں سیّدنا حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کی صداقت کو ظاہر کرتا ہے وہیں ان سے اس بات کا بھی ثبوت ملتا ہے کہ جس آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا آپ دم بھرتے ہیں وہ بھی سچائی کا نور اور صداقت کا مینا ر تھا۔

آپ فرماتے ہیں:

’’خدا وندکریم نے اس رسول مقبول کی تابعت اور محبت کی برکت سے اور اپنے پاک کلام کی پیروی کی تاثیر سے اس خاکسار کو اپنے مخاطبات سے خاص کیا ہے اور علوم لُدنیہ سے سرفراز فرمایا ہے اوربہت سے اسرار مخفیہ سے اطلاع بخشی ہے اور بہت سے حقائق اور معارف سے اس ناچیز کے سینہ کو پُر کردیا ہے اور بارہا بتلا دیا ہے کہ یہ سب عطیات اور عنایات اور یہ سب تفضلات اور احسانات اور یہ سب تلطفات اور توجہات اور یہ سب تائیدات اور انعامات اور یہ سب مکالمات اور مخاطبات بیُمنِ متابعت و محبت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

جمال ہمنشیں در من اثر کرد وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم ‘‘

(براہین احمدیہ صفحہ 623 حاشیہ نمبر 11)