اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-08-06

جلسہ سالانہ کی برکات اور الہاماتِ مسیحِ موعودؑ کی شاندار صداقت

الحمدللہ ثُم الحمد للہ کہ امسال یوکے میں جماعت احمدیہ کا 60 واں جلسہ سالانہ شایان شان طریق پر منعقد ہوا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جب 1891ء میں قادیان کی مسجد اقصیٰ سے باذن الٰہی جلسہ سالانہ کی بُنیاد رکھی تھی تو فرمایا تھا:
یہ لِلّہی جلسہ ہے
اس جلسہ میں ایسے حقائق و معارف سُنائے جائیں گے جن سے ایمان اور یقین اور معرفت میں ترقی ہوگی
تائید حق اس جلسہ کو حاصل ہوگی
اس کی بُنیاد اعلائے کلمہ اسلام پر ہے
اللہ نے اس جلسہ کیلئے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں
ہر سال جو نئے بھائی شامل ہوں گے وہ اپنے پہلے بھائیوں سے تعارف حاصل کریں گے گویا یہ بھی پیشگوئی فرمادی کہ اس جلسہ میں سال بہ سال جماعت میں شامل ہونے والوں کا اضافہ ہوتا چلا جائے گا
اس روحانی جلسہ میں اور بھی کئی روحانی فوائد اور منافع ہوں گے جو انشاء اللہ القدیر وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گے (آسمانی فیصلہ)
قادیان دارالامان میں پہلا جلسہ سالانہ 1891ء میں نہایت مخالفانہ ماحول میں شروع ہوا کہ جب کہ ملک کے طول و عرض کے کئی مولویوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر کفر کے فتوے لگائے تھے اور اب امسال قادیان دارالامان میں 131واں واں جلسہ سالانہ منعقد ہورہا ہے۔
اگرچہ اس جلسہ کی شاخیں قادیان سے نکل کر ربوہ سے ہوتی ہوئی اب دنیا کے بیسیوں ممالک میں پھیل چکی ہیں او رحضرت مصلح موعود رضی اللہ کے زمانہ میں ہی دنیا کے کئی ملکوں میں جلسے ہونے شروع ہوگئے تھے جن میں بعد میں آنے والی مقدس خلافتوں کے دور میں ترقیات ہوتی رہیں۔ جن میں یہ جلسے نہ صرف دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلے بلکہ جماعت کے اپنے وسیع و عریض سنٹرز میں یہ جلسے منعقد ہورہے ہیںجہاں مہمانوں کے قیام و طعام کیلئے ہر طرح کی سہولتیں شامل ہیں۔ چنانچہ امسال یوکے میں منعقد ہونے والا 60 واں جلسہ سالانہ بھی جماعت کے اپنے مرکز میں جو کئی ایکڑ رقبہ پر محیط ہے اور جہاں جلسہ کیلئے تمام بُنیادی سہولتیں حاصل ہیں منعقد ہوا ہے۔ حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الخامس نے اس مرکز کا نام ’’ حدیقۃ المہدی‘‘ رکھا ہے یعنی مہدی علیہ السلام کا باغیچہ۔ امسال اس جلسہ سالانہ میں (117) ممالک کے (51181) افراد نے شرکت کی۔ یہ وسعت مکانی جو دنیا کے کئی ملکوں میں جماعت کو حاصل ہے یہ یقیناً یقیناً حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا نشان ہے۔ حضور علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا تھا مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘ اور یہ بھی فرمایا تھا وَسِّعْ مکانک اپنے مکان کو وسیع کر اور یہ بھی فرمایا تھا کثیر تعداد میں لوگ آپ کے پاس آئیں گے کہیں ان کی کثرت سے گھبرا نہ جانا۔ یہ الہام یقیناً اللہ کی طرف سے تھے۔ اگر نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سچّے نہ ہوتے تو اللہ کبھی ان الہامات کو پورا نہ کرتا بلکہ دنیا کے ممالک تو کیا قادیان سے بھی باہر نکلنے کی توفیق نہ دیتا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اس جلسہ کے اور بھی کئی فوائد ہیں جو آئندہ ظاہر ہوتے رہیں گے۔ ان میں سے ایک عظیم الشان فائدہ جو اس جلسہ کو حاصل ہے وہ یہ کہ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے دستِ مبارک پر ہر سال لاکھوں افراد بیعت کرکے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کے متعلق بزرگان سلف کی ایک پیشگوئی بھی تھی کہ امام مہدی کی بیعت کے وقت آسمان سے آواز آئے گی کہ یہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے اس کی سنو اور اسکی اطاعت کرو۔ چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق امسال بھی مزید دو لاکھ ستاسٹھ ہزار پانچ صد چھیانوے افراد نے بیعت کی سعادت حاصل کی۔ یہ افرادسیٹیلائیٹ کے ذریعہ بیعت میں شامل ہوئے اور دنیا بھر نے اُن کو ایم. ٹی. اے کی برکت سے بیعت کرتے ہوئے دیکھا اور دنیا بھر کے احمدیوں نے اور دیگر بیعت کرنے والوں نے اپنے اپنے مُلکوں میں بیٹھے ہوئے خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بیعت کی اور دنیا بھر کو یہ پیغام گیا کہ
ھٰذا خلیفۃ اللہ المھدی فاسمعولہ و اطیعوا
کہ یہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے اس کی سنو! اور اطاعت کرو!!
(قیامت نامہ حضرت شاہ رفیع الدین صاحب ؒ صفحہ 4)
امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ کے متعلق یہ پیشگوئی بھی تھی کہ ان کے ماننے والے پوری دُنیا میں پھیل جائیں گے۔ جو مشرق میں ہوگا وہ اپنے مغرب میں رہنے والے بھائی کو دیکھ لے گا اور جو مغرب میں رہائش پذیر ہوگا وہ مشرق میں رہنے والے کا چہرہ دیکھ لے گا۔ بحار الانوار جو شیعہ حضرات کی معروف کتاب ہے اس میں تحریر ہے :
’’ان المؤمن فی زمان القائم و ھو بالمشرقِ لیری اخاہ الّذی فی المغرب وکذا الذی فی المغرب یری اخاہ الّذی فی المشرق۔‘‘
کہ امام مہدی کے زمانہ میں ایک شخص مشرق میں ہوگا وہ اپنے مغرب میں رہنے والے بھائی کو دیکھ لے گا اور جو مغرب میں ہوگا وہ مشرق میں رہنے والے کو دیکھ لے گا۔
(بحار الانوار شیخ محمد باقر مجلسی باب احوال القائم علیہ السلام)
الحمدللہ کہ آج یہ پیشگوئی ایم . ٹی. اے کے طفیل پوری ہوچکی ہے جبکہ جلسہ سالانہ U.K میں حاضرین کے علاوہ دُنیا بھر کے مُلکوں نے بذریعہ سیٹیلائٹ جلسہ میں شرکت کی اور حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطابات سے استفادہ کیا اور جلسہ میں بیٹھے ہوئے بھائیوں نے اپنے ان بھائیوں کو دیکھا جو مشرق و مغرب میں کسی بھی مُلک میں بیٹھے ہوئے تھے اور مشرق و مغرب میں بیٹھے ہوئے بھائیوں نے حضرت امیرالمؤمنین کو اور جلسہ سالانہ میں بیٹھے ہوئے احباب کو دیکھا اور ایسے ممالک کی تعداد 62 ہے جو 95 سنٹرز میں بیٹھ کر جلسہ کا پروگرام سن رہے تھے ۔حاضرین جلسہ ان کو دیکھ رہے تھےاور وہ حاضرین جلسہ کو دیکھ رہے تھےاور پوری ہونے والی پیشگوئی پر تسبیح و تحمید پڑھ رہے تھے ۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جب 1889ء میں بیعت لی تو بیعت کی اغراض کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ :
’’تمام تر کوشش اس بات کیلئے کریں کہ ان کی تمام برکات دنیا میں پھیلیں اور محبتِ الٰہی اور ہمدردی بندگانِ خدا کا پاک چشمہ ہریک دل سے نکل کر ایک جگہ اکٹھا ہوکر ایک دریا کی صورت میں بہتا ہوا نظر آئے۔‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ 460 )
آج یہ عبارت بھی جو پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے بفضلہ تعالیٰ خلافتِ احمدیہ کے ذریعہ پوری ہوچکی ہے۔ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ ہر سال دنیا بھر سے موصول ہونے والی جماعتی مساعی کی رپورٹوں کو جلسہ سالانہ کے موقع پر پیش کرتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ روحانی قول کہ محبت الٰہی اور ہمدردی’’ بندگان خدا کا پاک چشمہ ہریک دل سے نکل کر ایک جگہ اکٹھا ہوکر ایک دریا کی صورت میں بہتا ہوا نظر آئے۔‘‘ یہ دریا حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس خطاب کے ذریعہ بہتا ہوا نظر آیاجو حضور نے 25؍ جولائی کے آخری اجلاس میں ارشاد فرمایا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خلافت احمدیہ وہ عظیم رُوحانی مرکز ہے جہاں تمام سال افضال الٰہیہ کے چھینٹے ایک دریا کی شکل میں اکٹھے ہوتے ہیں اور پھر جلسہ سالانہ کے ایام میں حضور انور اس کو ایک بہتے ہوئے دریا کی شکل میں احباب جماعت کے قلوب میں اُنڈیل دیتے ہیں جس سے احباب جماعت بے اختیار تسبیح و تحمید میں مشغول ہوجاتے ہیں اور مخالفین میں سے بعض توبہ کرکے ہدایت کی طرف آجاتے ہیں اوربعض مخالفت کے کاروبار میں مزید بڑھ جاتے ہیں اور اپنی بدقسمتی کاشکار ہوجاتے ہیں۔
ذیل میں حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے بیان فرمودہ افضالِ الٰہیہ کے ان قطرات آب زلال میں سے چند آپ کی خدمت میں خلاصتہً پیش کئے جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:
’’ اس وقت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ پر دوران سال نازل ہونے والے افضالِ الٰہیہ کا مختصر خاکہ پیش کرتا ہوں:
دنیا بھر میں 398 نئی جماعتیں قائم ہوئیں اور 811 مقامات پر پہلی مرتبہ جماعت کا پودا لگا۔
دوران سال 172 مساجد حاصل ہوئیں جن میں سے 133 تعمیر کی گئیں اور 39 اللہ تعالیٰ نے بنی بنائی عطا فرمائیں۔
135 ممالک میں چھ لاکھ چھیالیس ہزار چار صد اکتالیس وقار عمل ہوئے جن سے 3 ملین یوایس ڈالر کی بچت ہوئی۔
113 ممالک سے آمدہ رپورٹ کے مطابق 353کتب فولڈر اور پمفلٹ 37 زبانوں میں شائع ہوئے۔
کتب روحانی خزائن میں سے 45 کتب کے 18 عالمی زبانوں میں تراجم ہوئے۔
اب تک 79 عالمی زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ امسال لتھوانیہ زبان میں ترجمہ شائع ہوا۔
مختلف ممالک میں 2587 فولڈرز چوالیس لاکھ باسٹھ ہزار چھ صد اڑتالیس کی تعداد میں پچپن لاکھ چوبیس ہزار پانچ صد پچھتّر افراد میں تقسیم ہوئے۔
دنیا بھر میں 108 ممالک میں 732 مرکزی لائبریریاں قائم ہیں۔
87 ممالک کی رپورٹ کے مطابق 3688 نمائشوں کے ذریعہ دس لاکھ سات ہزار سے زائد افراد تک پیغام پہنچا۔ سات لاکھ 14 ہزار بُک سٹال لگائے گئے۔
افریقہ کے سات ممالک میں پرنٹنگ پریس قائم ہوچکے ہیں۔ امسال یوگنڈا میں نیا پریس کُھلا ہے۔
وکالت تعمیل و تنفیذ کے تحت قادیان میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے احاطہ میں ہستی باری تعالیٰ کے موضوع پر نمائش تیار ہوئی ہے۔ اسی طرح قادیان میں مرکزی ریسرچ سیل بورڈ کا قیام عمل میں آیا ہے۔
بنگلہ ڈیسک، عربک ڈیسک، فرنچ ڈیسک، چینی ڈیسک، سپینش ڈیسک بہترین خدمت بجالارہے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جاری فرمودہ رسالہ ریویو آف ریلجنز کے ذریعہ کروڑوں لوگوں تک پیغام پہنچ رہا ہے۔ یہ رسالہ اب 124 ویں سال میں داخل ہوگیا ہے۔
ایم. ٹی. اے انٹرنیشنل کے 8 مرکزی چینل اور تین ریجنل چینل دنیا کے تمام کناروں تک پہنچ رہے ہیں۔ 28 زبانوں میں ایم .ٹی.اے کے پروگراموں کے تراجم ہورہے ہیں۔
افریقن ممالک میں 26 ریڈیو سٹیشن چل رہے ہیں۔ اسی طرح U.K سے وائس آف اسلام ریڈیو سٹیشن کامیابی سے جاری ہے۔
انٹرنیشنل احمدیہ آرکیٹکٹ ایسوسی ایشن کے ذریعہ مختلف ممالک میں 65 نلکے لگوائے گئے اور چار ممالک میں 17 سولر سسٹم لگوائے گئے۔
مجلس نصرت جہاں کے تحت افریقہ کے 14 ممالک میں 41 کلینک اور ہسپتال قائم ہیں۔
13 ممالک میں 620 پرائمری و مڈل سکول اور 80 سیکنڈری سکول چل رہے ہیں۔
ہیومینٹی فرسٹ کے ذریعہ 26 ممالک میں 30 قدرتی آفات میں دو لاکھ افراد کی امداد کی گئی جن میں غزہ کے ایک لاکھ پچیس ہزار افراد شامل ہیں۔
دوران سال 95 ممالک میں 54485 نو مبائعین سے رابطے ہوئے۔
دوران سال دو لاکھ ستسٹھ ہزار پانچ صد چھیانوے بیعتیں ہوئیں الحمدللہ علی ذالک۔
آخر پر حضور انور نے بیعت کرنے والوں کے بعض ایمان افروز واقعات بیان فرمائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔