اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-06

آسمانی دودھ!

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا:
’’آسمان سے بہت دودھ اترا ہے محفوظ رکھو‘‘
حضور علیہ السلام اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یعنی معارف و دقائق کا دودھ ۔علم تعبیرا لرئویاء میں دودھ سے مراد علم و معرفت ہے۔ نیز دودھ سے مراد فطرت صحیحہ بھی ہے۔ معراج کے کشف میں مذکور ہے کہ حضرت جبرائیل نے آپ کو تین پیالے پیش کئے جن میں سے ایک پانی کا، ایک دودھ کا اور ایک شراب کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ لے کر پی لیا تو جبرائیل نے کہا کہ آپ نے فطرت صحیحہ کو پالیا۔
(ابن جریر بروایت انس بن مالکؓ بحوالہ تفسیر کبیر ،تفسیر سورہ بنی اسرائیل)
اس روحانی دودھ کو اللہ تعالیٰ نے رحمت کے لفظ سے بھی یاد کیا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا۔
یَا اَحْمَدُ فَاضلت الرَّحْمَۃ علٰی شَفَتَیْکَ کَلَامٌ
اَفْصِحَتْ مِنْ لَّدُنْ رَبّ کَرِیْم(تذکرہ صفحہ 558)
اے احمد اللہ نے تیرےہونٹوں پررحمت کو جاری کیا ہے ۔ تیرے کلام کو خدا کی طرف سے فصاحت بخشی گئی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی تصنیف لطیف ’’ضرورۃ الامام ‘‘میں امام الزمان کے روحانی قویٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے علوم الٰہی میں اس کو کمال عطا کیا جاتا ہے اور اسکے زمانے میں کوئی دوسرا ایسا نہیں ہوتا جو قرآنی معارف کے جاننے اور کمالات افاضہ اور اتمام حجت میں اسکے برابر ہو۔ نیز فرمایا جس طرح مرغی انڈوں کو اپنے پروں کے نیچے لے کر ان کو بچے بناتی ہے اور پھر بچوں کو پروں کے نیچے رکھ کر اپنے جوہر ان کے اندر پہنچا دیتی ہے اسی طرح یہ شخص اپنے علوم روحانیہ سے صحت یابوں کو علمی رنگ سے رنگین کرتا رہتا ہے اور یقین اور معرفت میں بڑھاتا جاتا ہے۔ (خلاصہ عبارت ضرورۃ الامام)
محترم قارئین ! اسی سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اس دور میں خلافت علیٰ منہاج نبوت کے ذریعہ جاری ہونے والے ارشادات واحکامات کی کیا قدر و قیمت ہے۔ پس اس روحانی دودھ کو جب بھی وہ حاصل ہواور خلیفہ وقت کے لبوں سے جاری ہو اوّلین فرصت میں سننا اور اسکو جزوبدن بنانا ہمارے لئے کس قدر ضروری ہے۔ پس خواہ اخبار بدر کے ذریعہ پہنچائے گئے ارشادات ہوں اور یا ایم ٹی اے کے ذریعہ موصولہ ارشادات ہوں ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کو فوری سنا جائے ۔ غور سے سنا جائے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق ملنے کیلئے دعا بھی کی جائے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر فرمایاتھا:
’’خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے اور جب تک کہ یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں ،تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں نا کام ہیں‘‘۔
(خطبہ جمعہ 24جنوری 1936ء مندرجہ الفضل 31 جنوری 1936)
الحمدللہ کہ یہ روحانی دودھ اس وقت اخبار بدر کی شکل میں بھی ہر ہفتہ احباب جماعت ہندوستان کے گھروں میں انکی اپنی اپنی زبانوں میں پہنچایا جا رہا ہے جو ایک روحانی دسترخوان کی طرح ہوتا ہے اور جس میں قرآن و حدیث اور ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ساتھ حضرت امیر المومنین کا تازہ خطبہ جمعہ بھی ہوتا ہے۔ اگرچہ آپ یہ خطبہ ایم ٹی اے پر سن بھی چکے ہوتے ہیں لیکن تحریری طور پر لکھا ہوا مواد پڑھنا ،اس کو سمجھنا اور دوسروں کو سمجھانا آسان ہوتا ہے۔
لہذا مبلغین و معلمین کرام اور عہدیداران جماعت جن کا فرض ہے کہ وہ احباب جماعت کو حضرت امیر المومنین کے ارشادات سمجھائیں ان کیلئےضروری ہے کہ پہلے وہ از خود لکھے ہوئے ارشاد کو غور سے پڑھیں اور پھر سمجھ کر دوسروں کو بھی سمجھائیں۔ بدر کے شمارہ میں حضرت امیر المومنین کے ارشادات کو مختلف طرزوں سے سمجھایا جاتا ہے۔ خطبہ جمعہ ،پھر خطبہ جمعہ کا خلاصہ، خطبہ جمعہ بطرز سوال وجواب اورآن لائن ملاقاتیں جن میں مختلف النوع سوالات کے جوابات ہوتے ہیں۔
پس چاہئے کہ ہم اس خزانہ کی قدر کریں اور جو مال امام مہدی علیہ السلام لٹانےآئے ہیں اس کو قبول کرنے والے بنیں اور ان ناشکروں میں سے نہ بنیں جن کے متعلق آتا ہے وَيَفِيْضُ الْمَالَ حَتَّي لَا يَقْبِلَهُ اَحَدٌ(ابن ماجہ) وہ مال تقسیم کرے گا لیکن لوگ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔
پس ضروری ہے کہ بالخصوص مبلغین، معلمین کرام، عہدیداران جماعت اور واقفین زندگی اس نعمت کی قدر کریں۔ خود بھی سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھانے کی کوشش کریں اور تبلیغ و تربیت کے میدان میں اس سے بھرپور مدد حاصل کریں ۔ وَ بِاللہِ تَوْفِیْق
…٭…٭…٭…