اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-08

شرائط بیعت اپنے گھروں میں فریم کرواکر لگائیں

سیّدنا حضرت اقدس امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 28 ؍ دسمبر کی شام کو جلسہ سالانہ قادیان کے تیسرے روز اپنے اختتامی خطاب میں احباب جماعت احمدیہ ہندوستان کو بذریعہ ایم ٹی اے لنڈن سے خطاب فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ ربّانی شرائط بیعت پر دل و جان سے عمل کرنے کا ارشاد فرمایا ہے۔
حضور اقدس نے فرمایا ہے کہ شرائط بیعت کو لکھ کر اپنے گھروں میں لٹکایا جائے تا کہ شرائط بیعت ہر وقت ہماری نظروں کے سامنے رہیں اور پھر ہم ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بناتے رہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کوئی معمولی بیعت نہیں ہے۔ امام مہدی کی بیعت کرنے کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تاکیدی ارشاد تھا۔ حدیث مبارک ہے:
’’ فَاِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَبَایِعُوْہُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَی الثَّلْجِ فَاِنَّہٗ خَلِیْفَۃُ اللہِ الْمَھْدِیُّ ‘‘۔
(ابوداؤد جلد2 باب خروج المہدی)
کہ اے لوگو! جب تمہیں اس کا علم ہوجائے تو فوراً اسکی بیعت کرو خواہ تمہیں برف پر سے گھُٹنوں کے بل جانا پڑے کیونکہ وہ خدا کا خلیفہ مہدی ہے۔
اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہفَلْیُقْرِئُہٗ عَلَیْہِ السَّلَام۔
اُسے میری طرف سے سلام کہو (درمنشور جلد نمبر 2 صفحہ 445)
پس امام مہدی کی بیعت کرنے اور امام مہدی کو سلام پہنچانے کا تاکیدی ارشاد ہے۔
اور بیعت کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ رہی حقیقت بیعت کی تو وہ یہ ہے کہ بیعت کا لفظ بیع سے مشتق ہے اور بیع اس باہمی رضامندی کے معاملہ کو کہتے ہیں جس میں ایک چیز دوسری چیز کے عوض میں دی جاتی ہے۔ بیعت سے غرض یہ ہے کہ بیعت کرنے والا اپنے نفس کو مع اس کے تمام لوازم کے ایک رہبر کے ہاتھ میں اس غرض سے بیچے کہ تا اس کے عوض میں وہ معارف حقہ اور برکات کا علم حاصل کرے جو بموجب معرفت اور نجات اور رضامندی باری تعالیٰ ہوں اس سے ظاہر ہے کہ بیعت سے صرف توبہ منظور نہیں کیونکہ ایسی توبہ تو انسان بطور خود بھی کرسکتا ہے بلکہ وہ معارف وبرکات اور نشان مقصود ہیں جو حقیقی توبہ کی طرف کھینچتے ہیں۔
بیعت سے اصل مدعا یہ ہے کہ اپنے نفس کو اپنے رہبر کی غلامی میں دے کر وہ علوم اور معارف اور برکات اس کے عوض میں لیوے جن سے ایمان قوی ہو اور معرفت بڑھے اور خدا تعالیٰ سے صاف تعلق پیدا ہو اور اس طرح دنیوی جہنّم سے رہا ہو کر آخرت کے دوزخ سے مخلصی نصیب ہو اور دنیوی نابینائی سے شفا پا کر آخرت کی نابینائی سے بھی امن حاصل ہو۔‘‘ (ضرورت الامام صفحہ 37)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اپنی بیعت کو خدا کے علم کے مطابق کی جانے والی بیعت بیان فرماکر تحریر کرتے ہیں:
’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور سچی ایمانی پاکیزگی اورمحبت مولیٰ کا رہ سیکھنے کیلئے اورگندی زیست اور کابلانہ اورغدارانہ زندگی کو چھوڑنے کیلئے مجھ سے بیعت کریں۔ پس جو لوگ اپنے نفسوں میں کسی قدر یہ طاقت پاتے ہیں اُنہیں لازم ہے کہ میری طرف آویں کہ میں ان کا غمخوار ہوں گا اور اُن کا بار ہلکا کرنے کیلئے کوشش کروں گا اورخدا تعالیٰ میری دُعا اور میری توجہ میں ان کے لئے برکت دے گا بشرطیکہ وہ ربّانی شرائط پر چلنے کیلئے بدل و جان تیار ہوں گے۔ یہ ربانی حکم ہے جو آج میں نے پہنچا دیا اس بارہ میں عربی میں الہام یہ ہے
فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ واصْنَعِ الفُلْکَ بِاَعْیْنِنَاوَوَحْیِنَا۔اَلَّذِیْنَ یُبَایِعُونَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُونَ اللہ یَدُاللہِ فَوقَ اَیْدِیْھِمْ
نیز فرمایا:
’’ تمام مخلصلین داخلینِ سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہوکہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت دل پر غالب آجائے او رایسی حالتِ انقطاع پیدا ہوجائے جس سے سفرِ آخرت مکروہ معلوم نہ ہو‘‘۔
پس یہ شرائط بیعت ربّانی شرائط بیعت ہیں اور خدا کے حکم سے اورخدا کے ہاتھ پر بیعت ہے لہٰذا حضرت امیرالمؤمنین کے ارشاد کی روشنی میں ہر احمدی کا فرض ہے کہ شرائط بیعت کو بغور پڑھے اور اس کی ایک ایک شق پر دل و جان سے عمل کرنے کی کوشش کرے۔ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطاب کے آخر پر درد بھری نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:
اگر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کا وارث بننا ہے اور خاص طور پر ان دعاؤں کا وارث بننا ہے جو جلسہ میں شامل ہونے والوں کے لئے آپ نے کی ہیں تو ہمیں ہمیشہ ان باتوں کو سامنے رکھنا ہوگا اور عہد بیعت کو سمجھنے کےلئے اور دُہرانے کے لئے جیسا کہ میں نے کہا ہر وقت اپنے سامنے رکھیں یا ایسی جگہ پر رکھیں جہاں نظر پڑتی رہے ۔ لوگ بہت ساری چیزیں فریم لگا کر رکھتے ہیں اگر یہ بھی لگا کر رکھ لیں تو اس سے فائدہ ہی ہوگا۔ اللہ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی حالتوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے والا ہو اور اس کوشش میں ہو کہ ہم نے شرائط بیعت کو بھی پورا کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بے شمار نصائح بڑے درد کے ساتھ کی ہیں۔ بعض کو میں نے ابھی آپ کے سامنے بیان کیا ہے۔ آپ کی جو نصائح ہیں اورجو دعائیں آپ نے ہمارے لئے کی ہیں اگر ہم نے ان کے وارث بننا ہے تو ہمیں اپنے کو بدلنا پڑے گا اور اپنے اندر ایک واضح تبدیلی پیدا کرنی ہوگی ۔ جب یہ ہوگا تو ہم تبھی اس مقصد کو پانے والے ہوں گے جو بیعت کا مقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ (خطاب حضرت امیرالمومنین جلسہ سالانہ قادیان 28؍ دسمبر 2025ء)
پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ اپنے گھر میں اپنی مقامی زبان میں شرائط بیعت کو ترجمہ کرکے فریم کرکے لگائے اور خود بھی پڑھے اپنی اولاد کو بھی پڑھائے اوراپنی زندگی میںان شرائط پر دل و جان سے عمل کرنے کی کوشش کرے۔ وباللہ التوفیق۔