سیّدنا حضرت اقدس امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے امسال جلسہ سالانہ برطانیہ کے اختتامی خطاب 26؍ جولائی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات کی روشنی میں شرائط بیعت کا ذکر فرماتے ہوئے بالخصوص پہلی شرط بیعت
’’ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہوجائے شرک سے مجتنب رہے گا۔‘‘
کاذکر فرماتے ہوئے احباب جماعت عالمگیر کو اس حوالہ سے ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس زمانہ میں پیدا کیا ہے جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو اسلام کی نشا ٔۃ ثانیہ کیلئے دنیا میں خدائے واحد کی حکومت کو قائم کرنے کیلئے، شرک کے خاتمہ کیلئے، اخلاقی اقدار پیدا کرنے کیلئے، وفا و اخلاص کی تعلیم دینے کیلئے اور وہ اقدار پیدا کرنے کیلئے جو کامل طور پر وفا اخلاص اور اطاعت کا جذبہ اپنے اندر رکھیں مبعوث فرمایا۔
آنے والے مسیح موعود نے ایک ایسی جماعت تیار کرنی تھی جو کامل مؤحد اور شرک سے کلیتہً پاک ہو اور دنیا کو بھی خدائے واحد کی آغوش میں لانے کیلئے اپنی تمام تر استعدادیں اور صلاحیتیں استعمال کرے تاکہ دنیا روحانی اور اخلاقی اقدار سے اپنی بقا کے سامان پیدا کرسکے۔ چنانچہ آپ نے اللہ سے حکم پا کر ایک پاک جماعت کا قیام فرمایا اور دس شرائط بیعت پیش فرماکر ان پر چلنے کی نصیحت فرمائی۔ ان میں سے پہلی شرط ہی شرک کے خاتمہ کیلئے مقرر فرمائی ہے۔ یہ ایسی شرط ہے کہ اگر انسان اس پر صحیح طور پر عمل کرے تو بہت سی بُرائیوں سے بچ سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں:
ہر اک نبی کی بعثت کی اصل غرض یہ رہی ہے کہ لوگ گناہوں سے نجات پاکر ہر قسم کی بدیوں اور بدکاریوں سے بکلّی نفرت کرکے خدا کے ہوجاویں۔ انسانی پیدائش کی اصل غرض ہی یہی ہے کہ وہ خدا کا ہوجاوے۔ گناہ کے بہت سے شعبے اور شاخیں ہیں یہاں تک کہ ہر ادنیٰ قسم کی غفلت بھی گناہ میں داخل ہے لیکن عظیم الشان گناہ جو اس مقصد کے بالمقابل انسان کو اصل مقصد سے ہٹانے کیلئے پڑا ہوا ہے وہ شرک ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بہت جگہ پر شرک سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے اور فرمایا ہے شرک کرنا ظلم عظیم ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بیعت لیتے تھے تو اس میں شرک کے پہلو کو خاص طور پر سامنے رکھا کرتے تھے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بیعت عقبہ لی تو اس میں خاص طور پر زور دیا کہ ہمیشہ شرک سے بچے رہوگے۔ نہ چوری کروگے نہ زنا کروگے نہ اپنے بچوں کو قتل کروگے اور نہ تم کسی بہتان کا ارتکاب کروگے اور معروف باتوں میں میری نافرمانی نہ کروگے۔ جس نے تم میں سے اپنا عہد پورا کیا اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جس نے اس میں سے کسی گناہ کا ارتکاب کیا اور اس کو اسی دنیا میں سزا دی گئی تو یہ اس کیلئے کفارہ ہے اور جس کی اللہ نے پردہ پوشی کی اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔ اس لئے ہمیشہ اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ ہم سے کوئی ایسی بات سرزد نہ ہو جو ہمیں عہد بیعت سے ہٹانے والی ہو۔ ہم نے ہمیشہ اس بات کا عہد کیا ہے اور اس کو ہمیں ہر حال میں پورا کرنا ہے۔
شرک کے خاتمہ کے حوالہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی حالت یہ تھی کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا(الکھف : 111) یعنی میں تمہاری طرح ایک بشر ہوںمیری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے پس جو کوئی اپنے رب کی لقا چاہتا ہے وہ بھی نیک عمل بجالانے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود تو شرک سے مکمّل پرہیز کرنے والے تھے۔ یہ تعلیم دراصل ہمارے لئے ہے کہ جب مَیں شرک سے بچتا ہوں تو تم کو بھی شرک سے بچنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں قرآن شریف اس تعلیم کو پیش کرتا ہے جس کے ذریعہ اور جس پر عمل کرنے سے اسی دنیا میں دیدار الٰہی میّسر آسکتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے
مَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًایعنی جو شخص چاہتا ہے کہ اسی دنیا میں اس کو دیدار الٰہی نصیب ہو جائے جو حقیقی خدا اور پیداکنندہ ہے تو چاہئے کہ وہ ایسے نیک عمل کرے جس میں کسی قسم کا مفاد نہ ہو یعنی عمل اس کے نہ لوگوں کے دکھلانے کیلئے ہوں نہ ان کی وجہ سے دل میں تکبر پیدا ہو کہ مَیں ایسا ہوں اور ایسا ہوں اور نہ وہ عمل ناقص اور ناتمام ہوں اور نہ ان میں کوئی ایسی بدبو ہو جو محبتِ ذاتی کے برخلاف ہو بلکہ چاہئے کہ صدق او روفاداری سے بھرے ہوئے ہوں اور ساتھ اس کے یہ بھی چاہئے کہ ہر ایک قسم کے شرک سے پرہیز ہو۔ سورج نہ چاند نہ آسمان کے ستارے نہ ہوا نہ آگ نہ پانی نہ کوئی اور زمین کی چیز معبود ٹھہرائی جائے اورنہ دنیا کےاسباب کو ایسی عزت دی جائے اور ایسا ان پر بھروسہ کیا جائے کہ گویا وہ خدا کے شریک ہیں اور نہ اپنی ہمت اور کوشش کو کچھ چیز سمجھا جائے کہ یہ بھی شرک کی قسموں میں سے ایک قسم ہے بلکہ سب کچھ کرکے یہ سمجھا جائے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا اور نہ اپنے علم پر غرور کیا جائے اور نہ اپنے عمل پر ناز کیا جائے بلکہ اپنے تئیں فی الحقیقت جاہل سمجھیں اور کاہل سمجھیں اورخداتعالیٰ کے آستانے پر ہر ایک وقت رُوح گری رہے اور دعاؤں کے ساتھ اس کے فیض کو اپنی طرف کھینچا جائے۔‘‘
اسی طرح آپ نے فرمایا:
نیک عمل کی مثال ایک پرند کی طرح ہے اگر صدق اور اخلاص کے قفس میں اُسے قید رکھوگے تو وہ رہے گا ورنہ پرواز کرجائے گا اور یہ بجز خدا کے فضل کے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًاعمل صالح سے یہاں یہ مُراد ہے کہ اس میں کسی قسم کی بدی کی آمیزش نہ ہو صلاحیت ہی صلاحیت ہو نہ عُجب ہو نہ کبر ہو نہ نخوت ہو نہ تکبر ہو نہ نفسانی اغراض کا کوئی حصہ ہو نہ رُو نجلق ہو حتّٰی کہ دوزخ اور بہشت کی خواہش بھی نہ ہو صرف خدا کی محبت سے وہ عمل صادر ہو جب تک دوسری کسی قسم کی غرض کو دخل ہے تب تک ٹھوکر کھائے گا اور اس کا نام شرک ہے۔
پس شرک سے بچنے کا یہ وہ معیار ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔ جب یہ حالت ہوگی انسان حقیقی موحد کہلائے گا۔ خدا تعالیٰ خالص حصہ چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اس کو سب سے زیادہ غضبناک بناتا ہے۔ خدا فرماتا ہے سب گناہ معاف کروں گا لیکن شرک کو معاف نہیں کروں گا۔ اس ضمن میں حضور انور نے فرمایا بعض احمدی عورتیں جو مغربی دنیا میں آکر پردہ کرنا چھوڑ دیتی ہیں وہ اپنے ذوق یا دنیا کے خوف سے پردہ اُتار دیتی ہیں وہ بھی مخفی شرک میں گرفتار ہیں۔ فرمایا اس میں مردو ںکا بھی دخل ہے۔ وہ بھی بعض دفعہ عورتوں کو مجبور کرتے ہیں۔ فرمایا تم توکل اختیار کرو پھر تمہیں بہت کچھ ملے گا تب ہی ہم اپنے مقصد بیعت کو پورا کرسکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ ہے کہ وہ آپ کو فتوحات دے گا اور ضرور دے گا لیکن اگر ہم نے اس کا حصہ بننا ہے تو ہمیں بھی چاہئے کہ ہم بھی خالص ہو کر اللہ کی توحید کا اعلان کرنے والے بنیں اوراس پر عمل کرنے والے بنیں اور اپنی عبادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے بنیں اور اپنی ظاہری حالتوں کو ایسا بنائیں کہ ہلکا سا بھی شرک کا شائبہ نظر نہ آئے۔
فرمایا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ایک مقام پر فرماتے ہیں اے احمدی قوم خدا تمہارا رشتہ دار نہیں ہے شرک سے پرہیز کرو اور عبادت کرو تاکہ خدا تمہارا نگہبان ہوجائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شرک کے خلاف جہاد کے لئے بھیجا ہے۔
حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں شرک کے علاوہ دیگرشرائط بیعت کے حوالہ سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہرقسم کے فساد سے بچنے اور جھوٹ سے بچنے کی بھی نصیحت فرمائی ہے ۔ ہر احمدی کے لئے ہر قسم کے فتنہ و فساد اور جھوٹ سے بچنا ضروری ہے اور یہ احمدیوں کی ذمہ داری ہے کہ شرک اورفساد اور جھوٹ کے خلاف جہاد کریں۔ اسی طرح حضور نے بدنظری سے بچنے کی بھی تلقین فرمائی۔ فرمایا بدنظری سے بچوگے تو بہت سی ٹھوکروں سے بچے رہوگے۔ فرمایا باجماعت نمازوں اور نماز تہجد کی طرف بھی توجہ کرنا ضروری ہے۔ ذکر الٰہی کی طرف توجہ کریں۔ تسبیح و تحمید اور درود شریف کا ورد کرتے رہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خلق اللہ کے ساتھ عمومی حسن سلوک کرنے کی بھی نصیحت فرمائی ہے۔ دلوں کو صاف کرو اور بنی نوع انسان سے ہمدردی اختیار کرو۔ اللہ تعالیٰ ہم کو مقصدِ بیعت کو پورا کرنے اور اپنی عملی زندگیوں کو سُدھارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین