جوں جوں آزادی کے بعدسے ہمارا قدم آنے والے دقتوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حالات و واقعات ظاہر کررہے ہیں کہ پہلے کی نسبت قومی اتحاد کی ضرورت ہمارے لئے بڑھتی چلی جارہی ہے۔ بھارت مختلف مذاہب، قومیتوں، نسلوں اور ذاتوں پر مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ ہے جس میں اگر اتفاق و اتحاد کے پھول چُنے جائیں تو ان کی خوشبو دل و دماغ کو معطر کرتی ہے لیکن اگر اس تنوع کو اختلاف و انشقاق کی طرف لے جایا جائے تو چوطرفہ بدبُو پھیل جاتی ہے۔ نہ صرف بدبُو بلکہ تکلیف دہ بدبُو جس کو آئے دن ہم محسوس کررہے ہیں۔
اپنے مفادات کیلئے مذہب کا غلط استعمال، قوموں اور ذاتوں کی تفریق کا گھناؤنا کھیل بھارت کو ایک خطرناک کھائی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ سوشل میڈیا کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ دن بدن ایسے لوگوں کی کمی ہوتی جارہی ہے جو اتفاق اور باہم میل جول کی بات کرتے ہیں۔ ہر فرقہ و مذہب میں ایسے لوگوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جو نفرت پھیلانے کی باتوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات تو طے ہے کہ نفرت اختلاف اور جھگڑوں میں صرف ایک قوم کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ سب اقوام اس کا شکار ہوتی ہیں بالخصوص ہر طرف کے غریب اور کمزور طبقہ کے لوگ ظلم کی چکی میں زیادہ پستے ہیں۔ اوریہ ظلم کے دائرے دن بدن بڑھتے چلے جارہے ہیں۔
امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب نے حالیہ ہند و پاک جنگ کے دنوں میں9؍ مئی 2025ء کو جو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا تھا اس میں بھارت کے احمدیوں کو توجہ دلائی تھی کہ وہ بانیٔ سلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود کے اُس عظیم الشان لیکچر پیغام صلح کی طرف اہل وطن کو توجہ دلائیں جس میں حضور نے آج سے سوا سو سال قبل اہل ہند کو اتفاق و اتحاد اور قومی یکجہتی کی طرف بُلایا تھا اور پیار و محبت سے بھری ہوئی درد مندانہ نصیحت فرمائی تھی۔ یہ نصیحت آج بھی ہر ہندوستانی کو دعوتِ عمل دے رہی ہے۔ اس کے کچھ حصے اس موقع پر اس اُمید سے پیش کئے جارہے ہیں کہ حضرت امیر المومنین کے ارشاد پر ہم احمدی ان کی اپنی اپنی زبانوں میں زیادہ سے زیادہ تشہیر کریں گے۔ انشاء اللہ
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اے سامعین ہم سب کیا مسلمان اور کیا ہندو باوجود صدہا اختلافات کے اس خدا پر ایمان لانے میں شریک ہیں جو دنیا کا خالق و مالک ہے اور ایسا ہی سب انسان کے نام میں بھی شراکت رکھتے ہیں یعنی ہم سب انسان کہلاتے ہیں اور ایسا ہی بباعث ایک ہی ملک کے باشندے ہونے کے ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ صفائے سینہ اور نیک نیتی کے ساتھ ایک دوسرے کے رفیق بن جائیں اور دین و دنیا کی مشکلات میں ایک دوسرے کی ہمدردی کریں اور ایسی ہمدردی کریں کہ ایک دوسرے کے اعضا بن جائیں۔
اے ہم وطنو!! وہ دین دین نہیں ہے جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو۔ ہمارے خدا نے کسی قوم سے فرق نہیں کیا مثلاً جو جو انسانی طاقتیں اور قوّتیں آریہ ورت کی قدیم قوموں کو دی گئی ہیں وہ تمام قوّتیں عربوں اورفارسیوں اورشامیوں اور چینیوں اور جاپانیوں اور یورپ اور امریکہ کی قوموں کو بھی عطا کی گئیں سب کے لئے خدا کی زمین فرش کا کام دیتی ہے اور سب کے لئے اس کا سورج اور چاند اور کئی ستارے روشن چراغ کا کام دے رہے ہیں اور دوسری خدمات بھی بجا لاتے ہیں۔ اس کی پیداکردہ عناصر یعنی ہوا اور پانی اور آگ اور خاک اور ایسا ہی اس کی دوسری پیداکردہ چیزوں اناج اور پھل اور دوا وغیرہ سے تمام قومیں فائدہ اُٹھارہی ہیں۔ پس یہ اخلاق ربانی ہمیں سبق دیتے ہیں کہ ہم بھی اپنے بنی نوع انسانوں سے مروّت اور سلوک کے ساتھ پیش آویں اورتنگ دست اور تنگ ظرف نہ بنیں۔
دوستو!! یقیناً سمجھو کہ اگر ہم دونوں قوموں میں سے کوئی قوم خدا کے اخلاق کی عزت نہیں کرے گی اور اس کی پاک خُلقوں کے برخلاف اپنا چال چلن بنائے گی تو وہ قوم جلد ہلاک ہوجائے گی اور نہ صرف اپنے تئیں بلکہ اپنی ذرّیت کو بھی تباہی میں ڈالے گی۔‘‘
’’ یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لانا ہر ایک بندہ کا فرض ہے وہ رب العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں اور نہ ہی کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا رب ہے اور تمام زمانوں کا رب ہے اور تمام مکانوں کا رب ہے اور تمام ملکوں کا وہی رب ہے اور تمام فیوض کا وہی سر چشمہ ہے اور ہر ایک جسمانی و روحانی طاقت اسی سے ہے اور اس سے تمام موجودات پرورش پاتی ہیں اور ہر ایک وجود کا وہی سہارا ہے۔
خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر محیط ہورہا ہے اور یہ اس لئے ہوا کہ تا کسی قوم کو شکایت کرنے کا موقع نہ ملے اور یہ نہ کہیں کہ خدا نے فلاں فلاں قوم پر احسان کیا مگر ہم پر نہ کیا۔
پس جبکہ ہمارے خدا کے یہ اخلاق ہیں تو یہی مناسب ہے کہ ہم بھی اپنے اخلاق کی پیروی کریں۔ لہٰذا اے ہم وطن بھائیو یہ مختصر سا رسالہ جس کا نام ہے
’’پیغام صلح ‘‘
بادب تمام آپ صاحبوں کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اور بصدق دل دعا کی جاتی ہے کہ وہ قادر خدا آپ صاحبوں کے دلوں میں خود الہام کرے اورہماری ہمدردی کا راز آپ کے دلوں پر کھول دے تا آپ اس دوستانہ تحفہ کو کسی خاص مطلب اور نفسانی غرض پر مبنی تصور نہ فرماویں۔
عزیزو!! آخرت کا معاملہ تو عام لوگوں پر اکثر مخفی رہتا ہے اور انہی پر عالم عقبیٰ کا راز کھلتا ہے جو مرنے سے پہلے مرتے ہیں مگر دنیا کی بدی اور نیکی کو ہر ایک دُور اندیش عقل شناخت کرسکتی ہے۔
یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ اتفاق ایک ایسی چیز ہے کہ وہ بلائیں جو کسی طرح دُور نہیں ہوسکتیں اور وہ مُشکلات جو کسی تدبیر سے حل نہیں ہوسکتیں وہ اتفاق سے حل ہو جاتی ہیں۔ پس ایک عقل مند سے بعید ہے کہ اتفاق کی برکتوں سے اپنے تئیں محروم رکھے۔ ہندو اور مسلمان اس ملک میں دو ایسی قومیں ہیں کہ یہ ایک خیال محال ہے کہ کسی وقت مثلاً ہندو جمع ہوکر مسلمانوں کو اس ملک سے باہر نکال دیں گے یا مسلمان اکٹھے ہو کر ہندؤوں کو بلاوطن کردیں گے بلکہ اب تو ہندو مسلمانوں کا باہم چولی دامن کاساتھ ہورہا ہے۔ اگر ایک پر کوئی تباہی آوے تودوسرا بھی اس میں شریک ہوجائے گا اور اگر ایک قوم دوسری قوم کو محض اپنے نفسانی تکبر اور مشیخت سے حقیر کرنا چاہے گی تو وہ بھی داغ حقارت سے نہیں بچے گی اور اگر کوئی ان میں سے اپنے پڑوسی کی ہمدردی میں قاصر رہے گا تو اس کا نقصان وہ آپ بھی اُٹھائے گا۔ جو شخص تم دونوں قوموں میں سے دوسری قوم کی تباہی کی فکر میں ہے اس کی اس شخص کی مثال ہے کہ جو کہ ایک شاخ پر بیٹھ کر اسی کو کاٹتا ہے۔
آپ لوگ بفضلہ تعالیٰ تعلیم یافتہ بھی ہوگئے ہیں۔ اب کینوں کو چھوڑ کر محبت میں ترقّی کرنا زیبا ہے اوربے مہری کو چھوڑ کر ہمدری اختیار کرنا آپ کی عقلمندی کے مناسب حال ہے۔ دنیا کی مشکلات بھی ایک ریگستان کا سفر ہے کہ جو عین گرمی اور تمازتِ آفتاب کے وقت کیا جاتا ہے۔ پس اس دُشوار گزار راہ کیلئے باہمی اتفاق کے اس سرد پانی کی ضرورت ہے جو اس جلتی ہوئی آگ کو ٹھنڈی کردے اور نیز پیاس کے وقت مرنے سے بچاوے۔
ایسے نازک وقت میں یہ راقم آپ کو صُلح کے لئے بلاتا ہے جب کہ دونوں کو صُلح کی بہت ضرورت ہے۔
حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لیکچر کے یہ وہ بصیرت افروز اقتباسات ہیں جن کو آج ہندوستان میں پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ژژژ