اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-08-06

ہم چاہےجتنے مرضی عہد کرتے رہیں نعرے لگاتے رہیںاگر ہمارے اندر تقویٰ نہیں تو یہ نعرےصرف نعرے ہی ہیں خلاصہ افتتاحی خطاب حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بر موقع جلسہ سالانہ برطانیہ 24؍جولائی 2026ء بمقام حدیقۃ المہدی

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے جلسے کے مقاصد کو بیان کرتےہوئے فرمایا کہ

ہم یہ جلسہ اس لیے منعقد کر رہے ہیں تاکہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیزگاری اور نرم دلی اور باہم محبت و مؤاخات میں ایک دوسرے کے لیے نمونہ بن جائیں۔

پس اسی مقصد کے لیے ان جلسوں کا انعقاد ہوتا ہے اور اسی مقصد کے لیے آج آپ لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں۔

یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جب تک ہم اس مقصد کو پانے کے لیے اپنی پوری کوشش نہیں کریں گے ہمارا مسیح موعودؑ کی بیعت میں آنا بھی بےمقصد ہے اور ان جلسوں میں آنا بھی بےمقصد ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ

اسلام کی تعلیم کی جڑ تقویٰ ہے، اگر تقویٰ ہے تو انسان اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم پر عمل کرسکتا ہے ورنہ دین پر عمل کرنے کا ہمارا نعرہ صرف ایک نعرہ رہ جائے گا۔

حضرت مسیح موعودؑ نے اس بنیادی مقصد کو اپنے ایک شعر میں یوں بیان فرمایا ہے کہ

ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے

یہ دوسرا مصرعہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو الہاماً فرمایا تھا۔ پس تقویٰ ہی اصل جڑ ہے جب تک یہ ہم میں رہے گی ہم اپنے مقصد میں بھی کامیاب ہوتے رہیں گے۔ قرآن کریم اور شریعت پر کامل ایمان لانے کےلیے تقویٰ ضروری ہے، عبادات بجالانے کےلیے تقویٰ ضروری ہے، گھریلومعاملات میں حسنِ سلوک کرنے کےلیے تقویٰ ضروری ہے۔

اسلام میں سب سے زیادہ معزز وہ شخص ہے جو متقی ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ متقیوں کا دوست اور مددگار ہے۔ وہ متقی سے محبت کرتا ہے، بہترین انجام متقیوں کا ہوگا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کے لیے بھی تقویٰ کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔

ہم چاہے جتنے مرضی عہدکرتے رہیں، نعرے لگاتے رہیں کہ ہم جماعت سے وابستہ ہیں، حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں آگئے ہیں، ہم آنحضرتﷺ پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ لیکن اگر ہمارے اندر تقویٰ نہیں تو یہ نعرے صرف نعرے ہی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فلاح و کامیابی کے لیے تقویٰ کو شرط قرار دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بےشمار مقامات پر تقویٰ کی اہمیت کو واضح فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نصیحت فرمائی ہے کہ تم تقویٰ میں بڑھنے کی کوشش کرو۔ اگر تم تقویٰ میں آگے بڑھو گے تو ایمان میں اور قربِ الٰہی کے حصول میں بھی آگے بڑھو گے۔

اگر ہم نے کامیابیاں حاصل کرنی ہیں، اپنی اصلاح کرنی ہے، اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے تو اس کے لیے ہمیں متقی بننا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے آغاز میں ہی فرمادیا ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔

یعنی اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ تم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے، اس کے پیغام سے، اس کی شریعت سے تب ہی فائدہ اٹھاسکتے ہو جب تمہارے اندر تقویٰ ہو۔

پس اس بات کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ تقویٰ کے بغیر اسلام میں انسان کا کوئی مقام نہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ قرآن شریف نے تو اپنے نزول کی علتِ غائی یہ قرار دی ہے کہ تقویٰ کی راہوں کو سکھائے۔

اللہ تعالیٰ نے ایک اَور موقع پر قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ مومنوں کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے اس قرآن میں شفا اور رحمت رکھی ہے مگر ظالموں کو یہ صرف خسارے میں بڑھاتا ہے۔ جن میں تقویٰ نہیں انہیں قرآن کریم کوئی راہ نہیں دکھا سکے گا۔

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ

ہماری شریعت اور قرآن کریم میں یہی حکم ہے کہ غضِ بصر سےکام لو اور نظریں نیچی رکھو۔ اگر لوگ اس پر عمل کرنے لگ جائیں اور تقویٰ کی یہ حالت پیدا ہوجائے تو انسان بہت سارے گناہوں سے بچ سکتاہے۔

آج کل کے معاشرے میں یہی وہ گناہ ہیں جو دنیا کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں۔ فرمایا عورتوں کے حسن کے قصے مت سنو اور ان کاموں سے پرہیز کروجن سے تمہیں ٹھوکر لگ سکتی ہے۔

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ نجات بغیر نبی کریمﷺ پر ایمان لانے اور آپ ؐکی ہدایات نماز وغیرہ پر عمل کرنے کے بغیر نہیں مل سکتی۔

پھر ایسے ہی مالی عبادت بھی ہے۔ جس قدر انسان کرسکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اپنے اموالِ مرغوبہ میں سے کچھ خدا کے لیے دے دے۔ اسی لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ وہ ہیں جو اس میں سے خرچ کرتے ہیں جو ہم نے انہیں دیا ہے۔

فرمایا: جو کچھ انسان کو ہر ایک قسم کی نعمت مثلاً اس کی جان اور صحت اور علم اور طاقت اور مال وغیرہ میں سے دیا گیا ہے اس کی کوشش سے صرف مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ تک اپنا اخلاص ظاہر کرسکتا ہے اور اس سےبڑھ کر بشری قوتیں طاقت نہیں رکھتیں۔

فرمایا: یہ احساس کہ یہ میری چیز ہے یہ بھی ایک مرض ہے۔ اگر تم ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کی چیز سمجھو گے تو یہ تقویٰ ہے۔

حضورؑ فرماتے ہیں نماز کو خوب سنوارسنوار کر پڑھنا چاہیے کیونکہ

نماز سب ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے۔ اس لیے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے۔

اس دین میں ہزاروں لاکھوں اولیاء اللہ، راستباز، ابدال اور قطب گزرے ہیں ۔انہوں نے یہ مدارج اور مراتب اسی نماز کے ذریعے حاصل کئے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ قرآن شریف کو سمجھنے اور اس کےموافق ہدایت پانے کے لیے تقویٰ ضروری ہے۔ پھر آپؑ نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تک انسان اپنے اخلاقِ ردیّہ کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک وہ ان اخلاق کے مقابل پر جو اخلاقِ فاضلہ ہیں ان کو قبول نہیں کرسکتا کیونکہ دو ضدیں ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں۔اصل چیز یہ ہے کہ انسان تقویٰ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ آپؑ نے اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ متقی کو پیار کرتا ہے۔

خداتعالیٰ کی عظمت کو یاد کرکے سخت ترساں رہو، اور یاد رکھو کہ سب اللہ کے بندے ہیں۔

کسی پر ظلم نہ کرو ، نہ کسی کو حقارت سے دیکھو۔ جماعت میں اگر ایک آدمی گندا ہوتا ہے تو وہ سب کو گندا کردیتا ہے۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ

ہمیشہ دیکھنا چاہیے کہ ہم نے تقویٰ اور طہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے۔ اس کا معیار قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں ایک یہ بھی نشان رکھاہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو مکروہاتِ دنیا سے آزاد کرکے اُس کے کاموں کا خود متکفل ہوجاتا ہے۔

جیسا کہ فرمایا جو شخص خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک مصیبت میں اس کے لیے راستہ مَخلَصی کا نکال دیتا ہے اور اس کے لیے ایسی روزی کے سامان پیدا کردیتا ہے کہ اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتا۔

فرمایا :یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کمزور ہے، وہ بڑی طاقتوں والا ہے ۔جب اس پر کسی امر میں بھروسہ کروگے تووہ ضرور تمہاری مدد کرے گا ۔ جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے تو وہ اُس کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔

حضورِانور نے فرمایا پس

ہمیں جلسہ پر آنے کا تب ہی فائدہ ہوسکتا ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور اپنے عہدِبیعت کی تجدید کرنے کے لیے یہاں حاضر ہوں اور یہ عہد کریں کہ یہاں سے ہم نیکی اور تقویٰ پر عمل کرنے والے بن کر نکلیں گے۔

آپؑ نے فرمایا کہ ہماری جماعت کے لیے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے سلسلۂ بیعت میں ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے ۔

آخر میں حضورِانور نے فرمایا کہ

ان دنوں میں ذکرِ الٰہی پر بھی بہت زور دیں۔اپنے لیے، جماعت کے لیے اور عالَم اسلام کے لیے بہت دعا کریں۔ پوری دنیا کے لیے بھی بہت دعا کریں۔

اللہ تعالیٰ انہیں اپنی پہچان عطا کرے اور ہمیں بھی تبلیغ کے مقصد کو پورا کرنے اور تقویٰ پر چلتے ہوئے ان تک پیغام پہنچانے کی توفیق دے۔