اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-12-25

قومی یکجہتی مگر کیسے حاصل کریں!

وطن عزیز بھارت جو مختلف مذاہب، قوموں، رنگوں او رنسلوں کا گہوارہ ہے وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکی قومی یکجہتی کی فضا مکدّر ہوتی چلی جارہی ہے۔ اس میں مختلف مذاہب کا تو اتنا رول نہیں ہے البتہ سیاست کو کامیاب بنانے کے لئے مذاہب کا غلط اور گھٹیا استعمال اس کا ذمہ دار ہے اور اس میں مذاہب سے تعلق رکھنے والے سیاستدان شامل ہیں۔ وہ سیاستدان جن کا تعلق ہندو مذہب سے ہے وہ اپنے ہندو ووٹروں میں سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ہندو دھرم کو خطرے میں بتا کر دیگر مذاہب کے لوگوں سے انہیں لڑوا کر اپنی سیاست کو کامیاب بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ کامیابی اُن کو اس وقت بہت قریب نظر آتی ہے جب ہندو مذہب کےمذہبی راہنما ایسے سیاستدانوں کے ہمنوا اور مددگار بن جاتے ہیں اور ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ اپنے ہم مذہب لوگوں کو شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں خواہ اس کے لئے بعض دفعہ تشدد کا بھی سہارا لینا پڑے۔
یہی حال مسلم سیاستدانوں کا ہے کہ وہ بھی اپنی سیاسی کامیابی کےلئے اسلام کو خطرے میں بتا کر مسلم عوام کو اپنے اس مذموم مقصد میں شامل کرتے ہیں اوراپنے مقصد کو مضبوط بنانے کے لئے مسلم علماء کا بھی سہارا لیتے ہیں تا کہ اس کے ذریعہ اپنی سیاسی دوکان کو چمکا سکیں۔ یہی حال دیگر مذاہب اور قومیتوں کے سیاستدانوں کا بھی ہے۔ اور نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پڑوسی ملکوں میں بھی اپنی سیاسی دوکانوں کو چمکانے کے لئے مذہب کا لبادہ اوڑھنے کامذموم دھندہ خوب زوروں پر ہے۔
پاکستان اس معاملہ میں ہندوستان کی نسبت آگے ہے اور وہاںپر سیاستدانوں نے مولویوں کی مدد سے اپنی دکانوں کوگزشتہ پانچ دہائیوں میں خوب ’’چمکایا‘‘ ہے لیکن بالآخر اب پاکستان کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے کہ نہ وہاں سیاست قائم رہ سکی اور نہ مذہب کی اصلیت قائم رہ سکی۔ نہ اقتصادیات قائم رہ سکی اور نہ سوشل تعلقات قائم رہ سکے۔ مذہب، سیاست، اقتصادیات، معاشیات وہاں سب کچھ بکھر کر پارہ پارہ ہوچکے ہیں اوراب پریشان ہوکر پاکستانی حکومت مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف ایکشن لے رہی ہے۔
ہندوستان میں یہ حالات اب پاکستان کے بعد پیدا ہورہے ہیں اور قابل افسوس بات یہ ہے کہ دن بدن بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ پاکستان نے جب سیاست میں مذہبی انتہاپسندی کی شروعات کی تو اس کے سامنے حالیہ دور کا کوئی نمونہ نہیں تھا جس سے سبق حاصل کرکے وہ پیچھے ہٹ جاتا لیکن ہندوستان کے سامنے پاکستان کاقابل عبرت نمونہ موجود ہے۔
صرف یہی نہیں ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے سامنے یورپ کی سابقہ تاریخ بھی موجود ہے جبکہ بارہویں اور تیرہویں صدی کاوہ بھیانک اور تاریک دور یورپ پر آیا تھا۔ اور اس دور کے مذہبی انتہاپسندوں نے اپنے مذموم دنیوی مفادات کی تکمیل کے لئے معصوم انسانوں پرمظالم ڈھائے، دانشوروں اور سائنسدانوں کوشرمناک سزائیں دی گئیں۔ گلیلیو اور اُس جیسے کئی دانشور مذہبی ٹھیکیداروں کے کٹہرے میں کھڑے کئے گئے لیکن جب یورپ نے سیاست اور مذہب کو الگ کرکے سیکولر سوچ کی شروعات کی تو وہاں ترقی کادور دورہ ہوا اور آج بھی یورپ کےممالک برصغیر اور ایشیا کے کئی ممالک سے آگے ہیں۔
اُس دور کو یورپ کا احیاء نَو کہا جاتا ہے۔ کاش بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے سیاستدان اور مذہبی راہنما یورپ کی اس تاریخ سے سبق سیکھیں اور پھر سے اُس تاریخ کو نہ دہرائیں۔ پھر سے اُس تلخ تجربہ کا اعادہ نہ کریں جس سے صدیوں ایک قوم نے تکلیف اُٹھائی۔
لیکن بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی۔ یورپ کی اس دنیوی ترقی میں اُس نے مذہب کے مثبت رول کو بھی نظرانداز کرکے مذہب کو یکسر فراموش کردیا ہے جس کے نتیجہ میں وہاں اخلاق کا فقدان ہوگیا ہے۔ آزادی کے نام پر شرم و حیاء کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے او روہ Rivival کے اس دور کے بعد پھر روحانی مُردنی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ہندوستان و پاکستان جیسے ترقی یافتہ ممالک یورپ کی اس تاریخ سے بہت سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ مذہب کے نام پر دنیوی مفادات حاصل کرنے والے تمام دنیوی مفاد پرست مذہبی ’’راہنماؤں‘‘ کو خیرآباد کہیں اور پھر مذہب کے اُس عظیم مقصد کو حاصل کریں جس کے نتیجہ میں انسان کاخدا سے تعلق قائم ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیوی ترقی بھی اپنی جگہ قائم رہے گی اور مذہبی ترقی جو دراصل روح کے اطمینان کا ایک بڑا ذریعہ ہے وہ بھی حاصل ہوگی۔
یہی وہ نسخہ ہے جس سے ہم قومی یکجہتی حاصل کرسکتے ہیں۔ ہندوستان یا دیگر ترقی پذیر ممالک اُس وقت تک ترقی حاصل نہیں کرسکتے جب تک اُن میں آپسی اتفاق و اتحاد کی فضا قائم نہ ہو اور پھر وہ اتفاق و اتحاد ان مُلکوں سے نکل کر دیگر ہمسایہ ممالک تک نہ پھیل جائے یہاں تک کہ تمام دنیا اتفاق واتحاد اور یکجہتی کے نور سے منور نہ ہوجائے اور یہ عظیم کام مفاد پرستی کی سیاست اور دنیوی مفادات کی خاطر مذہب کے استعمال سے انجام تک نہیں پہنچ سکتا بلکہ صرف اور صرف بے لوث محبت ہی اس کو پروان چڑھا سکتی ہے۔ اور بے لوث محبت صرف اور صرف خالص روحانیت سے حاصل ہوسکتی ہے اور جس کے لئے ہمارے مذاہب میں بے حد سرمایہ موجود ہے۔ ضرورت ہے کہ ہر مذہب کے دانشور محبت و اتحاد کے اس قیمتی سرمایہ کو اپنی مقدس مذہبی کتب سے نکال کر عوام کے سامنے پیش کریں۔ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللہِ فَاَحَبُّ الْخَلْقِ اِلَی اللہِ مَنْ اَحْسَنَ اِلٰی عِیَالِہٖ
(بیقہی فی شعب الایمان۔ مشکوٰۃ باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلْق۔ بحوالہ حدیقہ الصالحین) (حدیث نمبر 712)
آج کے اس دور میں اسلام کی امن بخش تعلیمات جنہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پیش کیا ہے آپ کے موجودہ خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب دنیا کے ساتھ پیش فرمارہے ہیں اس کیلئے ضروری ہے کہ حضور اقدس کے ان خطابات اور خطوط کا مطالعہ کیا جائے جو World Crises and Pathway to Peace کے عنوان سے شائع شدہ ہیں۔
یہ گفتگو ایک بشپ صاحب کے تاثرات پر ختم کی جاتی ہے جو انہوں نے حضور اقدس کے یورپین پارلیمنٹ کے خطاب کو سُن کر ظاہر فرمائے تھے۔ بشپ صاحب نے کہا تھا:
’’ یہ شخص جادوگر نہیں لیکن ان کے الفاظ جادو کا سا اثر رکھتے ہیں لہجہ دھیما ہے لیکن ان کے منہ سے نکلنے والے الفاظ غیر معمولی طاقت شوکت اور اثر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اس طرح کا جرأت مند انسان میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ آپ کی طرح کے صرف تین انسان اگر اس دنیا کو مل جائیں توامنِ عامہ کے حوالہ سے اس دنیا میں حیرت انگیز انقلاب مہینوں میں بلکہ دنوں میں برپا ہوسکتا ہے۔ اوریہ دنیا امن اور بھائی چارہ کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ مَیں اسلام کے بارہ میں کوئی بھی اچھی رائے نہیں رکھتا تھا ۔ آپ کے خطاب نے اسلام کے بارے میں میرے نقطۂ نظر کو کلیتہً تبدیل کردیا ہے۔ (الفضل انٹرنیشنل 4 ؍ جنوری 2013ء)
پس ضروری ہے کہ امن اور قومی یکجہتی کے لئے خلافت احمدیہ کی مضبوط اور لازوال رسّی کو تھام لیا جائے۔ قومی یکجہتی کی خواہش رکھنے والے کیلئے بس یہی ایک پیغام ہے جو اُمید کی کرن ہے اور ہمارے دل کی آواز ہے۔ اس اُمید کے ساتھ یہ پیار بھرا تحفہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔
…٭…٭…٭…