اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-12-04

بنگلہ دیش بد قسمتی کی راہ پر!

15؍نومبر کے روز ڈھاکہ بنگلہ دیش میں غیر احمدی ملا ںختم نبوت کے مبارک نام پر اکھٹے ہوئے اور انہوں نے بنگلہ دیش کی حکومت سے احتجاج کیا کہ حکومتی سطح پر وہاں کے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے ۔ بنگلہ دیش کے مختلف مدرسوں کے طلباء اور بعض دیگر ممالک کے ملاں بھی اس جلسہ میں شریک ہوئے ۔ جلسے میں شامل بعض مظاہرین نے ایسی ٹی شرٹز پہنی ہوئی تھیں جن میں لکھا تھا کہ احمدیوں کو کافر قرار دیا جائے اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن میں احمدیوں کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ تھا۔
یہ بالکل وہی طرز ہے جو آج سے پچاس سال قبل پاکستان میں اختیار کی گئی تھی وہاں باقاعدہ پورے ملک میں فساد پھیلا کر اور احمدیوںکے جان و مال کا نقصان کر کے بالآخر 1974 ءمیں انہیں اپنے سیاسی مقاصدکی تکمیل کے لئے غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔
اس کے بعد سے اب تک پاکستان نے جو ترقی حاصل کی ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ پاکستان مذہبی اعتبار سے پورے مسلم ممالک میں سب سےبچھڑا ہوا ملک بن گیا ہے۔ جہاں اسلام نام کی کوئی چیز دوردور تک نظر نہیں آتی۔ البتہ سنی،وہابی ، ، شیعہ ، اہل حدیث اور دیگر کئی فرقوں کے ملاں باہم دست بگریباں ہیں جو سرعام ایک دوسرے کو گالیاں نکالتے ہیں منہ سے بھر بھر کر جھاک نکالتے اور گلے پھاڑ پھاڑ کر اپنے اپنے مسلک کا دفاع کرتے اور دوسروں پر حملے کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں ۔ ان ملائووں کے زیر اثر اکثر مسلمانوں میں دور دور تک اسلام تو کہیں نظر نہیں آتا اور نہ اسکی ملاؤں کو فکر ہے ۔ بے حیائی اور رشوت خوری ،اغواء برائے تاوان کا بازار گرم ہے۔ اور ملاؤں کی سب سے گھناؤنی تصویر یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس اور عزت کو دنیوی مفاد کی خاطر استعمال کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے ۔حالیہ دنوں میں ایک ایسا گینگ پکڑا گیا ہے جو معصوم مسلم نوجوانوں پر توہین رسالت اور توہین مذہب کے الزام لگا کر اور انہیں پاکستانی آئین کے تحت پھانسی یا عمر قید کی سزا کا خوف دلا کر ان سے کروڑوں روپئے لوٹ چکا ہے اور اب تو وہاں کے ملاں کو بھی توہین رسالت کے الزام لگا کر جیل کے سلاخوں کے پیچھے بند کروا دیا جاتا ہے۔
ہائے افسوس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عز ت و ناموس اور قرآن مجید کی تکریم اورمذہب کی عزت جن کی توہین کے حوالہ سے پہلے غیر مسلموں پر الزام لگا کر بے قابو بھیڑ کے ذریعہ انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھاآج وہی دن وہاں کے سرکاری مسلمانوں کو یہاں تک اب ملاؤں کو بھی دیکھنا پڑ رہے ہیں۔
سوچئے ! ناموس رسالت کا حوالہ دے کر یہ لوگ کس قدر ناموس رسالت کی توہین کر رہے ہیں؟ قرآن مجید کی تکریم کی آڑ میں کیسے تجارتی دھندے چلا رہے ہیں؟
یہ تو وہاں کی مذہبی حالت ہے جس کی وجہ سے پاکستانی عوام کی جو معاشرتی تصویر ابھری ہےوہ سب دنیا کے لئے خوف و حراس کا باعث ہے۔اور جہاں تک معاشی حالات ہیں تو وہ بھی نہایت ہی قابل رحم ہیں ۔باہر کی کمپنیاں وہاں سے اپنے کاروبار سمیٹ رہی ہیں اور بھاری تعداد میں لوگ ہجرت پرمجبور ہیں۔تمام مسلم ممالک میں پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس کی حکومت نے پچاس سال قبل احمدیوں کو سیاسی مقاصد کے تحت غیر مسلم قرار دیا تھا۔وہ لوگ جنہوں نے یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا وہ تو اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں اور اس وقت اُن کے پیچھے تمام قوم ہر اعتبار سے بری حالت میں ہےاور اگربنگلہ دیش پاکستانی ملاؤں کے بہکاوے میں آکر اس کے نقش قدم پر چلنا چاہتا ہےتو اسے بھی اپنے خوفناک انجام سے ڈرنا چاہئے!
جماعت احمدیہ کے تیسرے خلیفہ حضرت مرزاناصرا حمد صاحب ؒ،چوتھےخلیفہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب ؒ اور اب پانچویں خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز لگاتار مسلم اُمّہ کو صحیح اسلامی تعلیم سےآگاہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ کسی شخص یا فرقہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسلامی تعلیم کی روشنی میں کسی کلمہ گو کو غیر مسلم قرار دے کیونکہ کلمہ پڑھنے والے اللہ اور اس کے رسول کی ضمانت میں ہےاور جو اس ضمانت کو توڑے گاوہ اس کے خوفناک انجام کو ضرور بھگتے گا۔ حضرت رسول مقبول ﷺ کا مبارک ارشاد ہے۔ مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَاَكَلَ ذَبِيْحَتَنَا، فَذٰلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِيْ لَهٗ ذِمَّةُ اللّهِ وَذِمَّةُ رَسُوْلِهٖ، فَلَا تُخْفِرُوا اللّهَ فِيْ ذِمَّتِهٖ۔
جو شخص ہماری طرح کی نماز پڑھتا ہے ، ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرتا ہے اور ہمارے ذبیحہ کو کھاتا ہے وہ مسلمان ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی حفاظت اسکو حاصل ہے ۔ پس اے مسلمانو ! اس کو کسی قسم کی تکلیف دے کر خدا تعالیٰ کو اس کے عہد میں جھوٹا نہ بنائو۔ (بخاری باب فضل استقبال القبلۃ)
پس انصاف پسند وں اور عقلمندوں سے عاجزانہ اپیل ہے کہ پہلے جو تجربہ دہرایا جاچکا ہے اور جس کے تلخ پھل ایک قوم کھا رہی ہے۔ خدا کیلئے اسے پھر سے نہ دہرائیں! خدا توفیق بخشے۔ آمین۔
آخر پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے چند فرمودات پر اس مضمون کو ختم کیا جاتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
’’اے مخالف مولویو! اور سجادہ نشینو !! یہ نزاع ہم میں اور تم میں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اور اگر چہ یہ جماعت بہ نسبت تمہاری جماعتوں کے تھوڑی سی اور فئہ قلیلہ ہے اور شاید اس وقت تک چار ہزار پانچ ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی(یہ تب کی بات ہے اب تو بفضلہ تعالیٰ یہ جماعت لاکھوں کی تعداد میں پوری دنیا میں پھیل گئی ہے۔ناقل)
تاہم یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے خدا اس کو ہر گز ضائع نہیں کرے گا وہ راضی نہیں ہوگا جب تک اسکو کمال تک نہ پہنچادے‘‘ (انجام آتھم صفحہ 64)
نیز فرمایا’’دنیا مجھ کو نہیں پہنچانتی لیکن وہ مجھے جانتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے یہ ان لوگوں کی غلطی اور سراسر بد قسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔ میں وہ درخت ہوں جس کو مالک حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے‘‘۔
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ 13)