جیسا کہ قارئین جانتے ہیں کہ امسال سیدنا حضرت اقدس امیرالمؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے قادیان دارالامان میں 131 واں جلسہ سالانہ 25؍26؍27دسمبر 2026ء کو منعقد ہورہا ہے۔ اس جلسہ کے انعقاد میں صرف پانچ مہینے کا عرصہ باقی رہ گیا ہے۔ اس اعتبار سے اب وقت آگیا ہے کہ جلسہ میں شمولیت کیلئے تیاری شروع کردی جائے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے 1891ء میں جب اس جلسہ کی بُنیاد رکھی تو اس جلسہ کو بیعت کے بُنیادی مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیا تھا۔ آپ نے فرمایا:
(1) جلسہ کا قیام بیعت کے مقصد کی تکمیل کیلئے
تمام مخلصین داخلین سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہوکہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول کریم کی محبت دل پر غالب آجائے اور ایسی حالت انقطاع پیدا ہوجائے جس سے سفر آخرت مکروہ معلوم نہ ہو۔
لیکن اس غرض کے حصول کے لئے صحبت میں رہنا اور ایک حصہ اپنی عمر کا اس راہ میں خرچ کرنا ضروری ہے تا کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو کسی بُرہان یقینی کے مشاہدہ سے کمزوری اورضعف اور کسل دُور ہو اور یقین کامل پیدا ہوکر ذوق اور شوق اور ولولہ عشق پیدا ہوجائے سو اس بات کیلئے ہمیشہ فکر رکھنا چاہئے اور دُعا کرنی چاہئے کہ خداتعالیٰ یہ توفیق بخشے اور جب تک یہ توفیق حاصل نہ ہو کبھی کبھی ضرور ملنا چاہئے کیونکہ سلسلہ بیعت میں داخل ہوکر پھر ملاقات کی پروا نہ رکھنا ایسی بیعت سراسر بے برکت اور صرف ایک رسم کے طور پر ہوگی۔ اور چونکہ ہر ایک کیلئے بباعث ضعف فطرت یا کمئی مقدرت یا بُعدِ مسافت یہ میّسر نہیں آسکتا کہ وہ صحبت میں آکر رہے یا چند دفعہ سال میں تکلیف اُٹھا کر ملاقات کیلئے آوے۔ کیونکہ اکثر دلوں میں ابھی ایسا اشتعال شوق نہیں کہ ملاقات کیلئے بڑی بڑی تکلیف اور بڑے بڑے حربوں کو اپنے پر روا رکھیں۔ لہٰذا قرین مصلحت معلوم ہوتا ہے کہ سال میں تین روز ایسے جلسہ کیلئے مقرر کئے جائیں جس میں تمام مخلصین اگر خداتعالیٰ چاہے بشرط صحت و فرصت و عدم مرانع قویّہ تا ریخ مقررہ پر حاضر ہوسکیں۔‘‘
(2) جلسہ کا مقصد ربّانی باتوں کا سُننا اور امام وقت کی دُعا
پھر جلسہ کے مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں:
حتی الوسع تمام دوستوں کو محض للہ ربّانی باتوں کے سُننے کیلئے اوردُعا میں شریک ہونے کیلئے اس تاریخ پر آجانا چاہئے اوراس جلسہ میں ایسے حقائق و معارف کے سُنانے کا شُغل رہے گا جو ایمان اور یقین اورمعرفت کو ترقی دینے کیلئے ضروری ہیں اور نیز ان دوستوں کیلئے خاص دُعائیں اور خاص توجہ ہوگی اور حتی الوسع بدرگاہ ارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خداتعالیٰ اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی ان میں بخشے۔
(3) نئے بھائیوں سے ملاقات
اسی طرح فرمایا:
ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہوگا کہ ہر ایک نئے سال جس قدر نئے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے تاریخ مقررہ پر حاضر ہوکر اپنے پہلے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گے اور روشناسی ہوکر آپس میں رشتہ تودّد و تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا۔
(4) فوت ہوجانے والے بھائیوں کیلئے دُعا
’’ جو بھائی اس عرصہ میں اس سرائے فانی سے انتقال کرجائے گا اس جلسہ میں اس کی دعائے مغرفت کی جائے گی۔ ‘‘
جلسہ کی عظمت و اہمیت
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس جلسہ کی جو اغراض و مقاصد بیان فرمائے ہیں اُن سے اس میں شمولیت کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
اس جلسے کو معمولی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے اس کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کیلئے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔ (اشتہار 7؍ دسمبر 1891ء)
اس موقع پر یہ بات یاد رکھی جانے والی ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بحکم الٰہی اس جلسہ کی شروعات اس سال کی جبکہ آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ فرمایا تھا اور ملک کے طول و عرض میں شدید مخالفت کا طوفان چل رہا تھا ۔ ہندوستان کے مختلف مکاتب فکر کے بڑے بڑے مولانا صاحبان آپ پر کفر کے فتوے لگارہے تھے اور آپ کے متعلق دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے فتوے دے رہے تھے۔ ایسے حالات میں جبکہ آپ ایسا دعویٰ فرماچکے تھے جو مسلمانوں کے مروّجہ عقیدہ حیاتِ مسیح کے بالکل خلاف تھا بظاہر یہی نظر آتا تھا کہ لوگ قادیان میں اکٹھا نہیں ہوں گے۔ باوجود شدید مخالفتوں اور روکوں کے 1891ء کے جلسہ میں جو مسجد اقصیٰ قادیان میں منعقد ہوا پچھتّر افراد شریک ہوئے۔ اس جلسہ میں شامل ہونے والے خوش قسمت صحابہ کی فہرست حضور علیہ السلام نے اپنی تصنیف لطیف ’’ آسمانی فیصلہ‘‘ میں درج فرمائی ہے۔ پھر شدید مخالفتوں روکوں ایذاء رسانیوں اور مساجد سے دھکے دے کر نکالے جانے کے باوجود 1892ء کے جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد پانچ صد تھی جن میں سے بیرون قادیان دور دور سے تشریف لانے والوں کی تعداد تین صد پچیس تھی۔ حضور علیہ السلام نے یہ فہرست اپنی تصنیف لطیف ’’ آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ میں درج فرمائی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالفت کے طوفانوں میں سے گزرنے والی یہ کشتی کس قدر کامیابی سے چل رہی تھی۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وفات جو 1908ء میں ہوئی اس سے قبل آپ کی حیات طیّبہ کے آخری جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد دو ہزار تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سال بہ سال کس طرح اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو ترقی عطا فرماتا رہا ہے۔
1908ء میں خلافت احمدیہ کا پہلا جلسہ سالانہ تھا جس میں شاملین کی تعداد تین ہزار تھی۔ مخالفین کفر کے فتوے لگا کر اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی وجہ سے سمجھتے تھے کہ یہ سلسلہ نابود ہو جائے گا لیکن اللہ نے ایک ہی سال میں اس لِلّہی جلسہ کی حاضری میں ایک ہزار کا اضافہ فرمادیا۔
دور خلافت ثانیہ کے پہلے سال 1914ء میں جلسہ کی حاضری چھ ہزار تھی اوردور خلافت ثانیہ کے آخری جلسہ کی حاضری جو دسمبر 1964ء میں ربوہ میں منعقد ہوا ایک لاکھ سے زائد تھی۔ (الفضل 24؍ دسمبر 1965ء) خلافت ثانیہ کے جلسوں میں لوائے احمدیت لہرایا جانے لگا اور قادیان و ہندوستان سے نکل کر ان جلسوں کی حاضری دنیا کے ممالک تک پھیلنے لگی اور دنیا کے کئی ممالک کی نمائندگی ان جلسوں میں ہونے لگی۔
خلافت ثالثہ کا آخری جلسہ جو دسمبر 1981ء میں ربوہ میں منعقد ہوا اس کی حاضری بفضلہ تعالیٰ دو لاکھ تھی۔ جلسہ کے مہمانوں کے لئے جدید سہولیتیں مہیا ہونے لگیں۔ روٹی پکانے کی مشینیں لگائی گئیں جو خود احمدی انجینئرز نے تیار کیں۔
خلافت ثالثہ کے بعد خلافت رابعہ میں ایک طرف تو برطانیہ میں مرکزی جلسہ سالانہ منعقد ہوتا رہا تو دوسری طرف اس جلسہ کی شاخیں دنیا کے کئی ملکوں میں پُھوٹنے لگیں۔ جہاں وسیع و عریض زمینیں خرید کر جلسہ گاہ بنائے گئے۔ چنانچہ آج آپ دیکھیں کہ قادیان، ربوہ کے علاوہ برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور افریقہ و جزائر میں کئی ممالک میں تمام تر سہولتوں کے ساتھ ایسے وسیع و عریض سینٹر قائم ہیں جہاں جلسہ ہائے سالانہ ہزارہا مہمانوں کے ساتھ شایان شان طریق پر منعقد ہورہے ہیں۔
یقیناً جلسہ سالانہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی اور صداقت کا ایک بہت بڑا نشان ہے۔ الحمدللہ کہ ہم بھارت کے احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہمیں اس مقدس دارالامان کے جلسہ میں ہرسال شامل ہونے کی توفیق ملتی ہے۔ جہاں حضرت مسیح پاک علیہ السلام اورآپ کے صحابہ شامل ہوئے تھے اور جہاں مقدس خلفائے احمدیت جلسہ ہائے سالانہ میں شامل ہوتے رہے اور جہاں وہ مقدس مقامات ہیں جہاں خدا کے مسیح نے دن رات دُعائیں کیں۔ پس ضروری ہے کہ ہم اس خوش قسمتی پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں اور ابھی سے خود بھی اور اپنی زیر نگرانی احباب کو بھی جلسہ سالانہ 2026ء میں شامل ہونے کیلئے بھرپور تحریک کریں۔
یہ تو سب کو معلوم ہی ہے کہ قادیان میں ان دنوں سخت سردی کا موسم ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی مناسب تیاری کرکے آنا چاہئے۔ اور حضور علیہ السلام کا یہ بھی ارشاد ہے کہ اگر تھوڑی تھوڑی رقم اس غرض کے لئے پس انداز کی جاتی رہے تو بسہولت سفر کا خرچ اور سامان سفر میّسر آسکتا ہے۔
لہٰذا ربّانی باتوں کو سُننے کیلئے اوردُعاؤں میں شامل ہونے کے لئے بالخصوص اس خطاب اور دُعا میں شامل ہونے کیلئے جو کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہٖ العزیز فرماتے ہیں ایک انمول خزانہ سمجھ کر اس میں شامل ہونے کی ابھی سے تیاری شروع کردینی چاہئے۔ وباللہ التوفیق۔