ان دنوں سعودی عرب کے حوالہ سے سوشل میڈیا پر یہ خبریں زوروں پر ہیں کہ سعودی عرب نے قانون سازی کے حوالہ سے ’’ متواتر‘‘ احادیث کے علاوہ باقی تمام احادیث پر عمل کو مشکوک سمجھتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ بعض مسلمان ملاں یا ان کے ہمنوا جو سوشل میڈیا پر دن رات مسلم عوام کے جذبات کو بھڑکانے کیلئے اور سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے ایسی خبریں اُڑاتے رہتے ہیں اس میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کچھ سال قبل سعودی حکومت نے اپنے ملک کو معاشی و معاشرتی اعتبار سے بہتر بنانے کیلئے وژن 2030ء کے نام سے ایک منصوبہ بندی کی تھی جس کا اصل مقصد یہ تھا کہ وہ کونسے ذرائع ہیں جن سے سعودی عرب کو تیل کی آمد کے علاوہ بھی مضبوط معاشی قدموں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ اس میں سیاحت، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو بڑھانا، جدید شہروں کی تعمیر اور تفریحی مراکز کا قیام، خواتین میں ملازمت کے مواقع اور ان کی آزادی کی طرف قدم وغیرہ شامل تھے۔ انہی میں بعض مذہبی اصلاحات بھی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ قانون سازی میں قرآن کے ساتھ ساتھ متواتر احادیث سے مدد لی جائے اور حدیث احاد اور حدیث خبر کو نیچے کے درجہ میں رکھا جانا چاہئے۔
سعودی عرب کی حکومت نے اس حوالہ سے کیا بیان دیا اور کسی بھی بات کو پھیلا کر سستی شہرت حاصل کرنے والے مُلاں اس حوالہ سے کیا کہتے ہیں ان سب باتوں کو چھوڑتے ہوئے ہم مامور زمانہ سیّدنا حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے قرآن مجید، سنّت اور احادیث کے ذریعہ ہدایت حاصل کرنے کے حوالہ سے کیا راہنمائی فرمائی ہے، بیان کرتے ہیں اورعرض کرتے ہیں کہ اُمّت کو جہاں جہاں بھی ٹھوکر لگی ہے اور جہاں جہاں بھی اس کو راہنمائی کی ضرورت محسوس ہوئی ہے آپ نے باذن الٰہی راہنمائی فرمائی ہے۔
آپ کی زندگی میں فرقہ اہل قرآن وجود میں آچکا تھا جس کے بانی ان دنوں عبداللہ چکڑالوی صاحب اور غلام احمد پرویزی صاحب تھے۔ ان حضرات سے اہل حدیث علماء کے آئے دن مباحثے ہوتے رہتے تھے۔ ان میں سے ایک مباحثہ عبداللہ چکڑالوی صاحب اور محمد حسین بٹالوی صاحب کے مابین 1902ء میں ہوا۔ عبداللہ صاحب اہل قرآن تھے اور محمد حسین بٹالوی صاحب اہل حدیث تھے۔ عبداللہ چکڑالوی صاحب اور ان کے ہمنوا صرف قرآن مجید کو مانتے تھے اور احادیث کو قابل عمل نہیں سمجھتے تھے اور مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کا عقیدہ یہ تھا کہ احادیث اللہ کی کتاب قرآن پر قاضی ہیں۔ ہر دو افراط و تفریط میں چلے گئے تھے۔ اس مباحثے پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک ریویو تحریر فرمایا تھا جو کہ روحانی خزائن کی جلد نمبر 19 میں بعنوان
’’ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی‘‘
موجود ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس میں ہر دو کو قرآن مجید اور احادیث کی عظیم الشان ہدایات کے حوالہ سے جو راہنمائی فرمائی ہے وہ ذیل میں درج کی جاتی ہے۔ مسلم علماء اور ان کی حکومتوں کے لئے یہ راہنمائی قابل تقلید ہے۔
آپ نے فرمایا:
تین چیزیں ہیں کہ جو تمہاری ہدایت کے لئے خدا نے تمہیں دی ہیں ۔ اوّل قرآن ہے۔ دوسرا ذریعہ ہدایت کا سُنّت ہے یعنی وہ پاک نمونے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل اور عمل سے دکھائے مثلاً نماز پڑھ کے دکھلائی کہ یوں نماز چاہئے اور روزہ رکھ کر دکھلایا کہ یوں روزہ چاہئے۔ اس کا نام سُنّت ہے یعنی روش نبوی جو خدا کے قول کو فعل کے رنگ میں دکھلاتے رہے سُنّت اسی کا نام ہے۔ تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے جو آپ کے بعد آپ کے اقوال جمع کئے گئے ا ورحدیث کا رتبہ قرآن اور سُنّت سے کمتر ہے کیونکہ اکثر حدیثیں ظنی ہیں لیکن اگر ساتھ سُنّت ہو تو وہ اس کو یقینی کردے گی۔‘‘ (کشتی نوح صفحہ 33-34 مطبوعہ نظارت نشرواشاعت قادیان 2018)
اس راہنمائی کے حوالہ سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مذکورہ ہر دو علماء کے مباحثہ پر جو ریویو کیا اس میں آپ نے فرمایا:
’’ اصل بات یہ ہے کہ ان ہر دو فریق میں سے ایک فریق نے افراط کی راہ اختیار کی ہے اور دوسرے نے تفریط کی۔ فریق اوّل یعنی محمد حسین صاحب اگرچہ اس بات میں سچ پر ہیں کہ احادیث نبویہ مرفوعہ متصلہ ایسی چیز نہیں ہیں کہ ان کو ردّی اور لغو سمجھا جائے لیکن وہ حفظِ مراتب کے قاعدہ کو فراموش کرکے احادیث کے مرتبہ کو اس بلند مینار پر چڑھاتے ہیں جس سے قرآن شریف کی ہتک لازم آتی ہے اور اس سے انکار کرنا پڑتا ہے اور یہ صریح غلطی ہے اور جادۂ انصاف سے تجاوز ہے۔ اللہ جل شانہ‘ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَبِاَیِّ حدیثٍ بعد اللہ و اٰیاتہٖ یُومنون یعنی خدا اور اس کی آیتوں کے بعد کس حدیث پر ایمان لائیں گے ..... اور ان کے مخالف مولوی عبداللہ صاحب نے تفریط کی راہ پر قدم مارا ہے جو سرے سے احادیث سے انکار کردیا ہے اور احادیث سے انکار ایک طور سے قرآن شریف سے بھی انکار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے قُلْ ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یُحْبِبْکُمُ اللہ پس جبکہ خداتعالیٰ کی محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے وابستہ ہے اور آنجناب کے عملی نمونوں کے دریافت کے لئے جن پر اتباع موقوف ہے حدیث بھی ایک ذریعہ ہے۔ پس جو شخص حدیث کو چھوڑتا ہے وہ طریق اتباع کو بھی چھوڑتا ہے۔‘‘
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دیگر محدثین اور ان کے ناقدین کے طریق سے ہٹ کر حدیث کو پرکھنے کا ذریعہ یہ بتایا ہے کہ جو حدیث قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق ہے وہ خواہ کیسی ہی ضعیف ہو اُسے قبول کیا جانا چاہئے اور اگر کوئی حدیث خواہ وہ کتنی ہی مستند و متواتر ہو لیکن اگر وہ قرآن مجید کی واضح تعلیم کے خلاف ہو تو پہلے اس کی تطبیق کی فکر کرنی چاہئے لیکن اگر کسی طرح تعارض دور نہ ہو تو ایسی حدیث کو ترک کردینا چاہئے کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نہیں ہے نیز آپ نے فرمایا اگر کوئی حدیث ایسی ہے جو کسی پیشگوئی پر مشتمل ہے مگر محدثین کے نزدیک وہ ضعیف ہے اور کسی زمانہ میں وہ پیشگوئی سچی نکلی ہے تو اس حدیث کو بھی سچی سمجھو اور ایسے محدثوں اور راویوں کو غلطی پر خیال کرو اور کاذب سمجھو جنہوں نے اس حدیث کو ضعیف اور موضوع قرار دیا ہو۔ایسی حدیثیں صدہا ہیں جن میں پیشگوئیاں ہیں اور اکثر ان میں سے محدثین کے نزدیک مجروح یا موضوع یا ضعیف ہیں۔ پس اگر کوئی حدیث ان میں سے پوری ہوجائے اور تم یہ کہہ کر ٹال دو کہ ہم اس کو نہیں مانتے کیونکہ یہ حدیث ضعیف ہے یا کوئی روای اس کا متدین نہیں ہے تو اس صورت میں تمہاری خود بے ایمانی ہوگی کہ ایسی حدیث کو رد کردو جس کا سچا ہونا خدا نے ظاہر کردیا ہے۔ ( خلاصہ عبارت کشتی نوح)
پس احادیث کو پرکھنے کے حوالہ سے یہ وہ مستحکم اصول ہیں جو سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائے ہیں اور جو اس دور میں خدا کی طرف سے حکم و عدل کے طور پر آئے ہیں آپ کے پیش کردہ تمام الٰہی فیصلوں کو مان کر ہی ہم اسلام کی مضبوطی اور بقا کے ضامن ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ احادیث کے پرکھنے اور ان پر عمل کرنے کے حوالہ سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی مذکورہ راہنمائی پر عمل کیا جائے۔
ژژژ