قرآن مجید، احادیث، اور صحف سابقہ کی پیشگوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چودھویں صدی کے شروع میں جو کہ انتہائی تاریکی اور کفر و ضلالت کا زمانہ تھا امام مہدی اور مسیح موعود بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ کا عظیم الشان مشن قرآن مجید ان الفاظ میں بیان کرتا ہے :
لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۰ۙ (سورۃُ الصّف)یعنی دُنیا کے تمام مذاہب پر اسلام کو غالب کرنا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؑکا عظیم الشان مشن ان الفاظ میں بیان فرمایا :
لَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ عِنْدَ الثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رَجُلٌ اَوْرِجَالٌ مِنْ ھٰؤُلَاءِ
یعنی ایمان اگر زمین سے اُٹھ کر ثریّا ستارے پر بھی چلا گیا ہو تو امام مہدی دوبارہ اُسے زمین پر قائم کردیگا۔ اُوپر کی آیت اور حدیث حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عظیم الشان منصب اور مقام پر دلالت کرتی ہے۔ ایک انسان کے خیالات کو تبدیل کرنا بھی ایک مشکل کام ہے کُجا یہ کہ پوری دُنیا کے خیالات بدل دئیے جائیں۔ لیکن اسلام کا خدا جب کسی کام کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ ہوکر رہتا ہے۔ اس کے لئے کوئی بھی کام مشکل نہیں۔ جس نے اسلام کو ایک قلیل عرصہ میں پوری دُنیا میں پھیلا دیا تھا، وہ آج بھی طاقت رکھتا ہے کہ دُنیا کے خیالات کو یکسر بدل دے۔ وہ چاہے تو پوری کائنات میں ، کائنات کے چپے چپے میں توحید کی ہوا چلادے۔ وہ چاہے تو توحید کی اُس تار کو چھیڑ دے جو ہر دل میں اور ہر فطرت میں دبی ہوئی ہے اوراپنی محبت، خالق ومالک کی محبت میں بنی نوع انسان کوایسا گرفتار کردے کہ وہ دیوانہ وار بھاگ کر اس کے آستانہ پر گرنے لگیں۔ اسلام کے خدا میں، ہاں صرف اور صرف اسلام کے خدا میں یہ طاقت ہے وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئیٍ قَدِیْر۔
اور اس کے لئے یعنی پوری دُنیا میں اسلام کے غلبہ کی مشن کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ آپؑنے اس کی تخمریزی فرمادی، یہ پودا اب بڑھ رہا ہے، پھل پھول رہا ہے اور دُنیا کے دو سو سے زائد ممالک میں اس کی شاخیں پھیل گئی ہیںالحمد للہ۔ آپؑکی بعثت اور آپؑپر ایمان لانا کس قدر ضروری ہے اس تعلق میں چند ارشادات آپؑکے ذیل میں پیش ہیں۔ سیّدنا حضرت امام مہدی و مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
ایسے وقت میںمَیں ظاہر ہوا ہوں کہ جب کہ اسلامی عقیدے اختلافات سے بھر گئے تھے۔اور کوئی عقیدہ اختلاف سے خالی نہ تھا… میرے لئے ضروری نہیں تھا کہ میں اپنی حقّیت کی کوئی اَور دلیل پیش کروں کیونکہ ضرورت خود دلیل ہے۔ (ضرورۃ الامام ،رُوحانی خزائن جلد 13، صفحہ 495)
آپ علیہ السلام نے فرمایا :
خدائے تعالیٰ نے اس زمانہ کو تاریک پا کر اور دُنیا کو غفلت اور کفر اور شرک میں غرق دیکھ کر ایمان اور صدق اور تقویٰ اور راست بازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کر کے مجھے بھیجا ہے کہ تا وہ دوبارہ دُنیا میں علمی اور عملی اور اخلاقی اور ایمانی سچائی کو قائم کرے۔ (آئینہ کمالات اسلام ،رُوحانی خزائن جلد 5، صفحہ 251)
فرمایا : مَیں تمام اُن لوگوں کے لئے بھیجا گیا ہوں جو زمین پر رہتے ہیں خواہ وہ ایشیا کے رہنے والے ہیں اور خواہ یورپ کے اور خواہ امریکہ کے۔ (تریاق القلوب،رُوحانی خزائن جلد 15، صفحہ 515)
آپ علیہ السلام فرماتے ہیں : اگر تم ایماندار ہو توشکر کرو اور شکر کے سجدات بجا لائو کہ وہ زمانہ جسکا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آبا ء گزرگئے اور بیشمار رُوحیں اُسکے شوق میں ہی سفر کر گئیں وہ وقت تم نے پا لیا۔ اب اُسکی قدر کرنا یا نہ کرنا اور اُس سے فائدہ اُٹھانا یا نہ اُٹھانا تمہارے ہاتھ میں ہے۔ میں اِسکو بار بار بیان کروں گا اور اِس کے اظہار سے مَیں رُک نہیں سکتا کہ مَیں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا تا دین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔ (فتح اسلام ،رُوحانی خزائن جلد 3، صفحہ 8)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ارشاد ہمیں دعوت فکر دیتا ہے کہ ہم نے جو مسیح موعودؑ کا زمانہ پایا، ہم اس عظیم الشان مشن اور عظیم الشان سلسلہ کی ترقی اور اشاعت کیلئے بھر پور کوشش کررہے ہیں یا نہیں؟ یا صرف چندوں میں کچھ روپے دیکر اپنے آپ کو تمام ذمہ داریوں سے سبکدوش سمجھتے ہیں۔ سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عظیم الشان مقام و مرتبہ کے متعلق ذیل میں کچھ اُمور پیش ہیں۔
سورہ جمعہ میں آخرین منہم کے الفاظ میں جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے وہ دراصل مسیح موعودعلیہ السلام ہیں۔ یعنی آپؑکی بعثت بروزی اور ظلی طور پر محمد مصطفیٰ ﷺکی بعثت ہے۔ آپؑکا آنا محمد مصطفیٰ ﷺ کا آنا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’میں بموجب آیت وَاٰخَرِيْنَ مِنْہُمْ …بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں، اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ، رُوحانی خزائن جلد 18)
پس جس کے وجود کو اللہ تعالیٰ نے ظلی و بروزی طور پر آنحضرت ﷺ کا وجود قرار دیایقیناً اس کا مقام و مرتبہ بہت ہی عظیم الشان ہوگا۔ یہاں پر ہم نہایت اختصار کے ساتھ عرض کردیں کہ سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریر میں بارہا اس امر کا اظہار فرمادیا ہے کہ آپؑکا جو بھی مقام و مرتبہ ہے وہ آنحضرت ﷺ کی کامل متابعت اور آپؐسے کمال عشق و محبت کی وجہ سے ہے۔ آپؑکا اپنا کچھ بھی نہیں جو کچھ بھی ہے وہ آنحضرت ﷺ کا ہے۔ آپؑکو کسی بھی رنگ میں آنحضرت ﷺسے برتری یا ہمسری کا کوئی دعویٰ نہیں، مولویوں کے ایسے ناپاک الزامات سے ہمارا دل خون ہوتا ہے۔ اگر آپؑکو دعویٰ ہے تو بس یہی کہ :
جان و دلم فدائے جمال محمد است …٭… خاکم نثار کوچہ آل محمد است
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آنحضرت ﷺ کا ظل اور بروز ہونا قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اور قرآن کریم کی روشنی میں بزرگان اُمت نے بھی اس پر کافی روشنی ڈالی ہے۔ پس یہ کوئی من گھڑت بات نہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورہ جمعہ میں آنحضرت ﷺ کی ایک دوسری بعثت کا بھی ذکر فرمایا ہے ۔ پس آنحضرت ﷺ کی یہ دوسری بعثت امام مہدی و مسیح موعود کے وجود میں ظلی اور بروزی رنگ میں ہونا مقدر تھی۔ اب ہم اس سلسلہ میں بزرگان اُمت کے کچھ اقوال پیش کرتے ہیں۔
حضرت محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
”آخری زمانہ میں جو امام مہدی آئیں گے وہ احکامِ شریعت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوں گے اور معارف و علوم اور حقیقت میں آپ کے سوا تمام انبیاءاور اولیاءاُن کے تابع ہوں گے… کیونکہ امام مہدی کا باطن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا باطن ہو گا۔“ (شرح فصوص الحکم مطبعۃ ا لزاہر مصریہ ، صفحہ51)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
”اُمت محمدیہ میں آنے والے مسیح موعود کا یہ حق ہے کہ اس میں سیدالمرسلین ﷺکے انوار کا انعکاس ہو۔ عامۃ الناس یہ گمان کرتے ہیں کہ جب وہ موعود دُنیا میں آئے گا تو اس کی حیثیت محض ایک امتی کی ہو گی، ایسا ہرگز نہیں، بلکہ وہ تو اسم جامع محمدی کی پوری تشریح ہو گا اور اُسی کا دوسرا نسخہ ہو گا۔ پس اُس کے اور ایک عام اُمتی کے درمیان بہت بڑا فرق ہے“۔ (الخیر الکثیر از حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی صفحہ ۷۲،مدینہ پریس بجنور )
حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :
”جب امام مہدی آئے گا تو یہ اعلان کرے گا کہ اَے لوگو! اگر تم میں سے کوئی ابراہیم ؑ اور اسمعٰیل ؑ کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ میں ہی ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ ہوں۔ اور اگر تم میں سے کوئی موسٰی اوریوشع کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ میں ہی موسٰی اور یوشع ہوں اور اگر تم میں سے کوئی عیسیٰ ؑاور شمعون کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ عیسیٰؑ اور شمعون میں ہی ہوں۔ اور اگر تم میں سے کوئی محمد مصطفی ﷺاور امیرالمؤمنین (علیؓ) کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ محمد مصطفی ﷺ اور امیرالمؤمنین میں ہی ہوں۔“ (بحارُالانوار جلدنمبر13صفحہ202)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
آدم سے لے کر اخیر تک جس قدر انبیاعلیھم السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے دُنیا میں آئے ہیں … سب کے خاص واقعات یا خاص صفات میں سے اِس عاجز کو کچھ حصہ دیا گیا ہے اور ایک بھی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے خواص یا واقعات میں سے اس عاجز کو حصہ نہیں دیا گیا۔ ہر ایک نبی کی فطرت کانقش میری فطرت میں ہے۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم،صفحہ، 134)
اسی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے آپؑکو الہاماً فرمایا : جَرِیٔ اللہ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے پہلوان ہیں تمام نبیوں کے لبادہ میں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ایک فارسی منظوم کلام میں فرماتے ہیں :
منم مسیحِ زمان و منم کلیمِ خدا …٭…منم محمدؐ و احمدؐ کہ مجتبیٰ باشد (تریاق القلوب جلد 15)
آپؑاپنے ایک اُردو منظوم کلام میں فرماتے ہیں :
مَیں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں …٭… نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
نیز آپؑفرماتے ہیں :
اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راستباز مقدس نبی گذر چکے ہیں ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں سو وہ میں ہوں ۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم،صفحہ 135)
اللہ تعالیٰ ہمیں سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام و مرتبہ کو صحیح رنگ میں شناخت کرنے کی توفیق عطا فرمائےاور ہم آپؑکے احکامات وارشادات کی کامل اطاعت و فرمانبرداری کرنے والے ہوںاور آپؑکے عظیم الشان مشن میں بھرپور حصہ لیکر اللہ کے حضور سرخرو ہونے والے ہوں۔ آمین۔
(منصور احمد مسرور)
…٭…٭…٭…