جلسہ سالانہ قادیان 2024 کے موقع پر شائع ہونے والے اخبار بدر کے خصوصی نمبر کیلئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ’’سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا پہلا دورہ یورپ 1924 اور اس کے برکات و ثمرات‘‘ کے عنوان کی منظوری مرحمت فرمائی ہے ۔اور باوجود بے انتہا مصروفیت کےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےاس خصوصی شمارہ کیلئے بصیرت افروز پیغام اور دستخط مبارک کے ساتھ اپنی تصویر بھی قارئین بدر کے لئے ارسال فرمائی ہے، اس کے لئے ہم حضور انور ایدہ اللہ کے بیحد ممنون ہیں اور حضور کے لئے دعا گو ہیں اَلّٰلھُمَّ اَیِّدْ اِمَامَنَا بِرُوحِ الْقُدُسِ وَبَارِکْ لَنَا فِیْ عُمُرِہٖ وَاَمْرِہٖ۔ ’بے انتہا مصروفیت ‘ کے الفاظ محض رسم کے طور پر ادا نہیں کئے گئے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ’’خلافت ایک مردم کُش عہدہ ہے،اس کا کام اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل اس کے ساتھ نہ ہو تو یقیناًایک قلیل عرصہ میں اس عہدہ پر متمکن انسان ہلاک ہو جائے مگر چونکہ خدا تعالیٰ اس عہدہ کا نگران ہے وہ اپنے فضل سے کام چلا دیتا ہے۔ ‘‘ پس ہمارا فرض ہے کہ ہم حضور انور کو باقاعدگی کے ساتھ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیںجس میں کہ سراسر ہماری اپنی ہی بھلائی ہے۔
سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ماہ جولائی 1924 میں قادیان سے یورپ کیلئے روانہ ہوئے اس طرح آپ کے اس سفر کو سو سال پورے ہوگئے جس پر ہمیں یہ خصوصی نمبر شائع کرنے کی سعادت مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے بابرکت کرے اور قارئین کیلئے ازدیادِ علم کا باعث بنائے۔ آمین۔
قادیان سے روانگی سے لیکر قادیان واپسی تک کا یہ سفر بہت وسیع بہت دلچسپ اور بہت ایمان افروز ہے۔ روانگی کے وقت دعاؤں اور حضور کی جدائی کا دلدوز نظارہ اور قادیان واپسی پر وصال کے مزے اور جشن کا ماحول ناقابل بیان ہے۔ حضور رضی اللہ عنہ نے سفر کے جو اغراض و مقاصدبیان فرمائے اور اس کی اہمیت پر جو روشنی ڈالی اور اس سفر کے نتیجہ میں احمدیت کی فتح و ظفر کی جو بنیاد پڑی اور جو کامیابی ملی اور جماعت کو جو شہرت حاصل ہوئی اور چند دنوں میں جوسالوں کی تبلیغ ہوئی، ان سب کا بیان حضوررضی اللہ عنہ کی زبان مبارک سے بہت ہی ایمان افروز ہے۔اس سفر کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی پوری ہوئی، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی اور رؤیا پوری ہوئی، خود سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی رؤیا پوری ہوئی۔ کئی جلسے ہوئے جس میں حضور رضی اللہ عنہ نے لیکچر دئیے، کئی اجتماعی ملاقاتیں ہوئیں جس میں آپؓنے اسلامی تعلیمات بیان فرمائیںاہل لندن کو ، اور لندن کے نو مسلموں کو رُوحانی و آسمانی پیغام دیا۔ مسجد فضل لندن کا سنگ بنیاد رکھا۔ کئی ممالک کے حالات اور تبلیغ کے مواقع کا جائزہ آپؓنے لیا۔
رُودادِ سفر کی وسعت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ حضور رضی اللہ عنہ کے اس سفر پر پیغامیوں نےبہت سارے اعتراضات کئےجن کے جواب میں بہت سارے مضامین الفضل میں شائع ہوئے۔اور ایک بہت ہی خوبصورت اور پُرلطف پہلو یہ بھی ہے کہ دلچسپ اور ایمان افروز نظموں کا ایک سلسلہ چلتا رہا۔ حضور کی جدائی اور روانگی پر الوداعیہ نظمیں، آپ کی آمد کی خوشی میں استقبالیہ نظمیں، آپؓکی جدائی میں ایک طرف ہجروفراق مہجوری و محرومی اور داستان غم و الم کی نظمیں،تو دوسری طرف ولایت میں اسلامی یلغار کی خوشی میںولولہ انگیز نظمیں۔ لندن میں مسجد کی سنگ بنیاد رکھنے کی خوشی میں نظمیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے قادیان اور اہل قادیان کی جدائی میں اور قادیان کی شان میں دوران سفر ایک بہترین نظم لکھی جس کے دو اشعار ذیل میں درج ہیں۔ آپؓفرماتے ہیں :
خیال رہتا ہے ہمیشہ اس مقام پاک کا
سوتے سوتے بھی یہ کہہ اٹھتا ہوں ہائے قادیاں
آہ کیسی خوش گھڑی ہوگی کہ بانیل مرام
باندھیں گے رخت سفر کو ہم برائے قادیاں
اس کے جواب میںحضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا نے بھی کیا خوب نظم کہی کہ جتنی بار پڑھو پیاس نہیں بجھتی۔ اس کے دو اشعار یہ ہیں :
سیّدا ہے آپ کو شوقِ لقائے قادیان
ہجر میں خوں بار ہیں یاں چشم ہائے قادیاں
سب تڑپتے ہیں کہاں ہے زینت دارالاماں
رونق بوستانِ احمد دلربائے قادیاں
قادیان پہنچ کر ایک موقع پر حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
’’میرے نزدیک اس سفر سے بڑے بڑے فوائد کے علاوہ جن میں بعض کا ذکر مولوی شیر علی صاحب نے کیا ہے بعض چھوٹے فوائد بھی ہوئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ میرے سفر پر جانے پر کئی نئے شاعر پیدا ہوگئے ہیں خصوصاً ہماری ہمشیرہ شاعرہ ہوگئی ہیں۔‘‘
غرضیکہ یہ سفر کیا تھا روانگی سے لیکر قادیان آمد تک ہر بات دل میں اُترنے والی ، رُوح میں سمانے والی، ایمان و یقین علم و عرفان کو بڑھانے والی تھی، اور کیوں نہ ہو یہ بابرکت الٰہی سفر تو ازل سے مقدر تھا۔ ذیل میں ہم اس سفر کی کچھ اہم باتیں اور سفر کی اغراض و مقاصد حضور رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں پیش کریں گے ۔
اس سفر کا ذکر قرآن کریم میں
حضور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ یورپ کی طرف مسیح موعود یا آپؑکے کسی جانشین کا اس غرض سے سفر کرنا جس غرض سے مَیں نے سفر کیا ہے قرآن کریم میں بھی مذکور ہے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے سفر کے بغیر اسلام کی حفاظت کامل نہیں ہوسکتی… پس جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کے مطابق ذوالقرنین آپؑہیں اور مغربی ممالک سے مراد یورپ و امریکہ کے لوگ ہیں جو مسیحیت کے چشمہ پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعودؑیا ان کے کسی جانشین کو مغربی ممالک کا سفر کرنا ہوگا ۔ ‘‘
(الفضل قادیان دارالامان 16؍اگست 1924 صفحہ 7کالم 3)
اس سفر کا ذکرحدیث شریف میں
حدیث شریف میں آتا ہےکہ اللہ تعالیٰ عیسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ خبر دیگا کہ مَیں نے اب کچھ ایسے لوگ بھی برپا کئے ہیں(یعنی یاجوج ماجوج) جن سے جنگ کی کسی میں طاقت نہیں۔ اسلئے تم میرے بندوں کو پہاڑ کی طرف محفوظ طریق سے لے جاؤ ۔ غرض ان حالات میں اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو برپا کرے گا۔پھر معاً بعد ہےکہ : یَھْبِطُ نَبِیُّ اللہِ عِیْسٰی وَاَصْحَابُہٗ اِلَی الْاَرْضِ فَلَا یَجِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ اِلَّا مَلَأَہٗ زَھَمُھُمْ وَنَتْنُھُمْ کہ اللہ کےنبی عیسیٰؑ اور آپ کے ساتھی یاجوج ماجوج کی زمین پر اتریں گے(الارض معرفہ ہے مُراد فلاں زمین یعنی یاجوج ماجوج کی زمین جس کا ذکر گزر چکا ہے) لیکن تمام زمین میں ایک بالشت جگہ بھی یاجوج ماجوج کی لاشوں اور ان کی بدبُو سےخالی نہیں ملے گی ۔
پھر اس کے بعد حدیث میں ہے کہ :
اس پر اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰؑ اور آپ کے ساتھی دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ایسے پرندے بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹوں کی طرح ہوں گی وہ پرندے ان لاشوں کو اٹھاکر وہاں پھینک آئیں گے جہاں پھینکنے کا اللہ تعالیٰ ان کو حکم دے گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا یہاں تک کہ نہ کوئی مکان بچے گا اور نہ کوئی خیمہ سب کے سب اور ساری کی ساری زمین دُھل جائے گی اور آئینہ کی طرح صاف ہوجائے گی۔ پھر زمین کو کہا جائے گا اپنے پھل اُگا اور اپنی برکت کو واپس لا ۔
عیسیٰ سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔ اور یاجوج ماجوج کی زمین میں آپؑکے اُترنے سے مُراد آپؑ کے جانشین کا اُترنا ہے۔ انشاء اللہ حضرت مسیح موعود اور آپؑکے جانشینوں کی دعاؤں سے یاجوج ماجوج کی زمین دُھل کر آئینے کی طرح صاف ہوجائے گی ۔
رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی کو پورا کرنا
حضور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ارادہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی اس پیشگوئی کو جو مسیح موعودؑکے زمانہ کے متعلق ہے اور جس کی تاویل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ فرمائی ہے کہ مسیح موعودؑیا اس کا کوئی خلیفہ دمشق کو جائے گا اس سفر میں پورا کرنے کی کوشش کی جائے اور راستہ میں چند دن کے لئے دمشق بھی ٹھہرا جائے۔ گو اس کے لئے اپنے راستہ سے ہٹ کر جانا ہوگا مگر چونکہ ایسے مواقع روز بروز نہیں مل سکتے اس لئے جہاں تک ہوسکے اس سفر سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی ضروری ہے اور سلسلہ کی صداقت کا ایک نشان قائم کرنا تو عین سعادتمندی ہے۔ ‘‘ (دورہ یورپ ،انوارالعلوم جلد 8 صفحہ 381)
دو پیشگوئیوں کو پورا کرنا
پیغامیوں یعنی لاہوریوں میں حضور رضی اللہ عنہ کے اس سفر سے بہت تلملاہٹ پیدا ہوئی۔ انہوں نے حضور رضی اللہ عنہ کے اس سفر کو سیروتفریح قرار دیا اور جماعت کے پیسے کا ضیاع بتایا۔ ان کے اعتراضات کا جواب ایڈیٹر الفضل، دیگر مضمون نگار اور خود حضور رضی اللہ عنہ نے بھی دیا جو الفضل میں دیکھا جاسکتا ہے۔پیغامیوں کے اعتراضات کا جواب جن عناوین کے تحت دیا گیا وہ دلچسپ عناوین ہم قارئین کی تفریح طبع کے لئے درج کرتے ہیں۔ ’’حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کا سفر یورپ اور غیر مبائعین کا بغض و حسد‘‘’’سفر یورپ کا کانٹا مولوی محمد علی صاحب کے حلق میں‘‘’’محمود دمشق میں غیر مبائعین فسق میں‘‘’’محمود سفر میں اور حاسد سقر میں‘‘ اس مضمون کے لکھنے والے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ غیر مبائعین میں سفر کا ماتم اس قدر چھایا ہوا تھا کہ آپؓکو بھی اس پر قلم اُٹھانا پڑا۔
اوپر کے دو عناوین کو جوڑ کر ہم نے ایک شعر بنایا ہے ، ملاحظہ فرمائیں :
محمود سفر میں اور حاسد سقر میں
سفر یورپ کا کانٹا مولوی محمد علی کے حلق میں
صرف یہی نہیں اور بھی بہت سارے عناوین کے تحت انہیں جواب دیا گیا ۔بہر حال حضور رضی اللہ عنہ نے انکے اعتراض کے جواب میں جو فرمایا اس میں سے وہ مختصرعبارت ہم ذیل میں درج کرتے ہیںجو دراصل حضور رضی اللہ عنہ کے سفر کی غرض پر روشنی ڈالتی ہے۔ حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
’’ اگر اس سفر میں ہم کوئی بھی کام نہ کرتے اور سیریں ہی کرتے رہتے تب بھی یہ سفر قابل اعتراض نہ تھا کیونکہ یہ دو پیشگوئیوں کو پُورا کرنے کے لئے تھا ایک آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی جو دمشق کے متعلق تھی اور ایک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو انگلستان کے متعلق تھی۔پس اگر ہم لوگ اپنے روپیہ سے … اس سفر کو بعض پیشگوئیوں کے پورا کرنے کے لئے اختیار کریں تو اس پر ان کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔‘‘ (الفضل قادیان دارالامان 4؍اکتوبر 1924 صفحہ 4، کالم 2)
ایک مکمل نظام تجویز کرنا
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سفر کے اغراض و مقاصدپر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’میرے نزدیک جن اغراض کے لئے اس سفر کی ضرورت ہے ان میں سے ایک تو حضرت مسیح موعودؑکی رؤیا کو پورا کرنا ہے … دوسرے یہ دینی ضرورت اس کی داعی ہے کہ ہماری جماعت کا کام ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کرنا ہےا ور چونکہ ساری دنیا کو اسلام کے حلقہ میں لانا ہمارا فرض ہے اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے متعلق ہم ایک مکمل نظام تجویز کریں… اس نظام کے مقرر کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ خلیفہ وقت مغربی ممالک کی حالت کو وہاں جاکر دیکھے … یورپ اسلام کے عقائد کو تسلیم کرنے کے لئے تو آج تیار ہے لیکن وہ اپنی عادتوں کو چھوڑنے کے لئے بالکل تیار نہیںاور نہ صرف یہ کہ وہ خود اس کام کے لئے تیار نہیں بلکہ وہ ایشیا اور افریقہ کو بھی اپنا ہم خیال بناکر اسلام کو دنیا سے بالکل خارج کرنا چاہتا ہے ۔ ان لوگوں کی طرز اور ان کی رہائش ہم سے ایسی جداگانہ ہے کہ گھر بیٹھے ان کے متعلق فیصلہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ زمین پر بیٹھے چاند کے حالات پر رائے زنی کی جائے بلکہ اس سے زیادہ مشکل کیونکہ چاند کے حالات تو دُوربین سے نظر آسکتے ہیں مگر یہاں ایک زندہ قوم کی اصلاح کا سوال ہے جس کی ظاہری شکلوں پر نہیں بلکہ اس کے دلی خیالات اور تعصبات کے متعلق ہم نے فیصلہ کرنا ہے۔‘‘ (دورہ یورپ ،انوارالعلوم جلد 8 صفحہ 385)
صدیوں کی اسکیم بنانا
سفر کا ایک مقصد حضور رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں۔ حضورؓفرماتے ہیں :
یہ سفر ’’صدیوں کی تبلیغ کے لئے سکیم بنانے کی تجویز ‘‘ کے لئے اختیار کیا گیا تھا۔
(الفضل قادیان دارالامان 16؍اگست 1924 صفحہ 3 کالم 1)
حضور رضی اللہ کی اپنی ایک خواب کی تکمیل
حضور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’مَیں نے دیکھا کہ مَیں لنڈن میں ہوں اور ایک ایسے جلسہ میں ہوں جس میں پارلیمنٹ کے بڑے بڑے ممبر اور نواب اور وزراء اور دوسرے بڑے آدمی ہیں۔ ایک دعوتی قسم کا جلسہ ہے اس میں مَیں بھی شامل ہوں۔ مسٹر لائیڈ جارج سابق وزیر اعظم اس میں تقریر کررہے ہیں۔ تقریر کرتے کرتے ان کی حالت بدل گئی اور انہوں نے ہال میں ٹہلنا شروع کردیا ور ایسی گھبراہٹ ان کی حرکات سے ظاہر ہوئی کہ سب لوگوں نے یہ سمجھا کہ ان کو جنون ہوگیا ہے۔ سب لوگ قطاریں باندھ کر کھڑے ہوگئے ہیں اور وہ جلد جلد ادھر سے ادھر ٹہلتے ہیں اتنے میں لارڈ کرزن صاحب نے آگے بڑھ کر ان کے کان میں کچھ کہا اور وہ ٹھہر گئے اور آہستہ سے لارڈ کرزن صاحب کو کچھ کہا انہوں نے باقی لوگوں سے جو ان کے گرد تھے وہی بات کہی اور سب لوگ دورڑ کر ہال کے دروازے کی طرف چلے گئے اور باہر سڑک کی مشرقی جانب جھانکنا شروع کیا ۔ ان کے اس طریق پر مجھے اور بھی حیرت ہوئی۔ قاضی عبد اللہ صاحب میرے پاس کھڑے ہیں مَیں نے اُن سے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا ہے اور یہ لوگ دروازے کی طرف کیوں دورڑے اور کیا دیکھتے ہیں؟ قاضی صاحب نے مجھے جواب دیا کہ مسٹر لائڈ جارج نے لارڈ کرزن سے یہ کہا ہے کہ مَیں پاگل نہیں ہوں بلکہ مَیں اس وجہ سے ٹہل رہا ہوں کہ مجھے ابھی خبر آئی ہے کہ مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ کی فوجیں عیسائی لشکر کو دباتی چلی آتی ہیں اور مسیحی لشکر شکست کھارہاہےاور وہ ہٹتے ہٹتے اس جگہ کے قریب آگیا ہے ۔‘‘
(دورہ یورپ ،انوارالعلوم جلد 8 صفحہ 383)
’’ولیم دی کنکرر‘‘ والی رؤیاکا پورا ہونا
حضور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ اس بادشاہ نے جس کے قبضہ میں تمام عالم کی باگ ہے مجھے رؤیا میں بتایا تھا کہ مَیں انگلستان گیا ہوں اور ایک فاتح جرنیل کی طرح اس میں داخل ہوا ہوں اور اس وقت میرا نام ولیم فاتح رکھا گیا… مَیں اس خواب کی بنا پر یقین رکھتا تھا کہ انگلستان کی روحانی فتح صرف میرے انگلستان جانے کے ساتھ وابستہ ہے لیکن آخر اللہ تعالیٰ کے فضل سے مَیں انگلستان پہنچ گیا ہوں اور اب میرے نزدیک انگلستان کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ آسمان پر اس کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور اپنے وقت پر اس کا اعلان زمین پر بھی ہوجائیگا… انگلستان فتح ہوچکا ۔ خدا کا وعدہ پورا ہوگیا ۔ اس کی فتح کی شرط آسمان پر یہ مقرر تھی کہ مَیں انگلستان آؤں سو مَیں خدا کے فضل سے انگلستان پہنچ گیا ہوں اب اس کی کارروائی کی ابتدا انشاء اللہ شروع ہوجائیگی اور اپنے وقت پر دوسرے لوگ بھی انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ جو کچھ مَیں نے لکھا تھا وہ سچ ہے۔ نادان لوگ نہیں جانتے کہ بعض اُمور کا تعلق بعض خاص شخصوں کی ذات سے وابستہ ہوتا ہے اور انگلستان میں ترقی اسلام کا سوال خدا تعالیٰ کی قضا میں میرے انگلستان آنے کے ساتھ متعلق تھا ۔ مسیح موعودؑکو جو رؤیا دکھائی گئی اس میں بھی یہی بتایا گیا تھا کہ آپ کے ولایت جانے پر یہ فتح شروع ہوگی اور مجھے بھی یہی دکھایا گیا اور چونکہ نبیوں کے خلیفہ ان کے ہی وجود سمجھے جاتے ہیں اس لئے دونوں خوابوں کا مطلب ایک ہی تھا۔ حضرت مسیح موعود کی رؤیا سے مُراد بھی ان کے جانشین کے انگلستان جانے سے تھی اور میری رؤیا سے مراد بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ولایت جانے سے تھی۔ پس جبکہ مسیح موعودؑاپنے روحانی جانشین کے ذریعہ سے انگلستان پہنچ گئے تو اب انشاء اللہ فتح کا دروازہ بھی کھول دیا جائے گا جو کہ ہمیشہ سے مقدر ہے۔ (الفضل قادیان دارالامان 4؍اکتوبر 1924 صفحہ 3کالم 3)
’’ولیم دی کنکرر‘‘ والی رؤیا کو ظاہر میں بھی پورا کیا
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو ایک رؤیا میں دکھایا گیا تھا کہ وہ سمندر کے کنارے ایک مقام پر اُترے ہیںاور انہوں نے ایک لکڑی کے کندے پر پاؤں رکھ کر ایک بہادر اور کامیاب جرنیل کی طرح چاروں طرف نظر کی ہے اور آواز آئی کہ ’’ولیم دی کنکرر۔ حضور رضی اللہ عنہ کے سفر یورپ سے یہ رؤیا بھی پوری ہوئی۔ حضور رضی اللہ عنہ نے اس رؤیا کو ظاہری لحاظ سے پورا کرنے کے لئے 2؍اکتوبر 1924ء کو ایک سفر کیا جس میں کہ Pevensiپہنچے ۔ پھر یہاںسے خلیج Pevensiکے کنارے پہنچے اور کشتی لیکر اس مقام پر پہنچے جہاں ولیم دی کنکرر اُترا تھا۔
(الفضل قادیان دارالامان 20 نومبر 1924، صفحہ 5 کالم 2)
حضور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’میرا جس وقت یورپ کو جانے کا فیصلہ ہوا تو مجھے وہ خواب یاد آیا جس میں مَیں نے اپنے آپ کو ولیم دی کنکرر دیکھا تھا… انگلستان کے ساحل پر قدم رکھا تو سمجھ گیا کہ اب خدا کے فضل سے یہ فتح ہوگیا۔ چنانچہ مَیں نے اسی وقت مضمون لکھا جو الفضل میں شائع ہوگیا۔ اس میں مَیں نے لکھ دیا تھا کہ انگلستان کی روحانی فتح شروع ہوگئی ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان دارالامان 4دسمبر 1924 صفحہ 5 کالم 3 )
دمشق والی پیشگوئی کس طرح پوری ہوئی
دمشق والی حدیث کے الفاظ یہ ہیں : بَعَثَ اللہُ تَعَالٰی الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ فَیَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَۃِ الْبَیْضَآءِ شَرْقِیَّ دِمَشْقَ بَیْنَ مَھْزُوْدَتَیْنِ وَاضِعًا کَفَّیْہِ عَلٰی اَجْنِحَۃِ مَلَکَیْنِ۔یعنی اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو مبعوث کریگا جو دمشق کے مشرقی سفید منارے کے پاس دو زرد رنگ کی چادریں پہنے دو فرشتوں کے بازؤوں پر ہاتھ رکھے نزول فرما ہوں گے۔
(مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال وصفۃ ومامعہ)
سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں :
ثُمَّ یُسَافِرُ الْمَسِیْحُ الْمَوْعُوْدُ اَوْخَلِیْفَۃٌ مِّنْ خُلَفَائِہٖ اِلَی الْاَرْضِ دِمَشْقَ فَھٰذَا مَعْنَی الْقَوْلِ الَّذِیْ جَآءَ فِیْ حَدِیْثِ مُسْلِم اَنَّ عِیْسٰی یَنْزِلُ عِنْدَ مَنَارَۃِ دِمَشْقَ۔
(حمامۃ البشریٰ صفحہ 37، اُردو ترجمہ صفحہ 121)
یعنی پھر مسیح موعود یا اُس کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ زمین دمشق کی جانب سفر کرے گا پس یہ مفہوم ہے اُس قول کا جو مسلم کی حدیث میں وارد ہوا کہ عیسیٰ دمشق کے منارہ کے پاس نازل ہوگا۔
سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام مندرجہ بالا حدیث کی وضاحت میں فرماتے ہیں :
’’ اگر ظاہر پر ہی اِن بعض مختلف حدیثوں کو جو ہنوز ہماری حالتِ موجودہ سے مطابقت نہیں رکھتیں محمول کیا جائے تب بھی کوئی حرج کی بات نہیںکیونکہ ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ ان پیشگوئیوں کو اس عاجز کے ایک ایسے کامل متبع کے ذریعہ سے کسی زمانہ میں پورا کردیوے جو منجانب اللہ مثیل مسیح کا مرتبہ رکھتا ہو۔اور ہریک آدمی سمجھ سکتا ہے کہ متبعین کے ذریعہ سے بعض خدمات کا پورا ہونا درحقیقت ایسا ہی ہے کہ گویا ہم نے اپنے ہاتھ سے وہ خدمات پوری کیں۔ بالخصوص جب بعض متبعین فنا فی الشیخ کی حالت اختیار کر کے ہمارا ہی روپ لے لیں اور خدائے تعالیٰ کا فضل انہیں وہ مرتبہ ظلّی طورپر بخش دیوے جو ہمیں بخشا تو اس صورت میں بلاشبہ اُن کا ساختہ پرداختہ ہمار ا ساختہ پرداختہ ہے کیونکہ جو ہمارے راہ پر چلتاہے وہ ہم سے جدا نہیں اور جو ہمارے مقاصد کو ہم میں ہو کر پورا کرتاہے وہ درحقیقت ہمارے ہی وجود میں داخل ہے۔ ‘‘(ازالہ اوہام حصہ اوّل رُوحانی خزائن جلد 3 صفحہ 316)
سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ دمشق کے منارہ میں نزول مسیح کی پیشگوئی کے پورا ہونے کے متعلق فرماتے ہیں، جبکہ آپؓاس سفر میں دمشق میں نزول فرماتھے :
’’ ایک مولوی عبدالقادر صاحب سید ولی اللہ شاہ صاحب کے دوست تھے۔ ان سے مَیں نے پوچھا کہ وہ منارہ کہاں ہے جس پر تمہارے نزدیک حضرت عیسیٰ نے اُترنا ہے۔ کہنے لگے مسجد امویہ کا ہےلیکن ایک اور مولوی صاحب نے کہا کہ عیسائیوں کے محلہ میں ہے۔ ایک اَور نے کہا حضرت عیسیٰ آکر خود بنائیں گے۔ اب ہمیں حیرت تھی کہ وہ کون سا منارہ ہےدیکھ تو چلیں۔ صبح کو مَیں نے ہوٹل میں نماز پڑھائی ، اس وقت مَیں اور ذوالفقار علی خان صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تھے یعنی میرے پیچھے دو مقتدی تھے۔ جب میں نے سلام پھیرا تو دیکھا سامنے منار ہے اور ہمارے اور اس کے درمیان صرف ایک سڑک کا فاصلہ ہے۔ مَیں نے کہا یہی وہ منار ہے اور ہم اس کے مشرق میں تھے۔ یہی وہاں سفید مینارہ تھا اور کوئی نہ تھا۔ مسجد امویہ والے منار نیلے سے رنگ کے تھے۔ جب مَیں نے اس سفید مینارہ کو دیکھا اور پیچھے دو ہی مقتدی تھے، تو مَیں نے کہا کہ وہ حدیث بھی پوری ہوگئی۔ ‘‘ (اخبار الفضل قادیان دارالامان 4دسمبر 1924 صفحہ 6،7)
منارہ کے پاس آپؓکا نزول درحقیقت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی نزول سمجھا جائے گا۔ اوّل تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی فرمادی تھی کہ مسیح سے مسیح کا خلیفہ مُراد ہے۔ پھر یہ کہ آپ مسیح کے جانشین بھی تھے اور مثیل مسیح بھی تھے۔ سلسلہ کے لٹریچر کا علم رکھنے والے اس بات کو بخوبی جانتے ہیں، لیکن ایک انجان بھی آپؓکو مسیح کہے بغیر نہیں رہ سکا۔ حضور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’خدا نے ابتداء سے ہی ایسے اسباب پیدا کئے کہ خاص اشارات ظاہر ہونے لگے جہاز میں دوست میرے آگے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ جہاز کا ڈاکٹر آیا اور ہمیں دیکھتا رہا۔ پھر اس نے سب کو گنا۔گننے کے بعد تھوڑی دیر سوچتا رہا ، پھر میری طرف دیکھ کر کہنے لگا کہ مسیح اور اس کے بارہ حواری۔ ایسے فقرات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی زبان پر جاری ہوتے ہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان دارالامان 4دسمبر 1924 صفحہ 7، کالم 1)
مرض کا علاج ڈھونڈنا
ولایت پہنچے سے قبل راستے سے ہی حضور رضی اللہ عنہ نے جماعت کے نام جو مکتوبت گرامی تحریر فرمایااس میں آپؓنے سفر کی غرض و غایت پر بھی مختصر روشنی ڈالی ہے۔ آپؓنے فرمایا :
’’جس کام کیلئے مَیں جارہا ہوں وہ اپنی نوعیت میں بالکل نرالا ہے، ایسا نرالا کہ ابتک ہمارے بعض دوست بھی اس کو نہیں سمجھے۔ مَیں نے سنا کہ ایک دوست ریل میں ایک غیر احمدی کو سمجھا رہے تھے کہ انکے ولایت جانیکی غرض تبلیغ اسلام ہے، حالانکہ گو تبلیغ اسلام ہر ایک کا فرض ہے اور میرا بھی، مگر جیسا کہ مَیں نے بوضاحت لکھا ہے تبلیغ کیلئے باہر جانا خلیفہ کیلئے درست نہیں، اس کا اصل کام تبلیغ کی نگرانی ہے۔ اس کا مبلغ کے طور پر باہر جانا سلسلہ کیلئے ایسی خطرناک مشکلات پیدا کرسکتا ہے جن سے باہر نکلنا مشکل ہوجائے۔ پس یہ سفر تبلیغ کیلئے نہیں ہے بلکہ تبلیغ کی مشکلات کو معلوم کرنے اور ایسا مقامی علم حاصل کرنے کیلئے ہے جو آئندہ مغربی ممالک میں تبلیغ کرنے کیلئے ممد ہو۔ اور ان خطرناک آفات کو معلوم کرنے اور ان کا علاج دریافت کرنے کیلئے ہے جو مغربی ممالک میں اسلام کے پھیلنے کے ساتھ ہی پیدا ہونیوالی ہیں اور جن کو اگر پہلے سے نظر نہ رکھا گیا تو اسلام کا مغرب میں پھیلنا ہی اسلام کی تباہی کا موجب ہوگا۔‘‘ (الفضل قادیان دارالامان 16؍اگست 1924 صفحہ 5کالم 1)
یورپ میں تبلیغ اسلام کیلئے کیا کیا دقتیں درپیش ہیں، بیان فرمانے کے بعد حضور نے فرمایا :
’’ پس ہم دو آگوں میں ہیںاور ہماری مثال وہی ہے کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ اس مشکل کا علاج سوچنے کے لئے یا وہاں کے مقامی حالات معلوم کرنے کے لئے تاکہ مبلغوں کی سختی سے نگرانی ہوسکے، اور جہاز کو چٹانوں میں سے بہ حفاظت گزارا جاسکے اس امر کی ضرورت پیش آئی ہے اور غالباً اب آپ لوگ سمجھ گئے ہونگے کہ کیسی مشکل غرض ہے، سوائے خدا تعالیٰ کی مدد کے ہم اس مشکل کو حل نہیں کرسکتے۔ مسلمان بنانا آسان ہے مگر اسلام کو ان سے بچانا مشکل ہے اور اس وقت میرے سفر کی یہی غرض ہے۔ (الفضل قادیان دارالامان 16؍اگست 1924 صفحہ 7کالم 1)
انگلستان کی رُوحانی فتح شروع ہوچکی ہے
حضور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ گو دشمن ہنسے گا اور تمسخر اڑائیگا مگر مَیں اس کی ہنسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس بات کے اظہار سے نہیں رک سکتا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے انگلستان کی روحانی فتح شروع ہوچکی ہے … جو کچھ مَیں کہتا ہوں وہ ایک روحانی امر ہے جس کو صرف وہی دیکھ سکتے ہیں جن کی روحانی آنکھیں ہوں۔ (الفضل قادیان دارالامان 4؍اکتوبر 1924 صفحہ 3کالم 3)
وہم و خیال سے بالا تر کامیابی
حضور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’اس سفر میں ایسی کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ جو انسانی وہم و خیال سے بالا تر ہے … جماعت کو تیار ہوجانا چاہئے کہ خدا نے جو بیج بویا ہے اس کی آبپاشی کریں۔ یہ بیج میسر نہ آسکتا تھا اگر ہم اس سفر کے بغیر کوشش کرتے رہتے لیکن خدا تعالیٰ نے ایسے سامان کردئیے کہ بیج میسر آگیا اب جبکہ بیج اس نے دیا ہے اگر ہم اپنے اعمال اور قربانیوں کا پانی نہیں دیں گے تو بارآور نہیں ہوگا… جو بیج ساری دُنیا میں بکھیرا گیا اس کے لئے کتنے پانی اور کس قدر نگہداشت کی ضرورت ہے… اب کام بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ‘‘ (اخبار الفضل قادیان دارالامان 4دسمبر 1924 صفحہ 8،9)
مسجد کی تعمیر کی شہرت پوری دُنیا میں
دنیا کے ہر تین آدمیوں میں سے ایک آدمی کو یہ بات پہنچ چکی ہے
حضور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
اس وقت تک قریبا بیس پچیس کروڑ انسان یہ بات سن چکے ہیں کہ لنڈن میں ایک مسجد بنی ہے جس کا افتتاح ہوا اور جسے اس احمدی جماعت نے بنایا جس کے امام مرزا غلام احمد صاحب ہیں جنہیں خدا نے مسیح موعود اور نبی بناکے بھیجااور جس کا کام اشاعت اسلام ہے ۔ دنیا کے ہر تین آدمیوں میں سے ایک آدمی کو یہ بات پہنچ چکی ہے اور خود انگلستان کے اخبار نویسوں اور دیگر سربرآوردہ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ اگر ہم دو کروڑ روپیہ بھی خرچ کرتے تو اتنی اشاعت نہ ہوتی جتنی اب ہوگئی ہےبلکہ بعض نے تو یہ بھی کہا ہے کہ دو کروڑ روپیہ نہیں دو کروڑ پاؤنڈ بھی یہ کام نہ کرتاجو اس روپیہ نے کردیا جو مسجد پر خرچ ہوا۔(الفضل قادیان دارالامان 9 نومبر 1926، صفحہ 10 کالم 1)
پریس نے کبھی کسی بادشاہ کیلئے بھی ایسی توجہ نہیں کی
سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ ان کامیابیوں کا جو خدا تعالیٰ نے مجھے دیں، مجھے ایک شخص نے جو انگلستان کے ایک اخبار سے تعلق رکھتا تھا کہا، اور بعض اَور نے بھی کہا کہ آپ لوگ اس کا اندازہ ہی نہیں کرسکتے جو کامیابی آپ لوگوں کو یہاں ہوئی ہے اور جس طریق سے پریس نے آپ کو امداد دی ہے …جس طرح ہمارے متعلق اخبارات نے توجہ کی ہے کبھی کسی بادشاہ کے متعلق بھی نہیں کی۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہاں کے اخبارات کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کیلئے تین چار دفعہ سے زیادہ ذکر نہیں کرتے،اور پھر نہیں پوچھتے کہ کون ہے، مگر آپ دو ماہ یہاں رہے اور ہر موقعہ پر آپ کے متعلق اخبارات نے مضامین شائع کئے ہیں …یہ بالکل غیر معمولی بات ہے…ہر موقعہ پر بڑے بڑے اخباروں کے نامہ نگار اور مضمون نویس آتے اور ایسے رنگ میں مضمون شائع کرتے کہ معلوم ہوتا انہیں ہم سے پوری ہمدردی ہے۔(اخبار الفضل قادیان دارالامان 4دسمبر 1924 صفحہ 4 کالم 3 بعنوان حالات سفر)
فرمایا : ’’یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہاں(یعنی ہندوستان میں-ناقل) جو یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انگریز ہندوستانیوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، وہاں پر معلوم ہوتا تھا کہ ہمارے سوا وہ کسی کی عزت ہی نہیں کرتے۔‘‘
فرمایا : ’’بڑے بڑے ملکوں میں طویل عرصہ میں بھی نام پہنچانا مشکل ہوتا ہے مگر ہماری شہرت بجلی کی سی تیزی کے ساتھ ہوجاتی۔‘‘ (ایضاً صفحہ 5 کالم 2)
پوپ کے خلاف اور حضورؓکے حق میں اخبار کاتبصرہ
اٹلی میں حضور نے پوپ سے ملنا چاہا۔پوپ نے کہا : ’’چونکہ میرا مکان بن رہا ہے اس لئے ان دنوں ملاقاتیں بند ہیں۔‘‘
اٹلی کا سب سے بڑا اخبار جس کی روزانہ آٹھ لاکھ اشاعت ہے، اس کے ایڈیٹر کو جب حضور نےپوپ کا جواب بتایا تو حضور فرماتے ہیں کہ اس نے اپنے مضمون میں لکھا کہ :
’’تعجب ہے ، ایک سردار آتا اور پوپ سے ملنا چاہتا ہے مگر پوپ کہتا ہے چونکہ مکان کی مرمت ہورہی ہے اس لئے مل نہیں سکتا، اب ہمیشہ ہی اس کا مکان زیر مرمت رہے گا۔یہ کتنا طاقتور فقرہ ہے جو ایک عیسائی اخبار اور اس قدر بارسوخ اخبار پوپ کے متعلق لکھتا ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ 5 کالم 2،3)
مصر میں کامیابی
سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’وہاں پہنچتے ہی لوگوں کی ہماری طرف ایسی توجہ ہوئی کہ خلافت کی دونوں پارٹیاں آئیں، ایک پارٹی کے آدمی کہیں کہ ہمارے ساتھ شامل ہوجاؤ اور دوسری کے کہیں ہمارے ساتھ۔ ان کو ہماری مخالفت یاد نہ رہی۔‘‘
’’دو معزز اور بااثر آدمیوں نے کہا کہ اگر آپ ٹھہریں تو بیعت کرلیں۔ ایک تو ترک تھا جس نے کہا کہ مَیں یہاں دین کے لئے آیا تھا مگر معلوم ہوا کہ یہ لوگ دین کو چھوڑ چکے ہیں۔ مَیں آپ کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ (ایضاً صفحہ 6 کالم 1)
دمشق میں کامیابی
حضور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ دو دن تک کسی نے کوئی توجہ نہ کی۔ مَیں بہت گھبرایا اور دعا کی کہ اَے اللہ پیشگوئی جو دمشق کے متعلق ہے کس طرح پوری ہوگی…تُو اپنے فضل سے کامیابی عطا فرما۔ جب میں دعا کرکے سویا تو رات کو یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہوگئے عَبْدٌ مُکَرَّمٌ یعنی ہمارا بندہ جس کو عزت دی گئی۔ اس سے مَیں نے سمجھا کہ تبلیغ کا سلسلہ یہاں کھلنے والا ہے۔ چنانچہ دوسرے ہی دن جب اُٹھے تو لوگ آنے لگے یہاں تک کہ صبح سے رات کے بارہ بجے تک دو سو سے لیکر بارہ سو تک لوگ ہوٹل کے سامنے کھڑے رہتے۔‘‘ (ایضاً صفحہ 6 کالم 2)
کالجوں کے لڑکے اور پروفیسر آتے کاپیاں ساتھ لاتے اور جو مَیں بولتا لکھتے جاتے۔ اگر کوئی لفظ رہ جاتا تو کہتے یا اُستاذ ذرا ٹھہرئیے یہ لفظ رہ گیا ہے۔ گویا انجیل کا وہ نظارہ تھا جہاں اَے استاد کرکے حضرت مسیحؑکو مخاطب کرنے کا ذکر ہے۔ اگر کسی مولوی نے خلاف بولنا چاہا تو وہی لوگ اسے ڈانٹ دیتے۔ ‘‘ (ایضاً صفحہ 6 کالم 3)
تبلیغ کے اصول طے ہوئے
حضورؓ فرماتے ہیں : ’’ مَیں نے اس سفر میں جو اصول تبلیغ تجویز کئے ہیں ان میں سے کچھ مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو لکھ کر دے آیا ہوں اور کچھ لکھ رہا ہوں۔‘‘(ایضاً صفحہ 8کالم 1)
پریذیڈنٹ جلسہ کا تأثر
حضور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ پریزیڈنٹ جلسہ کانفرنس نے تین چار دفعہ کہا اور گھر میں بھی آکر کہا کہ اسلام زندہ مذہب ہے اور سلسلہ احمدیہ اس کا زندہ ثبوت ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ 7کالم 3)
مغرب کے مرض کا علاج-مسیح موعودؑ کا نام اور آپؑکا تذکرہ
حضور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ اس سفر سے دو بڑے اہم سوال بھی حل ہوگئے اور ان کی وجہ سے سب سے بڑی خوشی حاصل ہوئی۔ ایک تو یہ کہ کہا جاتا کہ مغرب میں مسیح موعود کا ذکر سم قاتل ہے مگر ہم پر اس سفر کی وجہ سے یہ کھلا ہے کہ سوائے حضرت مسیح موعود کے ذکر کے مغرب کی مرضوں کا کوئی علاج ہی نہیں۔ ‘‘ (ایضاً صفحہ 8کالم 2)
دوسرا سوال یہ حل ہوا کہ مَیں اس خطرہ کو اپنے دل میں لے کر گیا تھا کہ یورپ اسلام کی ننگی تعلیم کو قبول نہیں کرسکتا اور آیا اس یقین کے ساتھ ہوں کہ یقیناً قبول کرسکتا ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ 8کالم 3)
سفر یورپ اورایک غیر احمدی کی خواب
حضرت مولانا شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ نے 26 ستمبر 1924 ء کے خطبہ جمعہ میں ایک غیر احمدی کی خواب کا تذکرہ فرمایا جو حضور رضی اللہ عنہ کے سفر یورپ کے متعلق تھا۔ کیا خواب تھا اور کس رنگ میں پورا ہوا اس کا ذکر ہم حضرت مولانا شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں ہی بیان کرتے ہیں۔ آپؓنے فرمایا :
خدا تعالیٰ اپنے پیاروں اور تاستبازوں کی کئی طریقوں سے مدد اور نصرت فرماتا ہے۔ اُن میں سے ایک طریق اس کی مدد اور نصرت کا یہ ہے کہ لوگوں پر رؤیا ، الہام اور کشوف کے ذریعے ان کی سچائی ظاہر کرتا ہے۔ اور اس طرح سعید روحیں خدا سے ان کی سچائی اور صداقت کی شہادت پاکر ان کو قبول کرتی ہیں… آج میں اسی قسم کی ایک آسمانی شہادت آپ کو سناتا ہوں۔ یہ ایک ایسے رسالہ میں درج ہے جو آج سے کئی سال پہلے شائع ہوچکا ہے۔ اس رسالہ کا نام ’’صوفی‘‘ ہے۔ یہ کسی احمدی کا رسالہ نہیںبلکہ غیر احمدیوں کا ہے۔ اس میں ایک مضمون درج ہے اور اس مضمون کا لکھنے والا بھی کوئی احمدی نہیں بلکہ وہ شخص ہے جو سلسلہ احمدیہ کا مخالف ہے اور ہماری جماعت اس کے نام سے واقف اور آشنا ہے کیونکہ کچھ عرصہ گزرا اس نے حضرت خلیفۃ المسیح کو بڑے زور کے ساتھ مباہلہ کا چیلنج دیا تھا جب آپ نے آمادگی ظاہر کی تو خموش ہوگیا وہ خواجہ حسن نظامی ہے۔ اس رسالہ میں اس کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں اس نے مادہ پرست دنیا پر رؤیا اور خواب کی حقیقت ظاہر کرتے ہوئے چند خوابیں لکھی ہیں۔ پہلا خواب وہ نواب سیّد صدرالدین خان صاحب رئیس ریاست بڑودہ کا یہ نقل کرتا ہے کہ ’’ایک مکان میں اسباب بندھا رکھا ہے اور اہل خانہ کسی بڑے سفر کی تیاری میں مصروف ہیں اتنے میں دیکھا کہ صاحب خانہ بھی نہایت مصروفیت کی شان سے سامان درست کررہے ہیں ۔ آخر میں انہوں نے فرمایا جہاز تیار کرو اور یہ اسباب ان پر لادو۔ عرض کیا حضور کہاں کا ارادہ ہے؟ فرمایا یورپ جاتا ہوں۔ علاج کرنا ہے۔ یہ دریافت کیا گیا آپ کا اسم شریف؟ فرمایا میرا نام عمر ابن الخطاب ہے۔‘‘
اس رؤیا کی تعبیر بھی حسن نظامی صاحب خود کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ نواب صاحب کے اس خواب میں اگرچہ ایک بات بہت غور طلب ہے کہ عمر فاروقؓکا یہ فرمانا کہ یورپ علاج کے لئے جاتا ہوں تو آیا اس کا مطلب یہ ہے کہ خود وہاں علاج کرانے جاتے ہیں، یا یہ کہ اہل یورپ کا علاج کرنے جاتے ہیں۔ لیکن دونوں صورتوں میں تعبیر سائنس و مادہ پرستی کے خلاف نکلتی ہے۔ اگر پہلی صورت ہے یعنی حضرت خود یورپ میں علاج کرانے جاتے ہیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اہل روحانیت اپنے مرضِ لاعلمی کا علاج یورپ جاکر وہاں معلومات حاصل کرکے کریں گےاور اس کے بعد مادہ پرستی کے امراض کا وہاں بیٹھ کر علاج کیا جائے گا۔ اور دوسری صورت میں مادہ پرست یورپ کے علاج کی تدبیریں اور تیاریاں ہورہی ہیں۔ یہ خواب ایسی واضح اور بین ہے کہ مجھے کسی تعبیر کرنے کی ضرورت نہیں… اِدھر آپ اس خواب کو اور اس کی تعبیر کو پڑھیں اور اُدھر حضرت خلیفۃ المسیح کا وہ اعلان جو حضور نے سفر یورپ کے اغراض کے متعلق شائع فرمایا ہے، اس کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ کیسی سچی خواب ہے اور سلسلہ کی صداقت کا کیسا زبردست نشان ہے (خصوصاً جبکہ حضور کا الہامی نام بھی عمر ہے) (الفضل قادیان دارالامان 9؍اکتوبر 1924 صفحہ 8)
یہ الٰہی سفر دنیا میں احمدیت کی فتح و ظفر کے لئے بطور بیج کے تھا، اس کا بڑھنا پھلنا اور پھولنا پوری دنیا میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس میں اپنا وافر حصہ ڈالنے والےہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مقبول خدمات کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ (منصور احمد مسرور)
…٭…٭…٭…