خلاصہ خطاب سیّدنا حضرت اقدس امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ برائے مستورات برموقع جلسہ سالانہ جرمنی فرمودہ 05؍ستمبر 2026ء
جرمنی میں 4؍5؍6 ستمبر 2026ء کو 50 واں جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔ جس کے دوسرے روز لجنہ اماء اللہ جرمنی کا الگ سیشن منعقد ہوا۔ سیّدنا حضرت اقدس امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے مستورات کے اس اجلاس سے جو بصیرت افروز خطاب ارشاد فرمایا اس کا خلاصہ ذیل میں درج کیا جارہا ہے۔ (ادارہ)
تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
آپ آج یہاں جلسہ سالانہ میں جمع ہیں۔ اللہ تعالیٰ کاجماعت پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے جماعت کی خواتین میں وہ احساس پیدا کیا ہے جو انہیں اس بات کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہے کہ ہم نے دین کا علم حاصل کرنے کی طرف توجہ دینی ہے تا کہ ہم بھی اور ہماری نسلیں بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والی بنیں اور اس زمانے میں جب دُنیا کھیل کود اور لہو و لعب میں حد سے زیادہ ڈوبتی جارہی ہے اور خدا تعالیٰ کو بُھلا رہی ہے ہم دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد پر چلنے کی کوشش کریں۔ لیکن اس زمانے میں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آجکل شیطان اور دجال کے ہر طرف سے حملوں نے احمدیوں کو بھی ایک حد تک متاثر کردیا ہے اور بعض احمدی خواتین بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں خاص طور پر ان ممالک میں رہتے ہوئے۔
اسلام اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکتابلکہ اس کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام ترقی کرنے اورخُدا تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اُٹھانے سے نہیں روکتا بلکہ اس کی طرف توجّہ دلاتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ تمہارے جو فرائض ہیں اُنہیں بھی ادا کرو۔ تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور پہلے زمانے کی بہت سی خواتین کا ذکر ملتا ہے جو اپنی دینی اور رُوحانی حالت اور بزرگی میں بڑھی ہوئی تھیں او رساتھ ہی دین کے علم اور استدراک سے بھی مالامال تھیں بلکہ ان کی روایات آج بھی اکثر فقہاء کو دین کے معاملات کو حال کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی اُنہیں یہ بھی پتہ تھا کہ عورت کی ذمہ داری کیا ہے اور اپنے گھر اور معاشرے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں انہوں نے کیا کردار اد اکرنا ہے۔ وہ صرف اپنا حق لینے کی باتیں نہیں کرتی تھیں بلکہ حق دینے اور فرائض ادا کرنے کی بات بھی کرتی تھیں اور یہی وجہ ہے کہ آج کی تاریخ میں اُن کے نام اسلام کی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھے گئے ہیں۔ پس آج احمدی خواتین کو جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانا ہے یہ بات سامنے رکھنی چاہئے کہ ان کے فرائض کیا ہیں اور انہوں نے ان فرائض کو کس طرح اد ا کرنا ہے۔ گھر اور معاشرے کی بہتری کیلئے اور اپنے بچوں کے لئے اور اپنے خاندان کے لئے بھی کس طرح اپنا نمونہ دکھانا ہے اور اس چیز پر غور کرنا ہے کہ اگر آج ان کے خیال میں یا حقیقت میں بھی اگر مرد اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کررہے تو انہوں نے اپنی آنے والی نسلوں میں اعلیٰ کردار اور دیندار مرد پیدا کرنے ہیں۔ اعلیٰ کردار کی اور دیندار عورتیں پیدا کرنی ہیں تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو عہد بیعت کیا ہے اُسے پورا کرکے ایک حسین معاشرہ قائم کریں۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ آجکل اس معاشرے میں رہتے ہوئے ترقی کے نام پر بہت کچھ کہا جارہا ہے لیکن ایک حقیقی احمدی مسلمان بننے کے لئے ہم نے اپنا کردار بہرحال ادا کرنا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف مواقع پر جماعت کے مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی نصیحتیں فرمائی ہیں ان باتوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے اور یہ تبھی ہوسکتا ہے جب ہم آپ کی باتوں کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے اُنہیں بار بار دہراتے رہیں۔ اگر یہ نہیں ہے تو پھر یاد رکھیں کہ ہمارا احمدی ہونے کا جو مقصد ہے وہ پورا نہیں ہوسکتا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں توجہ دلائی ہے کہ یہ بات ہمیشہ یاد رکھو کہ دوسروں کے حق ادا کرنے کیلئے ہر نیکی کرنے والے کے ساتھ نیکی ہونی چاہئے بلکہ بڑھ کر نیکی ہونی چاہئے۔ یہ نہیں کہ اس کا صرف شکریہ ادا کردیا جائے۔ اعلیٰ اخلاق صرف اس چیز کا نام نہیں کہ جو نیکی کرتا ہے اس کے ساتھ نیکی کرو بلکہ جو بدی کرتا ہے اس کو بھی معاف کرو اور حسن سلوک کرو۔ پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نے جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی ہے وہاں بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے کیلئے بھرپور کوشش کرنی ہے اور معاشرے میں امن پیدا کرنے کیلئے اور لڑائی جھگڑوں اور فسادوں کو دور کرنے کیلئے بھرپور کوشش کرنی ہے۔ چھوٹے چھوٹے معاملات ہیں۔ گھروں میں لڑائیاں ہوجاتی ہیں۔ ساس بہو کی لڑائی ہوجاتی ہے۔ خاوند بیوی کی لڑائی ہوجاتی ہے۔ اس لئے جب تک ہم یہ احساس پیدا نہیں کریں گے کہ ہم نے ایک دوسرے کو معاف کرنا ہے اس وقت تک ہمارا معاشرہ پاکیزہ معاشرہ نہیں کہلا سکتا وہ معاشرہ نہیں کہلا سکتا جو اسلامی احکامات پر چلنے والا معاشرہ ہے۔ پس ہم نے صلح کی بُنیاد ڈالنی ہے اور صلح کی بُنیاد پہلے اپنے گھر سے شروع ہوتی ہے اور اگر یہ ہوگا تو یہی اگلی نسلوں کو بھی سبق دے گا۔
پھر آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ جماعت کو باہم اتفاق اورمحبت سے رہنا چاہئے۔ آپؑ نے فرمایا کہ میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔ پہلا یہ کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو اختیار کرو اور اس کی عبادت کرو۔ دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو ، وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کیلئے بھی ایک نشان بن جائے۔ آپؑ نے فرمایا کہ صحابہ میں اسی طرح انقلاب پیدا ہوا تھا اور انہوں نے ایک حسین معاشرہ پیدا کردیا۔ وہ اسی طرح پیدا ہوا کہ وہ اللہ کی عبادت کرنے والے تھے اورحسین معاشرہ قائم کرنے والے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ جب تک تم میں سے ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرے، وہی اپنی بہن کیلئے پسند کرے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ فرمایا یہ بڑا انذار کرنے والا اور ایک ڈرانے والا فقرہ ہے۔ اس پر ہم میں سے ایک ایک کو غور کرنا چاہئے۔
فرمایا مہدی کے آنے کی نشانیاں یہ ہیں کہ بُغض اورکینہ نکل چکا ہوگا۔ اب مسیح موعود اورمہدی معہود کو مانا ہے تو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم نے ایک دوسرے کے لئے بغض اور کینہ دلوں سے نکالنا ہے۔
پھر فرمایا کہ دنیا کو مقصود بالذات نہ بناؤ بلکہ دین کو بناؤ۔ دنیا تمہارے لئے بطور خادم کے ہونی چاہئے۔
آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ قرآن مجید کا علم حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف تمہاری اپنی روحانی و اخلاقی حالت دُرست ہوگی بلکہ تمہیں تبلیغ کے میدان میں بھی اس سے فائدہ ہوگا۔ تبھی تم ایک عورت کی حیثیت سے تبلیغ کے میدان میں وہ حق ادا کرسکتی ہو جو ایک احمدی مسلمان ہونے کا حق ہے۔ پس ان باتوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔ یہ نہ سمجھو کہ عورتوں کے لئے تبلیغ کے میدان میں آنا ضروری نہیں ہے۔ عورتوں کو بھی تبلیغ کے میدان میں آگے آنا چاہئے۔ اور آجکل کے حالات میں تو یہ بات بہت ضروری ہے۔ اس لئے قرآن مجید کا باقاعدہ مطالعہ بہت ضروری ہے ۔ اور لجنہ کو اپنی تنظیم کے لحاظ سے اس طرف بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔ اس لئے جہاں قرآن کریم پڑھنا سیکھیں وہاں اس کا ترجمہ بھی سیکھیں اور ان باتوں پر عمل کریں۔
قُرآن کریم نے بڑے واضح طور پر پردے کا حکم دیا ہے۔ حیادار لباس کا حکم دیا ہے۔ مردوں سے ایک فاصلہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ یہ باتیں ایسی ہیں کہ معاشرے میں رہتے ہوئے عام طور پر نظر انداز کردی جاتی ہیں اور ان میں اتنی توجہ نہیں دی جاتی۔ پس آپ لوگوں کا فرض ہے کہ قرآن کریم کے اس حکم پر بھی عمل کریں تبھی آپ ایک حسین معاشرہ قائم کرسکیں گی۔ تبھی آپ اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانے والی بن سکیں گی۔ پس تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اپنے اندر دکھاؤ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جینا اور مرنا خدا تعالیٰ کے لئے تھا۔
فرمایا بعض کہتے ہیں کہ اللہ ہماری دُعائیں نہیں سُنتا۔ جب تک ہم اللہ کی باتیں نہیں سُنیں گے اللہ ہماری دُعا کس طرح سنے گا۔
آجکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر خطبات دے رہا ہوں ان کو غور سے سُننے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اُن پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
فرمایا ان صحبتوں سے بچتے رہو جو آجکل کے زمانے میں ہیں اور وہ چیزیں کیا ہیں۔ ٹی وی ہے، انٹرنیٹ ہے۔ سوشل میڈیا ہے۔ اس نے لوگوں کے اخلاق بگاڑ دئے ہیں اور اخلاقی معیار کو انتہائی نیچے گرا دیا ہے۔ ان حالات میں ایک احمدی عورت کا کام ہے ، ایک احمدی مرد کا کام ہے اور ایک احمدی جوان کا کام ہے کہ ان چیزوں سے نہ صرف خود بچے بلکہ ان کے رد کیلئے ان کو زائل کرنے کیلئے کوششیں بھی کرے اور اپنا نمونہ دکھلائے۔اور نئی ٹیکنالوجی میں، سوشل میڈیا میں جو ہم بُرائی دیکھتے ہیں وہاں نیکی اوراچھائی کو پھیلانے کی کوشش کرے اور پھر یہ کام صرف اپنی مرضی سے نہیں ہوسکتا بلکہ اس کیلئے بھی دُعاؤں کی ضرورت ہے۔ فرمایا دُعاؤں میں لگے رہو اور دُعاؤں میں لگ کر وہ نمونہ دکھاؤ جو صحابہ کا نمونہ ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں میں اپنے نفس میں تمہاری ہمدردی کیلئے انتہا درجہ کا جوش پاتا ہوں۔ میری باتوں کو ایسے آدمی کی وصایا سمجھو جو ہمدرد ہے اور میری باتوں پر عمل کرو۔ حضور اقدس نے فرمایا ہمیں حضور علیہ السلام کے اس درد کو سمجھنا چاہئے۔ فرمایا اپنی ایمانی حالتوں کو دُرست کرنے کیلئے پانچ وقت کی نمازیں بہت ضروری ہیں۔ اگر آپ اپنے بچوں کی توجہ پانچ وقت کی نمازوں کی طرف کروائیں گی اوراپنے خاوندوں کو بھی نمازوں کی طرف توجّہ دلائیں گی تو آپ کا گھر جنّت نظیر بن جائے گا۔ تب ہی ہم اس ترقی یافتہ معاشرے میں اپنی شناخت کروا سکتے ہیں۔ تب ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے بیعت کا حق اد اکیا ہے۔ تب ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو لہرانے میں اپنا کردار اد اکررہی ہیں۔ اگر نہیں تو ہمارا احمدی مسلمان ہونا اللہ کی نظروں میں کوئی قیمت نہیں رکھتا۔ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
اللہ کرے کہ ہم سب عورتیں اورمرد بھی ان مقاصد کو پورا کرنے والے ہوں۔ اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔