اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-07-30

خطبات امیر المؤمنین میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان افروز تذکرے

خلافت خامسہ کا یہ مبارک دور سرور کائنات حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے خوبصورت تذکروں کے لحاظ سے نہایت اہم ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے حضور اقدس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ایمان افروز واقعات بیان فرماتے چلے جارہے ہیں۔ ان کی قربانیوں کے دلنشیں تذکرے سمجھاتے چلے جارہے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ ہم احمدی بھی اپنی زندگیوں میں روحانی تبدیلیاں پیدا کریں اور صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا یہ دَور بھی صحابہ کرام کا دور ہے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ساتھ ہے یہ درجہ عطا فرمایا ہے کہ وہ صحابہ کی جماعت سے ملنے والی ہے۔ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ مفسرین نے مان لیا ہے کہ یہ مسیح موعود والی جماعت ہے اور یہ گویا صحابہ کی ہی جماعت ہوگی۔ ‘‘

اسی طرح فرمایا:

’’ صحابہ کی جماعت اتنی ہی نہ سمجھو جو پہلے گذر چکے بلکہ ایک اور گروہ وہ بھی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے وہ بھی صحابہ ہی میں داخل ہے جو احمد کے بروز کے ساتھ ہوں گے۔ ‘‘

(تفسیر بیان فرمودہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ الجمعہ صفحہ 140)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے زمانہ مبارک میں اپنےصحابہ کرام کی روحانی تربیت و پرورش فرمائی اور آپ کے بعد آپ کے خلفائے عظام یہ فریضہ سَر انجام دیتے چلے آرہے ہیں اور خلافت خامسہ کے اس بابرکت دور میںحضرت اقدس خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لامثال قربانیوں کا تذکرے فرماکر ہمارے اندر بھی وُہی رُوح پھونکنے کی کوشش فرمارہے ہیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’آیت اٰخرین منھم میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جیسا کہ یہ جماعت مسیح موعود کی صحابہ رضی اللہ عنھم کی جماعت سے مشابہ ہے ایسا ہی جو شخص اس جماعت کا امام ہے وہ بھی ظلی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتا ہے جیسا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی موعود کی صفت فرمائی کہ وہ آپ سے مشابہ ہوگا۔ ‘‘

(ایام الصلح بحوالہ تفسیر بیان فرمودہ حضرت مسیح موعود ؑ تفسیر سورۃ الجمعہ صفحہ 132)

سیّدنا حضرت اقدس امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی شان میں ایک خطبہ جمعہ مورخہ 9؍ مارچ 2018ء کو ارشاد فرمایا تھا اس میں حضور انور نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا:

’’ یہ صدق و وفا اور اخلاص و مروّت دکھانے والوں کے نمونے ہمیں اس شان سے نظر آتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی نے نہ صرف ان کی محبتوں کے رُخ بدل دئے۔ پہلے محبتوں کے رُخ کسی اور طرف تھے پھر اور طرف کر دئے۔ دنیا سے خدا کی طرف کردئے بلکہ ان محبتوں کے پیمانوں کو وہ عُروج عطا کردیا وہ بلندیاں دے دیں جس کی مثال پہلے دنیا میں نہیں ملتی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس خوبصورتی سے اس عروج اور بُلندی کی مثال دی ہے کہ فرمایا کہ ان کے اس معیار محبت کی قربانی کی سابقہ انبیاء کی زندگی میں بھی مثال نہیں پائی جاتی اور جہاں تک نبیوں کے ماننے والوں کا سوال ہے تو ان کی شان کیا ان کی حالت تو صحابہ کے مقابلہ میں بہت گری ہوئی تھی۔ یہ صحابہ اپنی تمام نفسانی خواہشات سے پاک تھے صاف دل ہو کر اور اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہو کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے کے لئے اپنی زندگیاں گزارنے والے تھے اور جب یہ حالت ہو تو پھر خدا تعالیٰ بھی نوازتا ہے اور بےانتہا نوازتا ہے اور ہم صحابہ کی زندگی میں یہ باتیں دیکھتے ہیں۔‘‘ (بدر 05/12 اپریل 2018ء)

حضرت اقدس امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ لگاتار کئی سالوں سے صحابہ کرام کے حالات بیان فرما رہے ہیں اور اس کا مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں صحابہ کرام کا مثیل بنایا ہے۔ لہٰذا ہمارے اندر بھی وہی اخلاص اور وہی قربانی کا جذبہ ہونا چاہئے جو صحابہ کرام میں تھا۔ ہمارے دلوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے وہی عشق و محبت ہونا چاہئے جو صحابہ کرام کے اندر تھا اور جس عشق سے مجبور ہو کر وہ اپنی زندگیوں کی قربانی راہ خدا میں دیتے تھے۔

الحمد للہ کہ جماعت احمدیہ میں بہتیرے ایسے ہیں جو صحابہ کرام کے نقش قدم پر چل کر اپنے امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قربانیوں کی لامثال و لازوال یادگاریں چھوڑ رہے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں:

’’آخرین منھم کہہ کر جو خداتعالیٰ اس جماعت کو صحابہ سے ملاتا ہے تو صحابہ کا سا اخلاص اور وفاداری اورارادت اُن میں بھی ہونی چاہئے۔ صحابہ نے کیا کیا جس طرح پر انہوں نے خداتعالیٰ کے جلال کے اظہار کو دیکھا اس طریق کو انہوں نے اختیار کرلیا یہاں تک کہ اس راہ میں جانیں دے دیں وہ جانتے تھے کہ بیویاں بیوہ ہوں گی بچے یتیم رہ جائیں گے لوگ ہنسی کریں گے مگر انہوں نے اس امر کی ذرہ پرواہ نہ کی انہوں نے سب کچھ گوارا کیا مگر اس ایمان کے اظہار سے نہ رُکے جو وہ اللہ اور اس کے رسول پر لائے تھے۔ حقیقت میں ان کا ایمان بڑا قوی تھا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ (الحکم جلد نمبر 6 نمبر 40، 10 ؍ نومبر 1902ء صفحہ 3)

(بحوالہ تفسیر بیان فرمودہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تفسیر سورۃ الجمعہ صفحہ 150)

پس ضروری ہے کہ ہم حضرت اقدس امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ان خطبات کو بغور پڑھیں اور سُنیں جن میں آنحضرت ﷺ کی سیرت اورصحابہ کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے دلنشیں واقعات بیان ہو رہے ہیں تا کہ ہم بھی اپنے اندر وہی نمونے پیدا کرسکیں جو صحابہ کرام آنحضرت ﷺکے نمونے تھےکیونکہ ہم مسیح موعود پر ایمان لاکر صحابہ کی جماعت میں شامل ہیں اس اعتبار سے وہی قربانیاں ہمیں بُلا رہی ہیں۔ اور دنیا بھر میں ہمارے اکثر بھائی خلافت کے زیر سایہ ایسی قربانیاں پیش بھی فرمارہے ہیں۔ اللہ ہم سب کو بھی اس کی توفیق بخشے۔ آمین ۔

مسیح وقت اب دنیا میں آیا خدا نے عہد کا دن ہے دکھایا

مبارک وہ جو اب ایمان لایا صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا

وہی مے ان کو ساقی نے پلا دی فسُبحان الذی اخزی الاعادی