اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-27

جلسہ سالانہ میں شرکت کرنے والوں کے لئے صداقتِ احمدیت کا چمکتا ہؤا نشان

آنحضرت ﷺنے دور آخر میں امام مہدی و مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی خوشخبری عطا فرمائی تھی اور اس کے زمانہ میں بہت سے چمکتے ہوئے نشانوں کے ظاہر ہونے کا وعدہ بھی فرمایا تھا جو کہ آپ علیہ السلام کے زمانہ میں ظاہر ہوچکے ہیں۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ سچے امام مہدی کی نشانی یہ ہوگی کہ اس کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند گرہن لگے گا جو چاند گرہن کی معینہ تاریخوں میں پہلی رات کو اور رمضان کے ہی مہینہ میں سورج گرہن کی معینہ تاریخوں میں سے درمیانے دن میں لگے گا۔ الحمداللہ کہ یہ نشان 1894ء میں پورا ہوچکا ہے۔
اسی طرح آپؐنے فرمایا کہ آنے والے امام مہدی کو جب لوگ قبول نہیں کریں گے اور گستاخی کریں گے تو عذاب کے طور پر اس کے زمانہ میں پلیگ بھی پھوٹے گی۔ چنانچہ یہ پلیگ 1902 ء میں پھوٹی جس میں لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنے۔ آپ علیہ السلام نے پلیگ کے پھوٹنے پر فرمایا کہ میرے خدا نے مجھے ٹیکہ لگانے سے منع فرما دیا ہے اور میں باوجود ٹیکہ نہ لگانے کے پلیگ سے محفوظ رہوں گا اور میرے مخالف اور دشمن پلیگ سے ہلاک ہوں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے بہت سے معاندین پلیگ سے ہلاک ہوئے اور آپ باوجود ٹیکہ نہ لگانے کے محفوظ رہے۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ سچے امام مہدی کی ایک نشانی یہ ہوگی کہ اس کے زمانہ میں صلیب کے باطل خیال کثرت سے پھیل جائیں گے اور آنے والا امام مہدی صلیب کے باطل خیالات کی پُرزور تردید کرے گا۔ چنانچہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام جب تشریف لائے تو انگریزوں کی عیسائی حکومت کا ایک بڑی دنیا پر قبضہ تھا اور وہ صلیبی خیالات کو اور مسیح کے خدا ہونے اور آسمان پر زندہ ہونے کے دعویٰ کو اپنے پادریوں کے ذریعہ پوری دنیا میں پھیلا رہے تھے۔ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے قرآن مجید کے روشن دلائل سے حضرت مسیح علیہ السلام کی موت کا اعلان کرکے عیسائیوں کے تمام باطل خیالات کو نیست و نابود کردیا اور یہی آپ کی صداقت کی عظیم الشان دلیل ہے۔
آنحضرت ﷺ نے سچے امام مہدی کی ایک نشانی یہ بھی بتائی تھی کہ اس کے زمانہ میں اونٹ، بکریاں او رشیر ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے۔ آج یہ نشان بھی پورا ہوچکا ہے کہ اونچی ذات کے وہ لوگ جو خود کو شیر سمجھتے رہے ہیں اور نیچی ذات کے لوگوں کو بکریاں سمجھ کر ان پر ظلم کرتے رہے آج کے قانون کے مطابق سب برابر حقوق کے مالک ہیں اور سب اکٹھے کھاتے پیتے ہیں۔
حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کے وہ نشان جو آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائے ہیں بے شمار ہیں او رجو آج چمکتے ہوئے سورج کی طرح پورے ہوچکے ہیں۔
آج کی اس گفتگو میں ہم آنحضرت ﷺ کے بیان فرمودہ ایک اور نشان کاذکر کریں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ:
سچے امام مہدی کی ایک نشانی یہ ہوگی کہ اس کے زمانے میں اس پر مشرق میں ایمان لانے والے اپنے مغرب میں رہنے والے بھائیوں کے چہرے دیکھا کریں گے اور مشرق میں رہنے والے اپنے مغرب میں رہنے والے بھائیوں کے چہرے دیکھیں گے۔ اس پیشگوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ سچے امام مہدی کے زمانہ میں اس کے ماننے والے تمام دنیا میں مشرق، مغرب اور شمال، جنوب میں پھیل جائیں گے اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکیں گے۔ فرمایا :
اِنَّ الْمُوْمِنَ فِیْ زَمَانِ الْقَائِمِ وَ ھُوَ بِا الْمَشْرِقِ لَیَرَی اَخَاہُ الَّذِیْ فِی الْمَغْرِبِ وَکَذَالَّذِیْ فیِ الْمَغْرِب یَرَی اَخَاہُ الَّذِیْ فیِ الْمَشْرِقِ (بحار الانوار شیخ باقر المجلسی باب 27 صفحہ 441)
ترجمہ: یعنی امام مہدی کے زمانہ میں جومومن بھائی مشرق میں ہوگا وہ اپنے مغرب میں رہنے والے بھائی کو دیکھ سکے گا اسی طرح جو مغرب میں رہتا ہوگا وہ اپنے مشرق میں رہنے والے بھائی کو دیکھ سکے گا۔
اسی طرح عقد الدر فی اخبار المنتظر الفصل الثالث صفحہ 171 مطبوعہ اُردن میں لکھا ہے:
عَنْ مُحَمَّدْ اِبْنِ عَلی الْبَاقِرْ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَالَ یُنَادِی مُنَادٍ مِنَ السَّمَآءِ بِاِسْمِ الْمَھْدِی فَیَسْمَعُ مَنْ بِالْمَشْرِقِ وَمَنْ بِالْمَغْرِبِ حَتّٰی لَا یَبْقیٰ رَاقِدً اِلَّا اسْتَیْقَظْ
یعنی محمد ابن علی الباقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ کہ ایک پکارنے والا آسمان سے امام مہدی کا نام لے کر پکارے گا اس آواز کو ہر وہ شخص سُنے گا جو مشرق میں ہے اور جو مغرب میں ہے۔ یہاں تک کہ ہر سونے والا جاگ جائے گا۔
الحمدللہ کہ یہ پیشگوئی بھی حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے زمانہ میں پوری ہوچکی ہے اور ایک عرصہ سے پوری ہورہی ہے۔ جلسہ ہائے سالانہ کے موقع پر دنیا دیکھتی ہے کہ امام جماعت احمدیہ عالمگیر حضرت مرزا مسرور احمد جب خطاب فرماتے ہیں تو دنیا کے کئی ممالک کے احمدی اورغیراحمدی ایم ٹی اے کے ذریعہ ایک دوسرے کا دیدار کررہے ہوتے ہیں۔ ابھی گزشتہ جلسہ سالانہ U.K کے موقع پر کئی ممالک کے احمدی ایک دوسرے کا دیدار کررہے تھے۔
پس نہایت آب و تاب سے پوری ہونے والی آنحضرت ﷺ کی یہ پیشگوئیاں ہر انصاف پسند مسلمان کو دعوت دیتی ہیں کہ وہ اپنے پیارے نبی حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کی بیان فرمودہ ان پیشگوئیوں کے ذریعہ آپ ﷺ کی ظاہر ہونے والی صداقتوں پر غور کرے ۔ اور خدا کے حضور حاضر ہونے سے پہلے پہلے ان پر ایمان لاکر اور آنحضرت ﷺ کی خواہش کے مطابق کہ جب وہ سچاامام مہدی آجائے تو خواہ تم کو برف کے پہاڑوں پر گھٹنوں کے بل بھی اُس کے پاس جانا پڑے تو ضرور جانا اور اس کی بیعت کرنا۔ (ابو داؤد) آنحضرت ﷺ کے فرمان پر عمل کریں۔
بالآخر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے درج ذیل اقتباس کو پیش کرکے اس گفتگو کو ختم کیاجاتا ہے۔ یہ اقتباس بھی دراصل حضور اقدس کی سچائی کی ایک زبردست دلیل ہے یہ اقتباس اس کتاب سے لیا گیاہے جو حضور انور نے 1890 ء میں تصنیف فرمائی تھی جبکہ ابھی وہ تمام نشانات ظاہر نہیں ہوئے تھے جن کا ذکر اوپر کیاگیا ہے اور نہ ہی مشرق و مغرب میں آپ کے ماننے والے موجود تھے۔ اب جبکہ پوری دنیا میں احمدیت پھیل گئی ہے اور ایشیا اور یورپ اور امریکہ کے دلوں میں یہ نور اتر چکا ہے۔ اس اقتباس کے پڑھنے والے خود ہی آپ کی صداقت کے نشان کو سمجھ لیں۔
آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:
چونکہ یہ عاجز راستی اور سچائی کے ساتھ خداتعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اس لئے تم صداقت کے نشان ہر ایک طرف پاؤگے۔ وہ وقت دور نہیں بلکہ بہت قریب ہے کہ جب تم فرشتوں کی فوجیں آسمان سے اُترتی اور ایشیا اور یورپ اور امریکہ کے دلوں پر نازل ہوتی دیکھوگے ... سو تم اس نشانی کے منتظر رہو۔‘‘ ( فتح اسلام صفحہ 13 حاشیہ )
؎ اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہو خوف کردگار