اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-04-30

دعا اور ذکر الٰہی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے عظیم ہتھیار

آنحضرت ﷺ نے بطور پیشگوئی فرمایا تھا کہ امام مہدی و مسیح موعود کے ذریعہ اسلام کی فتح قرآن مجید کے روشن دلائل دعائوں اور ذکر الٰہی سے ہوگی اور اسی کیلئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تمام زندگی میں زور دیا اور دعائوں و ذکر الٰہی پر ایک ایسا روحانی علم آپ نے چھوڑا جس کی نظیر نہیں ملتی ۔آپ کے بعد خلفائے عظام نے وقتاً فوقتاً دعائوں اور ذکر الٰہی کی جامع عالمی تحریکات فرمائیں جس سے دنیا بھر کی جماعتیں عالمی طور پر ان پروگراموں میں حصہ لیتی رہیں اور دعائوں و ذکر الٰہی کے نتیجہ میں عرصہ سوا سو سال میں جماعت نے وہ برکات حاصل کی ہیں جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حوالہ سے 1916ء میں ایک جامع تقریر فرمائی جس سے ذکر الٰہی اور دعا کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ آسمان و زمین کی عظیم الشان تخلیق کو دیکھتے ہوئے اٹھتے بیٹھتے اور پہلو کے بل لیٹے ہوئے اللہ کا ذکرکرتے رہتے ہیں۔ (آل عمران 192)
پھر فرمایا کہ جب بھی ان سے کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے تووہ کثرت سے ذکر الٰہی کرتے ہیں۔
فرمایا کہ وہ لوگ اگر وہ کسی بے حیائی کا ارتکاب کر بیٹھیں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں تو وہ اللہ کا ذکر بہت کرتے ہیں (آل عمران 137)
پھر فرمایا کہ اللہ کے نیک بندے اللہ کے انعامات کو دیکھ کر جو اس نے ان پر کئے ہیں بکثرت ذکر الٰہی کرتے ہیں (البقرہ 232)
مزید فرمایا کہ اللہ کے بندے اللہ کا ذکر کریں گے اس کو یاد رکھیں گے تو اللہ بھی ان کو یاد رکھے گا فرمایا تم میرا ذکر کرو میں تم کو تمہاری مصیبتوں اور آزمائشوں کے وقت یاد رکھوں گا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے متعلق فرمایا ہے کہ
’’وہ لوگ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا جب شیطان کی طرف سے ان کو کوئی تکلیف دہ خیال پہنچے تو وہ بکثرت ذکر کرتے ہیں‘‘ (الاعراف:202)
اور جو لوگ ذکر الٰہی نہیں کرتے اور غفلت سے کام لیتے ہیں۔ ان کے متعلق فرمایا کہ ہلاکت ہو ان کیلئے جن کے دل اللہ کے ذکر سے محروم رہتے ہوئے سخت ہیں۔ (الزمر:23)
اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو تو اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا ہے
’’جو بھی میرے ذکر سے اعراض کرے گا ہم اسکو فاسق اولاد کے ذریعہ ابتلاء میں ڈالیں گے جو کہ بےدین ہوگی۔ اسکا میلان صرف دنیا کی طرف ہوگا اور وہ عبادت الٰہی سے غافل ہوگی‘‘۔ (تذکرہ صفحہ 382)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر الٰہی کو جنّت کے باغوں سے تشبیہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ ذکر الٰہی کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے اور فرمایا کہ جس گھر میں خدا کا ذکر ہوتا ہے وہ آباد رہتا ہے اور ذکر الٰہی سے محروم گھروں پر ویرانیاں مسلط ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے مساجد کے علاوہ گھروں میں بھی نمازیں پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے۔
الحمدللہ کہ خلفائے وقت شروع سے ہی احمدیوں کو وقتاً فوقتاً ذکر الٰہی کی طرف توجہ دلاتے رہے ہیں۔بلکہ ذکر الٰہی کے جامع پروگرام جماعت کے سامنے رکھتے رہے ہیں اور تاریخ احمدیت گواہ ہے کہ ان پروگراموں کے ذریعہ سے بھی جماعت نےبدیوں سے بیزاری ظاہر کی ہے اور نیکیوں او رخوشحالی کو حاصل کیا ہے۔ اور مخالفتوں کے پہاڑ ان ہی دعائوں سے ریزہ ریزہ ہوئے ہیں اور جماعت کو عالمی ترقیات نصیب ہوئی ہیں۔
اصل ذکر تو نماز ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَقِمِ الصلوٰۃ لذکری (طٰہٰ :15) اور قرآن مجید کو بھی خدا نے ذکر ہی فرمایا ہے جیسا کہ فرمایا انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون (الحجر:10)کہ ہم نےہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔لیکن قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نیک بندے اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے کوئی بھی کام کرتے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے افضل الذکر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہ سب سے افضل ذکر اللہ کی واحدانیت اور معبود ہونے کا اقرار کرنا ہے اور تسبیح و تمحید کے متعلق فرمایاکہ یہ دو کلمے اگر چہ بولنے کے لحاظ سے بہت آسان ہیںہلکے ہیںلیکن خدا کی میزان میں بہت بھاری ہے۔اور اللہ کو بہت پیارے ہیں یعنی سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم کہنا اسی طرح درود شریف کے متعلق فرمایاکے یہ دعائوں اور ذکر الٰہی کی قبولیت کا ذریعہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہم احمدیوں کو درج ذیل دعائوں کی تلقین فرمائی ہے جو احباب جماعت کی یاددہانی کیلئے درج کی جاتی ہیں۔
اس گفتگو کے آخر پرحضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی کتاب ’’ذکر الٰہی ‘‘ سے ذکر الٰہی کے فوائد کا خلاصہ آپ ہی کی مبارک تحریر سے استفادہ کرتے ہوئے اس امید سے درج کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم احمدیوں کو اپنے پیارے امام کی ذکر الٰہی سے متعلق اس مبارک تحریک پر باقاعدگی سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
حضرت مصلح موعودؓفرماتے ہیں:
اب میں ذکر الٰہی کے کچھ فوائد بتاتا ہوں سب سے بڑا فائدہ جو ذکر کرنے سے حاصل ہوتا ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جاتی ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اطمینان قلب حاصل ہو تا ہے۔تیسرا فائدہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بندے کو اپنا دوست بنا لیتا ہے۔چوتھا فائدہ یہ ہے کہ ذکر کرنے والا انسان بدیوں سے رکتا ہے۔ پانچواں فائدہ یہ ہے کہ دل مضبوط ہوتا ہے ۔ چھٹا فائدہ یہ ہے کہ ذکر کرنے والا انسان ہر مقصد میں کامیاب ہوتا ہے بشرطیکہ وہ سچے دل سے ذکر کرتا ہو۔ ساتواں فائدہ یہ ہے کہ ذکر الٰہی کرنے والے پر قیامت کے دن خدا تعالیٰ کا سایہ ہوگا۔ آٹھواں فائدہ یہ ہے کہ دعا قبول ہو جاتی ہے ۔نواں فائدہ یہ ہے کہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔دسواں فائدہ یہ ہے کہ عقل تیز ہوتی ہے اور معارف و نکات کھلتے ہیں گیارھواں فائدہ یہ ہے کہ تقویٰ پیدا ہوتا ہے ۔ بارھواں فائدہ یہ ہے کہ محبت الٰہی بڑھتی ہے ۔
فرمایا: یہ ہیں ذکر اللہ کے فوائد جو میں نے مختصر طور پر بیان کر دئے ہیں اور دعا کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اور مجھے بھی خدا تعالیٰ ان سے مستفید کرے ۔(آمین)
(بحوالہ انوار العلوم جلد 3خلاصہ صفحہ 534تا 538)
ززز