اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-13

آؤ قادیان چلیں !

قادیان دارالامان میں اس وقت جلسہ سالانہ کی تیاریاں زوروں پر ہیں اور دوسری طرف ہر احمدی کا دل بھی جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لئے پُرجوش رضاکاروں کی طرح دھڑک رہا ہے۔ بڑے، بچّے، عورتیں یہاں تک کہ عمر رسیدہ احباب بھی نہایت بے چینی سے جلسہ کے انتظار میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کےلئے آسانی پیدا فرمائے اور بخیروعافیت جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کرنے اور شعائراللہ کی برکات سے بھرپور استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
امسال جلسہ سالانہ قادیان حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے 26،27،28 دسمبر بروز جُمعہ ، ہفتہ، اتوار منعقد ہورہا ہے۔ اس للّہی جلسہ کے متعلق سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے:
’’ اس جلسے کو معمولی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بُنیاد ہے اس کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔ ‘‘ (اشتہار 07 ؍ دسمبر 1891 ء)
اسی طرح آپؑنے فرمایا:
’’ حتی الوسع تمام دوستوں کو محض للہ ربّانی باتوں کے سُننے کیلئے اور دُعا میں شریک ہونے کیلئے اس تاریخ پر آجانا چاہئیے اور اس جلسہ میں ایسے حقائق و معارف کے سُنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کےلئے ضروری ہیں اور نیز ان دوستوں کیلئے خاص دعائیں اور خاص توجہ ہوگی اور حتی الوسع بدرگاہ ارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خداتعالیٰ اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی ان میں بخشے۔ ‘‘
نیز فرماتے ہیں:
’’ ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہوگا کہ یہ ہر ایک نئے سال جسقدر نئے بھائی اس جماعت میں داخل ہونگے وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہوکر اپنے پہلے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گے اور روشناس ہوکر آپس میں رشتہ تودد و تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا اور یا جو بھائی اس عرصہ میں اس سرائے فانی سے انتقال کرجائے گا اس جلسہ میں اس کے لئے دعائے مغفرت کی جائے گی ۔ اور تمام بھائیوں کو ایک کرنے کیلئے اور ان کی خشکی اور اجنبیت اور نفاق کو درمیان سے اُٹھا دینے کے لئے بدرگاہ عزت جل شانہ‘ کوشش کی جائے گی۔ اس روحانی جلسہ میں اور بھی کئی روحانی فوائد اور منافع ہوں گے جو انشاء اللہ القدیر وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گے۔ ‘‘ (آسمانی فیصلہ صفحہ 9-10)
اس مبارک جلسہ کے مہمانوں کیلئے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنفسِ نفیس قربانیاں پیش کی ہیں۔ ابتدائی جلسہ سالانہ میں جن دنوں حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ کے ذمہ جلسہ سالانہ کی ذمہ داری تھی ایک مرتبہ جلسہ کے مہمانوں کے لئے اخراجات کی کمی ہوگئی۔ چنانچہ حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے خُسر محترم تھے حضور علیہ السلام کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا کہ کل کے روز جلسہ کے مہمانوں کی تواضع کےلئے خرچ نہیں ہے۔ حضور اقدس نے فرمایا کہ گھر سے بیوی صاحبہ (یعنی حضرت اُم المؤمنین نصرت جہاں بیگم صاحبہ زوجہ محترمہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام) سے اُن کا زیور لے کر فروخت کر لیں اور جلسہ کے مہمانوں کیلئے انتظام کرلیں۔ چنانچہ حضرت میر صاحب نے زیور لے کر فروخت کیا اور جلسہ کے مہمانوں کا انتظام کیا۔ حضرت میر صاحب نے اگلے روز پھرعرض کیا کہ زیور فروخت کرکے جسقدر رقم ملی تھی اس سے صرف ایک دن کا خرچ ہوسکا ہے اور مہمانوں کا ایک روز کا خرچ پورا ہوگیا ہے۔ اب اگلے روز کےلئے پھر ضرورت ہے۔ اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ جسقدر ہمارے پاس گنجائش تھی ہم نے خرچ کیا ہے۔ اب ہمارے پاس بھی گنجائش نہیں ہے۔ جس کے مہمان ہیں وہ خود ہی انتظام کرے گا۔ اس روایت کے راوی حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی فرماتے ہیں کہ اگلے روز ڈاکیہ آیا جس کے پاس کچھ منی آرڈر تھے جن میں تحریر تھا کہ ہم باوجود خواہش کے جلسہ سالانہ میں حاضر نہیں ہوسکے لہٰذا مہمانوں کی خدمت کیلئے یہ رقم بھجوائی جارہی ہے۔ حضور علیہ السلام نے حضرت میر صاحب کو بلوایا اور انہیں وہ منی آرڈر پکڑاتے ہوئے توکل علی اللہ پر تقریر فرمائی اور فرمایا کہ جسقدر ایک دنیادار کو اپنے نوٹوں سے بھرے ہوئے صندوق پر بھروسہ ہوتا ہے اس سے کہیں بڑھ کر مجھے خداتعالیٰ کی ذات پر بھروسہ ہے۔
اسی طرح حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جلسہ پر اس قدر مہمان آئے کہ جلسہ کے مہمانوں کیلئے بستروں کی کمی پڑ گئی۔ جلسہ کے رضاکاران نے تمام گھروں سے لحاف اکٹھے کئے اور حضور علیہ السلام کے گھر سے بھی رضاکار تمام لحاف لے گئے یہاں تک کہ حضور علیہ السلام کے لئے اور اہل خانہ کیلئے بھی کوئی لحاف نہ بچا۔ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی فرماتے ہیں کہ میں حضور علیہ السلام کےگھر میں حاضر ہوا۔ دیکھا کہ حضور کےپاس کوئی لحاف نہیں ہے اور آپکے ایک صاحبزادہ غالباً حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب تھے جو ایک اوور کوٹ اوڑھے پڑے ہیں۔ اس پر انہوں نے رضاکاران کو ڈانٹا اور کہا کہ آپ لوگوں نے حضور علیہ السلام اور اہل خانہ کے اوڑھنے کیلئے بھی کوئی لحاف نہیں چھوڑا۔ رضاکاران نے کہا کہ جن کو اوڑھنے کے لئے دے دیا گیا ہے اب ان سے بھی واپس لینا مشکل ہے۔ بہت مشکل سے کہیں سے ایک لحاف لا کر حضور کی خدمت میں دیا گیا تو حضور نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کردیا کہ مجھے تو نیند نہیں۔ آتی رات تو کسی طرح گزر جائے گی۔ یہ لحاف بھی کسی اور مہمان کو دے دیا جائے۔ چنانچہ وہ لحاف بھی کسی اور مہمان کو دے دیا گیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے نزدیک جلسہ کے مہمانوں کی کس قدر اہمیت تھی۔ حضور علیہ السلام جلسہ کے مہمانوں کو اپنا مہمان سمجھتے تھے۔ حضور علیہ السلام کی سیرت کے اس پہلُو سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں جلسہ سالانہ کے مہمانوں کی خدمت کو کتنی اہمیت دینی چاہئے کہ خدا کا مسیح بھی ان کو خود پر مقدم کرتا ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے شاملین جلسہ کیلئے جو دُعائیں کی ہیں ان پر اس گفتگو کو ختم کیا جاتا ہے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ہر ایک صاحب جو اس لِلّہی جلسہ کیلئے سفر اختیار کریں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجر عظیم بخشے اور ان پر رحم کرے اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پر آسان کردیوے اور انکے ہم و غم دور فرما دے اور ان کو ہر ایک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے اور ان کی مرادات کی راہیں ان پر کھول دیوے اور روزِ آخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اُٹھاوے جن پر اس کا فضل و رحم ہے اور تا اختتام سفر ان کے بعد ان کا خلیفہ ہو اے خدا اے ذوالمجد و العفاء ! اے رحیم و مشکل کشا یہ تمام دُعائیں قبول کر اور ہمیں ہمارے مخالفوں پر روشن نشانوں کے ساتھ غلبہ عطا فرما کہ ہر ایک قوّت اور طاقت تجھی کو ہے آمین ثم آمین (اشتہار 7 ؍ دسمبر 1892 ء)
اللہ تعالیٰ ہم سب کے حق میں سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ دُعائیں قبول فرمائے۔ اور جلسہ کے تمام پروگرام کو بالخصوص حضرت اقدس امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطاب کو جو ایم ٹی اے پر لائیو نشر ہوگا سُننے اور اس پر دل و جان سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔