اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-08-08

سیّدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم الشان مقام و مرتبہ حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے اپنے آقا سیّدنا حضرت محمد مصطفیٰ  ﷺ کا مقام و مرتبہ جس رنگ میں شناخت کیا، وہ کسی اَور نے نہیں کیا۔ سیّدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے عظیم الشان مقام و مرتبہ کا عرفان جو آپ کو نصیب ہواوہ کسی اَور کو نہیں ہوا۔ سیّدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺسے عشق و محبت جس رنگ میں آپؑنے کی کسی اَور نے نہیں کی۔یہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ حقیقت ہے، ایسی ٹھوس حقیقت ہے کہ کوئی اس کو جھٹلا نہیں سکتا ، غلط ثابت نہیں کرسکتا۔ سیّدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺسے عشق و محبت کی جو تحریرات منظوم و منثور کلام کی صورت میں آپ کے قلم سےنکلی ہیں ہمیں کہیں اَور دکھائی نہیں دیتیں۔ اُن میں ایسی چاشنی ہے کہ آپؑکے دشمن بھی اُن کلام اور تحریرات کو پڑھنے سے اپنے آپ کو نہیں روک سکے۔ اگر کوئی ہمارے دعویٰ کو غلط سمجھے تو ہم اپنے دعویٰ کی سچائی کا ثبوت دینے کے لئے تیار ہیں۔ اور جس رنگ میں سیّدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دین کی دفاع جس جاہ و جلال کے ساتھ ، مردِ میدان بن کر آپؑنے کی چودہ سو سال میں کسی اور نے نہیں کی، نہ کوئی اَور کرسکتا تھا، نہ کسی اَور کا یہ مقام اور منصب تھا، کیونکہ قرآن و حدیث کے مطابق یہ مقام اور منصب صرف آپؑکا ہی تھا،آیت کریمہ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۝۰ۙ کی تفسیر میں علماء کرام نے یہی فرمایا ہے کہ اسلام کو عالمگیر غلبہ مہدی کے زمانہ میں ملے گا۔ پس حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ مسیح و مہدی کا ہے اُس مسیح و مہدی کا جس کی آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ جب وہ مبعوث ہوگا تو ایمان کو زمین پر قائم کردے گا۔ پس جس رنگ میں آپؑنے دین محمدی کا دفاع کیا وہ صرف اور صرف آپؑکا ہی کام تھا، دوست اور دشمن سب اس بات کا اقرار کرتے ہیںکہ چودہ سو سال میں اسلام کی تائید و نصرت میں جو کتابیں آپؑنے لکھی ہیں کسی اَور نے نہیں لکھیں۔ اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کوئی لکھ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ یہ مقام اور منصب اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے صرف آپؑکو ملا تھا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل اور سمجھ عطا فرمائے کہ وہ زمانے کے امام مسیح و مہدی پر ایمان لائیں اُس مسیح و مہدی پر جس کے ساتھ اسلام کا غلبہ وابستہ ہے۔ ذیل میں ہم آنحضرت ﷺ کی شانِ ارفع و اعلیٰ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ ارشادات پیش کرتے ہیں۔
آنحضرتﷺ کی عظیم الشان ثابت قدمی اور صبر و استقلال
آنحضرت اپنے دعویٰ نبوت پر باوجود پیدا ہوجانے ہزاروں خطرات اور کھڑے ہوجانے لاکھوں معاندوں اورمزاحموں اور ڈرانے والوں کے اول سے اخیر دم تک ثابت اور قائم رہے برسوں تک وہ مصیبتیں دیکھیں اور وہ دکھ اٹھانے پڑے جو کامیابی سے بکلی مایوس کرتے تھے اور روزبروز بڑھتے جاتے تھے کہ جن پر صبر کرنے سے کسی دنیوی مقصد کا حاصل ہوجانا وہم بھی نہیں گذرتا تھا بلکہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے ازدست اپنی پہلی جمعیت کو بھی کھو بیٹھے اور ایک بات کہہ کر لاکھ تفرقہ خرید لیا اور ہزاروں بلائوں کو اپنے سر پر بلالیا۔ وطن سے نکالے گئے۔ قتل کے لئے تعاقب کئے گئے۔ گھر اور اسباب تباہ اور برباد ہوگیا۔ بارہا زہر دی گئی۔ اور جو خیر خواہ تھے وہ بدخواہ بن گئے اور جو دوست تھے وہ دشمنی کرنے لگے اور ایک زمانہ دراز تک وہ تلخیاں اٹھانی پڑیں کہ جن پر ثابت قدمی سے ٹھہرے رہنا کسی فریبی اور مکار کا کام نہیں۔ اور پھر جب مدت مدید کے بعد غلبہ اسلام کا ہوا تو ان دولت اور اقبال کے دنوں میں کوئی خزانہ اکٹھا نہ کیا۔ کوئی عمارت نہ بنائی۔ کوئی بارگاہ طیار نہ ہوئی۔ کوئی سامان شاہانہ عیش وعشرت کا تجویز نہ کیا گیا۔ کوئی اور ذاتی نفع نہ اٹھایا بلکہ جو کچھ آیا وہ سب یتیموں اور مسکینوں اور بیوہ عورتوں اور مقروضوں کی خبر گیری میں خرچ ہوتا رہا اور کبھی ایک وقت بھی سیر ہوکر نہ کھایا اور پھر صاف گوئی اس قدر کہ توحید کا وعظ کرکے سب قوموں اور سارے فرقوں اور تمام جہان کے لوگوں کو جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھے مخالف بنالیا۔ جو اپنے اور خویش تھے ان کو بت پرستی سے منع کر کے سب سے پہلے دشمن بنایا ۔ یہودیوں سے بھی بات بگاڑلی کیونکہ ان کو طرح طرح کی مخلوق پرستی اور پیر پرستی اور بداعمالیوں سے روکا… اب جائے انصاف ہے کہ کیا دُنیا حاصل کرنے کی یہی تدبیر تھی۔ (براہین احمدیہ حصہ دوم رُوحانی خزائن جلد 1 صفحہ 108)
خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہونے والا نبیؐ
آنحضرتؐاعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لئے جان باز اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیرنے والے اور محض خدا پر توکل کرنے والے تھے کہ جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہوکر اس بات کی کچھ بھی پروا نہ کی کہ توحید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دکھ اور درد اٹھانا ہوگا بلکہ تمام شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کرکے اپنے مولیٰ کا حکم بجا لائے اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعاتِ خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکل کرکے کھلا کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں۔
(براہین احمدیہ حصہ دوم رُوحانی خزائن جلد 1 صفحہ 111)
روشن تعلیم لانیوالا اور حجج و براہین سے سب کی زبان بند کردینے والا نبیؐ
ہزارہا ایسے اور بھی واقعات ہیں کہ جن سے آنحضرت کا موید بتائید الٰہی ہونا ثابت ہوتا ہے مثلاً کیا یہ حیرت انگیز ماجرا نہیں کہ ایک بے زر بے زور بیکس اُمی یتیم تنہا غریب ایسے زمانہ میں کہ جس میں ہر ایک قوم پوری پوری طاقت مالی اور فوجی اور علمی رکھتی تھی ایسی روشن تعلیم لایا کہ اپنی براہین قاطعہ اور حجج واضحہ سے سب کی زبان بند کردی اور بڑے بڑے لوگوں کی جو حکیم بنے پھرتے تھے اور فیلسوف کہلاتے تھے۔ فاش غلطیاں نکالیں اور پھر باوجود بے کسی اور غریبی کے زور بھی ایسا دکھایا کہ بادشاہوں کو تختوں سے گرا دیا اور انہیں تختوں پر غریبوں کو بٹھایا۔ اگر یہ خدا کی تائید نہیں تھی تو اور کیا تھی۔ کیا تمام دنیا پر عقل اور علم اور طاقت اور زور میں غالب آجانا بغیر تائیدالٰہی کے بھی ہوا کرتا ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ دوم رُوحانی خزائن جلد 1 صفحہ 118)
دُنیا کو توحیدکے نُور سے منور کرنیوالااور شرک اور مخلوق پرستی کاقلع قمع کرنیوالا نبیؐ
آنحضرت ﷺ اس زمانہ میں مبعوث ہوئے تھے کہ جب تمام دنیا میں شرک اور گمراہی اور مخلوق پرستی پھیل چکی تھی اور تمام لوگوں نے اصول حقہ کو چھوڑ دیا تھا اور صراط مستقیم کو بھول بھلا کر ہریک فرقہ نے الگ الگ بدعتوں کا راستہ لے لیا تھا۔ عرب میں بت پرستی کا نہایت زور تھا۔ فارس میں آتش پرستی کا بازار گرم تھا۔ ہند میں علاوہ بت پرستی کے اور صدہا طرح کی مخلوق پرستی پھیل گئی تھی اور انہیں دنوں میں کئی پوران اور پستک کہ جن کے رو سے بیسیوں خدا کے بندے خدا بنائے گئے اور اوتار پرستی کی بنیاد ڈالی گئی،تصنیف ہوچکی تھی اور بقول پادری بورٹ٭ صاحب اور کئی فاضل انگریزوں کے ان دنوں میں عیسائی مذہب سے زیادہ اور کوئی مذہب خراب نہ تھا اور پادری لوگوں کی بدچلنی اور بداعتقادی سے مذہب عیسوی پر ایک سخت دھبہ لگ چکا تھا اور مسیحی عقائد میں نہ ایک نہ دو بلکہ کئی چیزوں نے خدا کا منصب لے لیا تھا۔ پس آنحضرتؐکا ایسی عام گمراہی کے وقت میں مبعوث ہونا کہ جب خود حالت موجودہ زمانہ کی ایک بزرگ معالج اور مصلح کو چاہتی تھی اور ہدایت ربانی کی کمال ضرورت تھی اور پھر ظہور فرما کر ایک عالم کو توحید اور اعمال صالحہ سے منور کرنا اور شرک اور مخلوق پرستی کا جو اُمُّ الشُّرُور ہے قلع قمع فرمانا اس بات پر صاف دلیل ہے کہ آنحضرتؐخدا کے سچے رسول اور سب رسولوں سے افضل تھے۔
(براہین احمدیہ حصہ دوم رُوحانی خزائن جلد 1 صفحہ 112،حاشیہ نمبر10)
آنحضرت ﷺ کے ظہور کے وقت میں یہ آفت غالب ہورہی تھی کہ دنیا کی تمام قوموں نے سیدھا راستہ توحید اور اخلاص اور حق پرستی کا چھوڑ دیا تھا اور نیز یہ بات بھی ہر یک کو معلوم ہے کہ اس فساد موجودہ کے اصلاح کرنے والے اور ایک عالم کو ظلمات شرک اور مخلوق پرستی سے نکال کر توحید پر قائم کرنے والے صرف آنحضرت ہی ہیں کوئی دوسرا نہیں۔ تو ان سب مقدمات سے نتیجہ یہ نکلا کہ آنحضرتؐخدا کی طرف سے سچے ہادی ہیں۔
(براہین احمدیہ حصہ دوم رُوحانی خزائن جلد 1 صفحہ 114،حاشیہ نمبر10)
ہزار دو ہزار نبیوں کا کام اکیلے کرنے والا نبیؐ
آنحضرت کو تمام عالم کا مقابلہ کرنا پڑا اور جو کام حضرت ممدوح کو سپرد ہوا وہ حقیقت میں ہزار دو ہزار نبی کا کام تھا۔ لیکن چونکہ خدا کو منظور تھا جو بنی آدم ایک ہی قوم اور ایک ہی قبیلہ کی طرح ہوجائیں اور غیریت اور بیگانگی جاتی رہے اور جیسے یہ سلسلہ وحدت سے شروع ہوا ہے وحدت پر ہی ختم ہو اس لئے اس نے آخری ہدایت کو تمام دنیا کے لئے مشترک بھیجا۔ (براہین احمدیہ حصہ دوم رُوحانی خزائن جلد 1 صفحہ 116،حاشیہ نمبر10)
تمام مکارم اخلاق کا ایسا متمم و مکمل نبیؐ کہ اس پر زیادت متصور نہیں
آنحضرت ﷺ کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقعہ تھا نہ ہر جگہ حلم پسند تھا اور نہ ہر مقام غضب مرغوب خاطر تھابلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقعہ کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی، سو قرآن شریف بھی اسی طرز موزون و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدت و رحمت و ہیبت و شفقت و نرمی و درشتی ہے… یعنی طینت معتدلہ محمدؐیہ کے موافق نازل ہوا ہے جس میں نہ مزاج موسوی کی طرح درشتی ہے نہ مزاج عیسوی کی مانند نرمی بلکہ درشتی اور نرمی اور قہر اور لطف کا جامع ہے…ان کی نسبت ایک دوسرے مقام میں بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو مخاطب کرکے فرمایا ہے اور وہ یہ ہےاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ یعنی تو اے نبی ایک خلق عظیم پر مخلوق و مفطور ہے یعنی اپنی ذات میں تمام مکارم اخلاق کا ایسا متمم و مکمل ہے کہ اس پر زیادت متصور نہیں۔ (براہین احمدیہ سوم رُوحانی خزائن جلد 1 صفحہ 193،حاشیہ نمبر11)
اعلیٰ فہم و ادراک و اعلیٰ عقل سلیم اور اعلیٰ جمیع اخلاق فاضلہ والا نبی
خدا تعالیٰ نے پیغمبر علیہ السلام کے دل کو شیشہ مصفیٰ سے تشبیہ دی جس میں کسی نوع کی کدورت نہیں۔ یہ نورِ قلب ہے۔ پھر آنحضرت کے فہم و ادراک و عقل سلیم اور جمیع اخلاق فاضلہ جبلی و فطرتی کو ایک لطیف تیل سے تشبیہ دی جس میں بہت سی چمک ہے اور جو ذریعہ روشنی چراغ ہے یہ نور عقل ہے کیونکہ منبع و منشاء جمیع لطائفِ اندرونی کا قوت عقلیہ ہے۔ پھر ان تمام نوروں پر ایک نور آسمانی کا جو وحی ہے نازل ہونا بیان فرمایا۔ یہ نور وحی ہے۔ اور انوار ثلاثہ مل کر لوگوں کی ہدایت کا موجب ٹھہرے۔ یہی حقانی اصول ہے جو وحی کے بارہ میں قدوس قدیم کی طرف سے قانون قدیم ہے اور اس کی ذات پاک کے مناسب۔
(براہین احمدیہ سوم رُوحانی خزائن جلد 1 صفحہ 197،حاشیہ نمبر11)
جودو سخاوت، زہدو قناعت ،مردی و شجاعت اور محبت الٰہیہ میں بینظیر اور بیمثال نبیؐ
جو اخلاق، کرم اور جود اور سخاوت اور ایثار اور فتوت اور شجاعت اور زہد اور قناعت اور اِعراض عن الدنیا کے متعلق تھے، وہ بھی آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک میں ایسے روشن اور تاباں اور درخشاں ہوئے کہ مسیح کیا بلکہ دنیا میں آنحضرتؐسے پہلے کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس کے اخلاق ایسی وضاحت تامہ سے روشن ہوگئے ہوں کیونکہ خدائے تعالیٰ نے بے شمار خزائن کے دروازے آنحضرتؐپر کھول دیئے۔ سو آنجناب نے ان سب کو خدا کی راہ میں خرچ کیا اور کسی نوع کی تن پروری میں ایک حبہ بھی خرچ نہ ہوا۔ نہ کوئی عمارت بنائی، نہ کوئی بارگاہ طیار ہوئی بلکہ ایک چھوٹے سے کچے کوٹھے میں جس کو غریب لوگوں کے کوٹھوں پر کچھ بھی ترجیح نہ تھی، اپنی ساری عمر بسر کی۔ بدی کرنے والوں سے نیکی کرکے دکھلائی اور وہ جو دلآزار تھے ان کو ان کی مصیبت کے وقت اپنے مال سے خوشی پہنچائی۔ سونے کے لئے اکثر زمین پر بستر اور رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا جھونپڑا، اور کھانے کے لئے نانِ جو یا فاقہ اختیار کیا۔ دنیا کی دولتیں بکثرت ان کو دی گئیں پر آنحضرتؐنے اپنے پاک ہاتھوں کو دنیا سے ذرا آلودہ نہ کیا اور ہمیشہ فقر کو تو نگری پر اور مسکینی کو امیری پر اختیار رکھا اور اس دن سے جو ظہور فرمایا تا اس دن تک جو اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے، بجز اپنے مولیٰ کریم کے کسی کو کچھ چیز نہ سمجھا۔ اور ہزاروں دشمنوں کے مقابلہ پر معرکہ جنگ میں کہ جہاں قتل کیا جانا یقینی امر تھا، خالصاً خدا کے لئے کھڑے ہوکر اپنی شجاعت اور وفاداری اور ثابت قدمی دکھلائی۔ غرض جود اور سخاوت اور زہد اور قناعت اور مردی اور شجاعت اور محبت الٰہیہ کے متعلق جو جو اخلاق فاضلہ ہیں، وہ بھی خداوند کریم نے حضرت خاتم الانبیاء میں ایسے ظاہر کئے کہ جن کی مثل نہ کبھی دنیا میں ظاہر ہوئی اور نہ آئندہ ظاہر ہوگی۔ (براہین احمدیہ سوم رُوحانی خزائن جلد 1 صفحہ 289،حاشیہ نمبر11)
کوئی نبی بھی آنحضرت کے کمالاتِ قدسیہ سے شریک مساوی نہیں
ملائکہ کو بھی اس جگہ برابری کا دم مارنے کی جگہ نہیں
حقیقی طور پر کوئی نبی بھی آنحضرت کے کمالاتِ قدسیہ سے شریک مساوی نہیں ہوسکتا بلکہ تمام ملائکہ کو بھی اس جگہ برابری کا دم مارنے کی جگہ نہیں چہ جائیکہ کسی اور کو آنحضرتؐکے کمالات سے کچھ نسبت ہو۔ مگر اے طالبِ حق ارشدک اللّٰہ تم مُتوجّہ ہوکر اس بات کو سنو کہ خداوند کریم نے اس غرض سے کہ تا ہمیشہ اس رسول مقبول کی برکتیں ظاہر ہوں اور تا ہمیشہ اس کے نور اور اس کی قبولیت کی کامل شعاعیں مخالفین کو ملزم اور لاجواب کرتی رہیں، اس طرح پر اپنی کمال حکمت اور رحمت سے انتظام کررکھا ہے کہ بعض افراد امت محمدیہ کہ جو کمال عاجزی اور تذلل سے آنحضرت ﷺ کی متابعت اختیار کرتے ہیں اور خاکساری کے آستانہ پر پڑکر بالکل اپنے نفس سے گئے گزرے ہوتے ہیں، خدا ان کو فانی اور ایک مصفا شیشہ کی طرح پاکر اپنے رسول مقبول کی برکتیں ان کے وجود بے نمود کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ منجاب اللہ ان کی تعریف کی جاتی ہےیاکچھ آثار اور برکات اور آیات ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ حقیقت میں مرجع ِ تام ان تمام تعریفوں کا اور مصدر کامل ان تمام برکات کا رسول کریم ہی ہوتا ہے اور حقیقی اور کامل طور پر وہ تعریفیں اسی کے لائق ہوتی ہیں اور وہی ان کا مصداق اَتم ہوتا ہے۔
(براہین احمدیہ سوم رُوحانی خزائن جلد 1 صفحہ 268،حاشیہ درحاشیہ نمبر1)
عشق الٰہی کے تمام لوازم میں
سب انبیاء سے بڑھ کر،سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل و ارفع و اجلٰی و اصفا نبیؐ
چونکہآنحضرتﷺ اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا وصدق و صفا وتوکل و وفا اور عشق الٰہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل و ارفع و اجلٰی و اصفا تھے اس لئے خدائے جل شانہٗ نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا اور وہ سینہ اور دل جو تمام اولین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اولین و آخرین کی وحیوں سے اقویٰ و اکمل و ارفع و اتم ہوکر صفات الٰہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو۔ سو یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف ایسے کمالات عالیہ رکھتا ہے جو اس کی تیز شعاعوں اور شوخ کرنوں کے آگے تمام صحف سابقہ کی چمک کالعدم ہورہی ہے۔ (سرمہ چشم آریہ صفحہ 71، حاشیہ)
اللہ تعالیٰ ہمیں آنحضرت ﷺ کے مقام و مرتبہ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں آپؐسے حقیقی عشق و محبت کرنیوالا اور آپؐکی تعلیمات پر دل کیساتھ اور محبت کیساتھ عمل کرنے والا بنائے ۔ آمین۔ (منصور حمد مسرور)
…٭…٭…٭…