یہ کس قدر ہماری خوش بختی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے مسلمان بنایا،وگرنہ ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہ شرک اور بت پرستی کا اڈّہ ہے، اگر مسلمان نہ ہوتے تو نہ جانے کس کس دیوی دیوتا کے آگے جبین فرسا ہوتے۔ اور پھر اُس کا احسان پر احسان ہے کہ مسلمان بنانے کے بعد حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی اور ہمیں احمدی مسلمان بنایا، وگرنہ خدا جانے 72 فرقوں میں سے کس فرقہ میں پھنسے ہوتے اور کن کن بدعتوںکا شکار ہوتے اور کیا کیامشرکانہ حرکتیں ہم سے سرزد ہوتیں۔ اور ایک فرقہ تو ایسا بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے جن اصحاب رضوان اللہ علیہم کے متعلق اُمت کو ہدایت فرمائی تھی کہ اُن میں جس کی بھی تم پیروی کروگے ہدایت پاجاؤگے، اُن اصحاب سے بغض رکھنا اور اُن کو گالیاں دینا ایمان کا حصہ سمجھتا ہے۔ ہمیںحیرت ہوتی ہے کہ یا اللہ! کیا کوئی مسلمان ایسا بھی عقیدہ رکھ سکتا ہے۔ اور پھر مسیح موعودؑکو ماننے کے بعد یہ بھی اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اُس نے ہمیں خلافت سے وابستہ رکھا، وگرنہ وہ بھی ایک فرقہ ہے ، برائے نام سہی، جس نے خلافت سے اپنا دامن چھڑا کر اور ایک مبارک بستی کو چھوڑ کر ایک بڑے اور نامور شہر کو اپنا مرکز بنایالیکن نہ تو ان کا کوئی نام رہا اور نہ کوئی شہرت رہی جو پہلے بھی کبھی نہ تھی۔اور بہت سے وہ بھی ہیں جو باغی اور برگشتہ ہوکر خلافت سے علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَۃً۰ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ۔
خلافت اتحاد و اتفاق ، تقویٰ و طہارت، اسلام کی ترقی اور اس کی تمکنت، اور ہر طرح کی انفرادی و اجتماعی رُوحانی زندگی کی ضمانت ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد احباب جماعت کو جو قیمتی اور زرّیں نصائح فرمائیں اُن میں سے ایک نصیحت یہ تھی ، آپؓنے فرمایا :
’’یاد رکھو ساری خوبیاں وحدت میں ہیں ،جس کا کوئی رئیس نہیں وہ مرچکی ہے۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 190)
پس وحدت میں زندگی ہے اور وحدت خلافت سے ہے۔ اگر سامنے نمونہ ہو تو بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے۔ آج مسلمان منتشر و متفرق ہیںکوئی ان کا امام نہیں ، کوئی ان کا پرسان حال نہیں، کوئی ان کا درد رکھنے والا نہیں، کوئی ان کے لئے دعا کرنے والا نہیں، کوئی ان کو راستہ دکھانے والا نہیں۔ فلسطین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ 57 مسلمان ممالک مل کر بھی چند ہزار فلسطینی عورتوں اور بچوں کو کھانا مہیا نہیں کرسکے، کیونکہ سب آپس میں افتراق و انشقاق کا شکار ہیں۔ مگر احمدی اللہ کے فضل سے مجتمع و متحد ہیں، ان کا ایک رُوحانی امام ہےجو ان کے لئے دعائیں کرنے والا اور انہیں راستہ دکھانے والا ، قدم قدم پر انہیں رہنمائی کرنے والا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک موقع پر فرمایا کہ ہر رات مَیں چشم تصور میں ہر ملک میں پہنچتا ہوں اور احبابِ جماعت کے لئے دعا کرتا ہوں۔ سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بھی ایک موقع پر فرمایا تھا کہ ایک دُنیاوی لیڈر اور خلیفہ میں یہی فرق ہے کہ خلیفہ احباب جماعت کے لئے دعائیں کرتا ہے اور اُن کا درد اپنے سینے میں رکھتا ہے، جبکہ دُنیاوی لیڈر کو ایسی توفیق نہیں ملتی، بلکہ بسا اوقات ایک دُنیاوی لیڈر تو اپنے اقتدار کی خاطر عوام کو خطرناک آزمائشوں اور ابتلاؤں میں ڈال دیتا ہے۔
سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خلیفہ منتخب ہونے کےبعد جو پہلی تقریر فرمائی، اُس میں آپؓنے یہ بھی فرمایا کہ
’’ اب جو تم نے بیعت کی ہے اور میرے ساتھ ایک تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد قائم کیا ہے ، اُس تعلق میں وفاداری کا نمونہ دکھاؤ اور مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھو، مَیں ضرور تمہیں یاد رکھوں گا۔ ہاں یاد رکھتا بھی رہا ہوں۔ کوئی دُعا مَیں نے آج تک ایسی نہیں کی جس میں مَیں نے سلسلہ کے افراد کے لئے دعا نہ کی ہو۔ مگر اب آگے سے بھی زیادہ یاد رکھوں گا۔ مجھے کبھی پہلے بھی دعا کے لئے کوئی ایسا جوش نہیں آیا، جس میں احمدی قوم کے لئے دُعا نہ کی ہو۔ پھر سُنو کہ کوئی کام ایسا نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کے عہد شکن کیا کرتے ہیں۔ ہماری دُعائیں یہی ہوں کہ مسلمان جئیں اور مسلمان مریں۔ آمین۔ ‘‘ (سوانح فضل عمر جلد 1 صفحہ 342)
مندرجہ بالا اقتباس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ خلافت سے قبل جب ایک شخص احباب جماعت کیلئے مستقل دعائیں کرتا ہے، تو خلیفہ بننے کے بعد اُس کی دعاؤں کا کیا حال ہوگا؟ پس خلیفہ وقت مسلسل اور مستقل اپنی جماعت کے لئے دعائیں کرتا ہے۔ یہ جماعت احمدیہ پر بہت بڑا انعام ہے ، باقی دُنیا اس انعام اور اس رحمت سے محروم ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو خلیفہ بناتا ہے تو اس کی دعاؤں کی قبولیت کو بھی بڑھا دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے انتخاب کی لاج رکھتا ہے اور اس کی مقبولیت کو قبولیت دُعا کے طفیل بڑھاتا ہے۔ پس انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی جماعت خلیفہ وقت کی دعاؤں سے بہت فائدہ اُٹھاتی ہے۔ جماعت اپنی ہر مشکل کو خلیفہ کے سامنے رکھتی ہے اور مطمئن ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور کی دعاؤں کے طفیل فضل فرمائے گا۔ پس خلافت سے وابستگی کے بے شمار فوائد ہیںدینی بھی اور دُنیاوی بھی۔ خلافت کی جو نعمت ہمیں ملی ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے اور خلیفہ وقت کی باتوں کو غور سے سننا چاہئے اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔ خلافت سے وابستگی کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ خلیفہ وقت کے ساتھ خطوط کے ذریعہ رابطہ رکھا جائے۔ ایک اور ذریعہ یہ ہے کہ خلیفہ وقت کیلئے دعائیں کرتے رہنا چاہئے اس سے بھی خلافت سے وابستگی اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ خلیفہ وقت کی باتوں کو غور سے سننا اور اس پر عمل کرنا اس سے بھی خلافت سے وابستگی پیدا ہوتی ہے، اس کیلئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں mta کی نعمت عطا کی ہے۔ ایم ٹی اے پر خلیفہ وقت کے خطبات و خطابات کو سننا ہمارے لئے بہت ضروری ہے۔ جب تک ہم حضور کی باتوں کو محبت سے نہیں سنیں گے ہمیں خلافت سے وابستگی پیدا نہیں ہوگی۔
ذیل میں ہم حضور پُرنُور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے کچھ ارشادات پیش کرتے ہیں جن سے خلافت سے وابستگی کی اہمیت پر روشنی پڑتی ہے۔ ایتھنز ، یونان کے چوتھے جلسہ سالانہ منعقدہ 30؍ اپریل 2023ء کے موقع پرسیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے بصیرت افروز پیغام میں فرمایا :
میں آپ کو یہ بھی نصیحت کرتا ہوں خلافت احمدیہ کیساتھ ہمیشہ وفادار رہیں۔ایم ٹی اے دیکھیں اور باقاعدگی سے میرے خطبات سنیں۔ان کو سمجھنے کی کوشش کریں اور جن باتوں کی طرف میں راہنمائی کرتا ہوں ان کی پیروی کریں۔آج اسلام کی اشاعت اور دنیا میں امن صرف خلافت کے نظام پر عمل پیرا ہو کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نظام خلافت کو سب سے زیادہ اہمیت دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی آنے والی نسلیں خلافت احمدیہ کی مبارک پناہ،راہنمائی اور حفاظت کے اندر رہیں۔
(بدر 8 فروری 2024ءصفحہ 14)
جلسہ سالانہ سپین 2023ء کے موقع پر سیّدناحضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے بصیرت افروز پیغام میں فرمایا :
اللہ تعالیٰ کا آپ پر بڑا فضل اور احسان ہے کہ آپ کو خلافت کی نعمت سے نوازا ہے اور اس کے ذریعہ ایک لڑی میں پروئے گئے ہیں۔ اس نعمت کی قد ر کریں اور اسکی اطاعت کے اعلیٰ نمونے پیش کرنے کی کوشش کریں۔ اس قدرت کے ساتھ کامل اخلاص و محبت اور وفا اور عقیدت کا تعلق رکھیں ا ور خلافت کی اطاعت کے جذبہ کو دائمی بنائیں اور اس کے ساتھ محبت کے جذبہ کو اس قدر بڑھائیں کہ اس محبت کے بالمقابل دوسرے تمام رشتے کمتر نظر آئیں امام سے وابستگی میں ہی سب برکتیں ہیں اور وہی آپ کیلئے ہرقسم کے فتنوں اور ابتلائوں کے مقابلہ کیلئے ایک ڈھال ہے۔ پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو یہی نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہو جائیں۔ اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ ہماری ساری ترقیات کا دارومدار خلافت سے وابستگی میں ہی پنہاں ہے۔ (بدر 29 فروری 2024ءصفحہ 16)
جماعت احمدیہ تنزانیہ کے52ویں جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے بصیرت افروز پیغام میں فرمایا :
مَیں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ خلافت احمدیہ کے ساتھ مضبوط تعلق رکھیں۔اور خلافت احمدیہ کے ذریعہ حاصل ہونے والے انعامات کے شکرانے کے طور پر اس کا مستقل شکر ادا کرتے رہیں۔ہمیں صرف خلافت احمدیہ کے ذریعہ حاصل ہونے والے لاتعداد انعامات کے شکرانے کے طور پر ہی اس کا شکر ادا نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہمیں اس بات کا بھی پختہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم اچھے اور نیک کام کریں گے اور مثالی احمدی بننے کی کوشش کریں گے۔یاد رکھیں کہ ہماری کامیابی کا دارومدار خلافت احمدیہ سے جڑے رہنے پر ہے جو آج حقیقی طور پر مسلمانوں کی خلافت کی نمائندگی کر رہی ہے۔صرف خلیفۃ المسیح کی راہنمائی پر دیانتداری کے ساتھ عمل پیرا ہو کر ہی آپ دنیا کو اسلام کی خالص اور حقیقی تعلیمات سے روشناس کروا سکیں گے۔
یہ بھی انتہائی اہم اور ضروری ہےکہ آپ مکمل طور پر نظام جماعت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں کیونکہ ہم تبھی آگے بڑھ سکتے اور ترقی کر سکتے ہیں جب ہم متحد ہوں اور جماعت کے عالیشان مقصد کو حاصل کرنے کیلئے مل کر کام کریں ۔آپ کو عموماً mta دیکھنا چاہئے اور اپنے اہل خانہ اور خاص طور پر بچوں کو بھی اس کی ترغیب دینی چاہئے۔ آپ کو خاص طور پر میرے خطباتِ جمعہ اور دوسرے مواقع اور تقریبات پر کیے گئے خطابات کو سننا چاہئے۔ یہ آپ کاخلافت سے مستقل رابطہ جوڑ ے رکھے گا اور آپ کے ایمان کو مضبوط کرے گا۔
(بدر 4 ؍اپریل 2024ءصفحہ 13)
جماعت احمدیہ سوئٹزرلینڈ کے 41ویں جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے بصیرت افروز پیغام میں فرمایا :
میں آپ کو خلافت احمدیہ کے خدائی نظام کی اہمیت کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں، ہمیشہ خلیفۃ المسیح سے وفادار رہیں اور مضبوط تعلق بنا کر رکھیں۔ اپنے بچوں کو بھی خلافت کی برکات سے آگاہ کرتے رہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی آئندہ نسلیں ہمیشہ خلافت کی راہنمائی میں اور اس کے بابرکت سایہ و حفاظت میں رہیں۔ آپ لوگ ایم ٹی اے باقاعدگی سےدیکھا کریں اور اپنے اہل خانہ بالخصوص بچوں کو اس کی تلقین کیا کریں۔میرے خطبات جمعہ کوشش کر کے براہ راست سنیں اور اسی طرح مختلف تقاریب اور پروگراموں میں میرے دیے گئے خطابات اور تقاریر خصوصیت کے ساتھ سنا کریں۔اس طرح آپ کا خلافت کے ساتھ ایک گہرا تعلق قائم رہے گا، ایمان مضبوط ہو گا۔(بدر 11؍اپریل 2024ءصفحہ 16)
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم خلیفہ وقت کی باتوں کو غور سے سنیں اور ان پر عمل کریں اور خلافت سے حقیقی وابستگی کا حق ادا کرسکیں۔ آمین۔ (منصور احمد مسرور)
…٭…٭…٭…