قرآن مجید کی سورۃ الجمعہ وہ مبارک سورۃ ہے جس میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی خوشخبری دی گئی ہے کہ مسلمان جب ایمان اور قرآن سے بے خبر ہو جائیں گے اور ایمان و قرآن ان سے اتنی دور چلا جائے گاجتنا کہ ثریا ستارہ دُور ہے تو اللہ تعالیٰ ایک شخص فارصی الاصل کو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق امت محمدیہ میں پھرسے اسلام کو از سر نو زندہ کرنے کیلئے مبعوث کریگا اور وہ آنحضرت ﷺ کی غلامی میں اور آپ کے بروز کے طور پر وہی جلیل القدر خدمات اسلامی سر انجام دیگا جو کہ آنحضور ﷺ نے فرمائی تھیں جس طرح آنحضرت ﷺ نے آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی تھی جس طرح آپ نے تزکیہ نفوس کیا تھا جس طرح آپ نے کتاب مجید سکھائی تھی اور جس طرح آپ نے حکمت کے موتی تقسیم کئے تھے وہ بھی آپ کی غلامی میں ان خدمات کو سر انجام دیگا۔
قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے اکمل او اتم شریعت کا درجہ عطا فرمایا ہے اور قرآن مجید سے پہلے نازل ہونے والی کسی شریعت نے یہ دعویٰ نہیں کیا۔ حدیث سے ثابت ہے کہ جس روز آیت اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا(المائدہ :4)نازل ہوئی وہ جمعہ کا مبارک دن تھا ۔ گویا تکمیل ہدایت جمعہ کے مباک دن ہوئی او ر تکمیل اشاعت ہدایت کیلئے جوحسب آیت سورۃ الجمعہ آنحضرتﷺ کے بروز کے ذریعہ ہونی تھی اسکے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے زمانہ کا چھٹا دن جو کہ جمعہ کا قائم مقام ہے مقر فرمایا تھا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :جیسا کہ تکمیل ہدایت قرآن چھٹے دن ہوئی تھی (جو جمعہ کا دن ہے)ایسا ہی تکمیل اشاعت ہدایت قرآن کیلئے الف ششم مقرر کیا گیا جو بموجب نص قرآنی چھٹے دن کے حکم میں ہے اور جیسا کہ تکمیل ہدایت قرآنی کا چھٹا دن جمعہ تھا ایسا ہی ہزار ششم میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے جمعہ کا مفہوم مخفی ہے یعنی جیسا کہ جمعہ کا دوسراحصہ تمام مسلمانوں کو ایک مسجد میں جمع کرتا ہے اور متفرق ائمہ کو معطل کر کے ایک ہی امام کا تابع کر دیتا ہے اور تفرقہ کو درمیان سے اٹھا کر اجتماعی صورت مسلمانوں میں پیدا کر دیتا ہے یہی خاصیت الف ششم کے آخری حصہ میں ہے یعنی وہ بھی اجتماع کو چاہتا ہے۔ اسی لئے لکھا ہے کہ اس وقت اسم ہادی کا پر تو ایسے زور میں ہوگا کہ بہت دور افتادہ دلوں کو بھی خدا کی طرف کھینچ لائے گا۔ اور اسی کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے کہ وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِوَجَمعْنَاھُمْ جَمْعًا (الکہف:100) پس یہ جمع کا لفظ اس روحانی جمعہ کی طرف اشارہ ہے۔ (تحفہ گولڑویہ 161تا 162)
خلاصہ مذکورہ تمام عبارت کا یہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانیہ کا ذکر سورۃ الجمعہ میں ہےاور تکمیل ہدایت بھی جمعہ کے روز ہوئی اور تکمیل اشاعت ہدایت بھی چھٹے ہزار سال میں ہوئی ۔یعنی وہ زمانہ جو جمعہ کے دن کی یاد دلاتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جمعہ کا مبارک دن آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانیہ میں اپنی عظمت و شان کے ساتھ پوری دنیا میں ظاہر ہوگاجسکا ذکر قرآن مجید میں وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِوَجَمَعْنَا ھُمْ جَمْعًامیں بھی کیا گیا ہے۔اور جس کا ذکر آیت قرآنی هُوَ الَّذِيْ أَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدىٰ وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّينِ كُلِّهٖ(الصف:10)میں بھی مذکور ہے اور جس کے مطابق اکثر بزرگان سلف اور مفسرین کرام نے لکھا ہےکہ پوری دنیامیں ادیان باطلہ پر اسلام کا غلبہ امام مہدی کے زمانے میں ہوگا۔
پس آج جماعت احمدیہ میں جو جمعہ کا دن منایا جاتا ہے وہ اس شان کا ہے کہ صرف اور صرف جماعت احمدیہ کے امام اور خلیفہ ایسے ہیں کہ ہر جمعہ کے روز انکا خطبہ پوری دنیا میں سنا جاتا ہے۔ آنحضرتﷺ کی بعثت ثانیہ میں اللہ تعالیٰ نے تکمیل اشاعت ہدایت کے جو سامان مہیا فرما دیئے ہیں انکے ذریعہ احمدی جو اب بفضلہ تعالیٰ پوری دنیا میں موجود ہیں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے خلیفہ بر حق کا مبارک خطبہ دنیا میں ہر جگہ سنتے اور دیکھتے ہیںاور ایشیا ، افریقہ ،یورپ ، امریکہ اور جزائر میں ہر جگی آیت قرآنی فَجَمَعْنَاھُمْ جَمْعًاکا نظارہ ہر جمعہ کے روز 24 گھنٹے نظر آتا ہے اور اگلے جمعہ دنیا بھر کی احمدیہ مساجد میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبہ جمعہ کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔
پس سورۃ الجمعہ کی مبارک سورۃ میں جس جمعہ کا ذکر ہےاور جو تکمیل ہدایت جمعہ کے روز ہوئی تھی اورجو تکمیل اشاعت ہدایت ہزار ششم میں ہو رہی ہے زمانہ کے لحاظ سے جمعہ کا دن ہے آج اسکی صدا بہار شان سوائے جماعت احمدیہ کے اور کہیں نظر نہیں آتی اور یہ بات ہر جمعہ کے روز ببانگ دہل اعلان کرتی ہے کہ
اسمعوا صوت السماء جاء المسیح جاء المسیح
نیز بشنوا از زمیں آمد امام کامگار
دوسری طرف آج غیر احمدی دنیا میں جمعہ کی جو حالت ہو چکی ہے وہ بھی ایک قابل عبرت نشانی ہے۔ اکثر مسلم ممالک میںاور مسلم اکثریتی علاقوں میں جمعہ کے روز جمع ہونے والی بھیڑ کو صرف ایجی ٹیشنوں ،ہڑتالوں اور دھرنوں کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کہاں عالمگیر طور پر جمعہ ہدایت و روحانیت کا مینار اور کہاں جمعہ کا استعمال بطور یوم الفساد ۔ہائے افسوس آنے والے مہدی کا انکار کر کے تم لوگ کہاں پہنچ گئے ۔فاعتبروا یا اولی الابصار۔پس ہم احمدیوں کو جمعہ کے دن کی قد رکرنی چاہئے اور جمعہ کی عبادت کو اہمیت دیتے ہوئے اس روز اپنے پیاے امام کے خطبہ کو باقاعدگی سے سننا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ درد بھری آواز سنو !
اب اسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے
وقت ہے جلد آئو اَے آوارگانِ دشتِ خار