بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کی تلاوت اور اس کے ترجمہ کے بعد حضور انور نے فرمایا :
سب سے پہلے مَیں تمام معززممبران پارلیمنٹ اور دیگر معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتاہوں کہ آپ نے ایک مذہبی جماعت کے سربراہ کو اجازت دی ہے کہ وہ یہاں آکر آپ سے مخاطب ہو۔
حضور انور نے محترمہ جسٹین گریننگ(Justine Greening)کا بھی خاص طورپر شکریہ ادا کیا ۔ وہ مسجد فضل کے حلقہ کی ممبر آف پارلیمنٹ ہیں ۔حضور انور نے فرمایاکہ اس تقریب کا انعقاد ان کی اعلیٰ ظرفی اوروسیع القلبی کا ثبوت ہے کہ اپنے حلقہ کی ایک چھوٹی سی جماعت کا لحاظ کرتے ہوئے خلافت جوبلی کے موقع پراس قدر کوشش سے سارا انتظام کیا۔ اس سے پتہ چلتاہے کہ وہ اپنے حلقہ کے تمام لوگوں کے جذبات کا خیال رکھنے والی ہیں۔
حضور انور نے فرمایاکہ باوجود اس کے کہ جماعت احمدیہ ایک چھوٹی سی جماعت ہے مگر یہ جماعت اسلام کی سچی تعلیمات کی علمبردار ہے اور برطانیہ میں رہنے والا ہر احمدی محب وطن اوروفادار شہری ہے۔ جس کی وجہ حضرت محمد مصطفیٰا کی تعلیمات ہیں جن کا فرمان ہے کہ وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔
حضور نے فرمایا کہ اسلام کی تعلیمات کی مزید تفسیر اور تفہیم بانی ٔ جماعت احمدیہ نے ہمیں عطا فرمائی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ مسیح موعوداور زمانے کے مصلح ہیں۔ آپ نے اپنے دعویٰ کے ساتھ فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر دو ذمہ داریاں ڈالی ہیں۔ ایک تو خدا تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی اور دوسرے خدا تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی۔آپ نے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاتھاکہ خداتعالیٰ کی مخلوق کے جو حقوق ہیں ان کو عملی جامہ پہنانا نہایت ہی دشوار اور نازک امور ہیں۔
حضور انور نے فرمایاکہ خلافت کے بارہ میں آپ کے دل میں یہ خیال جنم لے سکتاہے کہ اس قسم کی سربراہی سے اختلاف پیدا ہونے اور جنگوں تک کے احتمال ہو سکتے ہیں جیساکہ کہا جاتاہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ حضور نے فرمایا :مَیںآ پ کو یقین دلانا چاہتاہوں کہ باوجود اس کے کہ یہ الزام اسلام پرلگایا جاتاہے مگر انشاء اللہ خلافت احمدیہ ہمیشہ دنیا میں امن وآشتی کی علمبردار رہے گی اوردنیا میںجہاں جہاں احمدی آباد ہیں وہ ا پنے اپنے وطنوں کے وفادار شہری ر ہیںگے۔
حضور نے فرمایا :احمدیہ خلافت کا مقصد مسیح موعوداور مہدی؈ کے مشن کو دنیا میں پھیلاناہے۔ اس لئے اس سے کسی قسم کے خوف کا احتمال نہیں ہے۔ خلافت احمدیہ جماعت کے افرادکو ان ہی دونوں مقاصد کی طرف بلاتی ہے جو حضرت مسیح موعود؈ نے بیان فرمائے ہیں اور اس ذریعہ سے جماعت دنیا بھر میں امن وآشتی کے قیام کے لئے کوشاں رہتی ہے۔
حضورنے فرمایا :ا ب مَیں اپنے اصل مضمون کی طرف آتاہوں اور وقت کی تنگی کے باعث مختصراً بیان کرتاہوں کہ اگر ہم غیر جانبدار ہو کرگزشتہ چند صدیوں کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا میں جو جنگیں اس دور ان ہوئی ہیں وہ حقیقت میں مذہبی جنگیں نہیں تھیں ۔ ان کی بنیاد زیادہ تر جغرافیائی اور سیاسی مفادات تھے۔ یہاںتک کہ آج کے زمانہ میں بھی جو جنگیں ہوئی ہیں ان کی وجوہات سیاسی ، اقتصادی اور سرحدی مفادات ہیں ۔ جس طرح کے عوامل اس وقت کشیدگی کی فضاپیدا کررہے ہیں اس سے خوف پیدا ہوتاہے کہ یہ عناصر مل کر دنیا کو پھر جنگ عظیم کی طرف نہ لے جائیں ۔
حضور نے انتباہ فرمایاکہ یہ عوامل وہ ہیں جن سے نہ صرف غریب ممالک متأثر ہو رہے ہیں بلکہ امیر ممالک بھی متأثرہو رہے ہیں ۔ اس لئے بڑی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کوششیں مجتمع کرکے انسانیت کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچائو کی تدابیرکریں۔
حضور نے فرمایا کہ انگلستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتاہے جن کااثر ورسو خ دوسری قوموں پر ہے خواہ وہ
ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر۔ عدل اورانصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے آ پ اس اثرورسوخ کو استعمال کریں اور دنیا کی رہنمائی کریں۔
حضور نے فرمایاکہ اگر ہم ماضی قریب کو دیکھیں تو حکومت برطانیہ نے جہاں بھی حکومت کرنے کے بعد ممالک کو آزاد ی دی وہاں اعلیٰ درجہ کے انصاف اور مذہبی رواداری کی اقدار کو پیچھے چھوڑا ۔خاص طورپر ہندوستان اور پاکستان میں جماعت احمدیہ اس انصاف کی گواہ ہے۔بانیٔ جماعت احمدیہ نے حکومت برطانیہ کی انصاف پسندی اور مذہبی آزادی کی پالیسی کی کھل کر تعریف کی ہے۔ جب بانی ٔ جماعت نے ملکہ وکٹوریہ کو ان کی ڈائمنڈ جوبلی پر مبارکباد دی اور اسلام کی تعلیمات ان تک پہنچائیں تو آپ نے خاص طورپر حکومت برطانیہ کی انصاف پسندی اور مذہبی آزادی کو سراہتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے ۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حکومت برطانیہ نے انصاف کا علم بلند کیا جماعت نے اس کا برملا اظہار کیاہے۔
حضورنے فرمایاکہ ہم امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں بھی قیام انصاف حکومت برطانیہ کا طرّۂ امتیاز رہے گا۔نہ صرف مذہبی آزادی کے حوالہ سے بلکہ ہر لحاظ سے، اور آپ اپنی اُن اعلیٰ اقدار کو آئندہ بھی سربلند رکھیں گے۔
حضور نے فرمایا اس وقت تمام دنیا میں بے چینی اور بے قراری پائی جاتی ہے۔ جگہ جگہ چھوٹی جنگیں بھڑک اٹھتی ہیں ۔بعض جگہوں پر بڑی طاقتیں دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کی کارروائیاں امن کے قیام کے لئے ہیں ۔حضور نے انتباہ فرمایاکہ اگرانصاف کے تقاضوں کوپورا نہ کیا گیا تواندیشہ ہے کہ ان چھوٹی جنگوں کے شعلے بھڑک کر سار ی دنیا کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لیں۔ اسلئے میری آپ سے عاجزانہ گزارش ہے کہ آپ دنیا کو تباہی سے بچانے کیلئے کوششیں کریں۔
حضور نے فرمایاکہ اب مَیں مختصراً اسلامی تعلیمات آپ کی خدمت میں پیش کروںگا کہ کس طرح ان تعلیمات کی روشنی میں دنیا میں امن کا قیام ممکن بنایا جاسکتاہے۔
فرمایا کہ میری دعا ہے کہ جو ان تعلیمات کے سب سے پہلے مخاطب ہیں یعنی مسلمان ان کو بھی توفیق ملے کہ وہ ان تعلیمات پرعمل کریں مگر بہرحال یہ ذمہ داری دنیا کے تمام ممالک ، بڑی طاقتوں اور حکومتوں پر ہے۔
حضور نے فرمایا اس وقت دنیا حقیقتاً ایک بین الاقوامی بستی کا روپ دھارچکی ہے جس کا پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتاتھا۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا ا حساس کرنا ہوگا،ان مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ مرکوز کرنا ہوگی جن کا تعلق انسانی حقوق کے قیام سے ہے ،جن سے دنیا میںامن قائم ہو سکے ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کوششیں صرف اس وقت کامیاب ہو سکتی ہیں جب عدل اورانصاف کے تمام پہلوئوں کو بروئے کا ر لا کریہ کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔اس وقت دنیا حقیقتاً ایک بین الاقوامی بستی کا روپ دھارچکی ہے جس کا پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتاتھا۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا ا حساس کرنا ہوگا،ان مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ مرکوز کرنا ہوگی جن کا تعلق انسانی حقوق کے قیام سے ہے ،جن سے دنیا میںامن قائم ہو سکے ۔
حضور نے فرمایا کہ آج کی دنیا کے مسائل میں ایک مسئلہ جس نے سر اٹھایا ہوا ہے وہ ا گرچہ براہ راست مذہب سے تعلق نہیں رکھتا مگر مذہب کے نام پر بعض مسلمان گروہ غیر قانونی حملے کرتے ہیں اور خودکش بم کے ذریعہ وہ غیرمسلم فوجیوں اور عوام کا قتل کرنا چاہتے ہیں اور نہایت ظالمانہ طریق پر وہ بے دریغ مسلموں ، غیر مسلموں ،عورتوں، بچوں سب کو ہلاک کردیتے ہیں ۔ اس قسم کی ظالمانہ کارروائیوں کی اسلام قطعاًاجازت نہیں دیتا۔
حضور نے فرمایاکہ ان ظالمانہ حرکات کی وجہ سے غیر مسلم ممالک میں اسلام کے بارہ میں ایک غلط تأثر پیدا ہو گیاہے۔ بعض حلقوں میں تو کھلے بندوں اسلام کے خلاف خیالا ت کا ا ظہار ہوتاہے اور دوسری جگہوں پر کھلم کھلا اظہار نہیںہوتامگر طبیعتوں میں مخالف رجحان پایا جاتاہے۔ ان عناصر کی وجہ سے غیرمسلم ممالک میں مسلمانوں کے خلاف عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوگئی ہے اور چند افراد کی غلط کاریوں کے باعث حالات روز بروز ابتر ہوتے جاتے ہیں۔جو منفی ردّعمل وجود میں آتاہے اس کا ایک نمونہ ان حملوں میں نظر آتاہے جو پیغمبر اسلام ا کی حیات طیبہ اور اسلام کی مقدس کتا ب قرآن حکیم پر کئے جاتے ہیں۔ (باقی صفحہ 33 پر ملاحظہ فرمائیں)
اس ضمن میں حضور انور نے فرمایاکہ جب یہ حملے ہوئے ہیں اس سلسلہ میں برطانیہ میں سیاسی رہنمائوں اور مفکروں نے جو ردّعمل دکھایاہے وہ دوسرے ملکوں کے بعض سیاستدانوں سے بہر حال ممتازرہاہے۔ اور اس کے لئے حضورنے اظہار تشکر فرمایااور فرمایا کہ دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتاہے؟ سوائے منفی جذبات ابھرنے کے جس سے نفرت اور ناپسندیدگی بڑھتی ہے اور پھر نفرتیں مشتعل جذبات کا روپ دھارتی ہیں اور بعض انتہاپسند مسلمان غیر اسلامی حرکتو ں کا ا رتکاب کرتے ہیں اور غیر مسلموں کو موقع دیتے ہیں کہ منفی جذبا ت کوہوا دی جائے۔ مگر جو انتہاپسند نہیں ہیں اور جو رسول اکرم ا سے گہری محبت رکھتے ہیں انہیں ان حملوں سے شدید صدمہ پہنچتا ہے اور جماعت احمدیہ ان لوگوں میں سے صف اوّل میں ہے۔ہماری زندگیوں کا واحد اور اعلیٰ مقصد یہ ہے کہ ہم دنیا کے سامنے آنحضرت ا کا اسوہ پاک اور اسلام کی خوبصورت تعلیم پیش کریں۔
حضور انور نے فرمایا کہ ہم تو تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیںاور یقین رکھتے ہیں کہ وہ تمام اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے معززپیغامبر تھے۔ اس لئے ہم تو کبھی بھی ان کے بارہ میںکوئی بے عزتی کا کلمہ نہیں کہہ سکتے مگر جب ہمارے نبی ٔ پاک ا کی ذات بابرکات پر جھوٹے اور بے بنیاد الزام لگائے جاتے ہیں تو یہ ہمارے لئے بے حد دکھ کا باعث ہوتاہے۔
حضور انور نے فرمایا آج کے زمانہ میں جب دنیا مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوتی جارہی ہے، انتہاپسندی زور پکڑتی جارہی ہے۔ معاشی اور اقتصادی حالات بگڑ رہے ہیں،اس امرکی شدید ضرورت ہے کہ ہر قسم کی نفرتوں کوبھلا کر امن کی بنیادیں استوار کی جائیں اور یہ صرف تب ہی ممکن ہو سکتاہے کہ تمام لوگوںکے جذبات کا ا حترام کیاجائے ۔ اگر یہ مناسب طریق سے ،سچائی سے اور نیکی کے ساتھ نہ کیا گیا تو حالا ت بگڑ کر ناقابل اختیار حدود سے تجاوزکرجائیں گے۔
حضور نے فرمایا مَیں مانتاہوں کہ ا قتصادی طور پر مضبوط ا قوام نے غیر ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کو پناہ بھی دی ہے اور اپنے ممالک میں رہنے کی جگہ بھی دی ہے جس میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ حقیقی انصاف کا تقاضا ہے کہ سب لوگوں کے جذبات کا خیال رکھاجائے اور ان لوگوں کے اعتقادات کا بھی احترام کیا جائے۔ یہی ذریعہ ہے جس سے ان کی عزت نفس کی حفاظت ہو سکے گی۔
حضور انور نے فرمایاکہ مَیں پہلے کہہ آیا ہوں اور شکرگزار ہوں کہ برطانوی قانون سازوں اور سیاستدانوں نے انصاف کو سربلند رکھا ہے اور عوام کے مذہبی حقوق میں مداخلت نہیں کی۔ درحقیقت یہی راہ ہے جس کی طرف قرآن کریم نے ہما ری رہنمائی فرمائی ہے۔
قرآن کریم کا فرمان ہے لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْن (بقرہ:257)دین میں کوئی جبر نہیں۔حضور انور نے اس کی تشریح میں فرمایا کہ یہ قرآنی اصول اس الزا م کی بھی نفی کرتاہے جو اسلام پر لگایا جاتاہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا۔ مزید برآں مسلمانوں کو اس میں ہدایت دی گئی ہے کہ مذہبی اعتقاد بندے اور خدا کے درمیان تعلق ہے اور اس تعلق میں ہرگز کسی قسم کی مداخلت نہیں کرنی چاہئے ۔ ہر شخص کو اجازت ہے کہ و ہ اپنے عقیدہ کے مطابق اپنے مذہب پر کاربند ہو اور اپنی مذہبی رسومات کی بجا آوری کرے۔
اس ضمن میں حضور انور نے فرمایا کہ اگر مذہب کے نام پر کوئی ایسی کارروائی عمل میں لائی جائے جو دوسرے لوگوں کے لئے ضرر رساں ہو اور ملکی قانون کے خلاف ہو تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حق ہے کہ ا س کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ اگر کوئی ظالمانہ رسم یا حرکت کی جائے تو وہ کسی بھی مذہبی ذریعہ سے خدائی تعلیم نہیں ہو سکتی ۔
حضور نے فرمایاکہ قیام امن کے لئے یہ بنیادی اصول ہے خواہ اسے ملکی سطح پر دیکھا جائے یا بین الاقوامی سطح پر ۔ اس کے علاوہ اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ اگر مذہب تبدیل کرنے کی وجہ سے کوئی قوم یا گروہ یاحکومت تمہارے لئے مشکلات پیدا کرتی ہے اور اس کے بعد حالات کا پلڑا تمہاری سمت جھک جاتاہے اورتمہیں طاقت حاصل ہو جاتی ہے تو تم کسی قسم کا تعصب یا دشمنی دلوں میں مت رکھو۔ جیساکہ قرآ ن کریم کا فرمان ہے ۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَٓائَ بِالْقِسْط۔ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا۔ اِعْدِلُوْا ۔ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی۔وَاتَّقُوا اللّٰہَ۔ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْن(سورۃ المائدۃ آیت 9)
اے وہ لوگوجو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جائو اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ا نصاف نہ کرو۔ انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔ یقینا اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتاہے جو تم کرتے ہو۔
حضور نے فرمایا کہ معاشرہ میں قیام امن کے لئے یہ اسلامی تعلیم ہے کہ انصاف سے بالکل قدم نہ ہٹائو یہاں تک کہ دشمن سے بھی انصاف کرو۔اسلام کی ابتدائی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ اس تعلیم پر چلتے ہوئے انصاف کے تمام تقاضوں پر بھرپور عمل کیا گیا۔
حضور انور نے فرمایا کہ وقت کی تنگی کے باعث زیادہ مثالیں اس وقت پیش نہیں کی جاسکتیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ رسول اللہ ا نے فتح مکہ کے بعد قطعی کوئی بدلہ ان لوگوں سے نہیں لیا جنہوں نے مسلمانوں کو شدید مظالم کا نشانہ بنایا تھا۔ نہ صرف یہ کہ آپ نے انہیں معاف فرما دیا بلکہ انہیں اجازت دی کہ وہ اپنے اپنے مذہب پر کار بند رہیں۔
حضور انور نے انتباہ فرمایا کہ آج کے زمانہ میں امن کا قیام صرف اس صور ت میں ممکن ہے کہ دشمن کو بھی تمام پہلوئوں سے انصاف عطا کیا جائے۔ نہ صرف مذہبی انتہاپسندی کے خلاف جنگوں میں بلکہ ہر قسم کی لڑائیوں میں بھی ۔ صرف اس قسم کا امن ہی دیر پا ہو سکتاہے۔
حضور نے فرمایاکہ گزشتہ صدی میں دو عظیم جنگیں لڑی گئیں ۔ان کی جوبھی وجوہات بنیں ان کوگہری نظر سے دیکھا جائے تو یہی سبب نتھر کر سامنے آن کھڑاہوتاہے کہ انصاف کے تقاضوں کوپورانہیں کیا گیا تھاجس کے ردّعمل میں جب یہ خیال کیا گیاکہ الائو ٹھنڈا کردیا گیاہے حقیقتًا وہ راکھ کے نیچے ہلکے ہلکے سلگتی ہوئی چنگاریاں تھیں جنہوں نے دوبارہ بھڑک کر ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حضورنے فرمایاکہ آج دنیا میں بے چینی بڑھتی چلی جارہی ہے۔جنگیں اور قیام امن کے نام پر کی جانے والی کارروائیاں ،قوموں کو عالمی جنگ کی طرف دھکیلتی نظر آتی ہیں۔ قوموں کے معاشرتی اور اقتصادی مسائل حالات کو مزید خراب کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ قرآن کریم نے امن کے قیام کے لئے بعض سنہری اصول ہمیں عطا فرمائے ہیں ۔یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ لالچ دشمنیوں کو بڑھاتا ہے ۔ اس کا اظہار بعض دفعہ سرحدی پھیلائو کے ذریعے یا دوسری قوموں کے قدرتی ذخائر پر ناجائز تصرف یا پھر ملکو ں کے حکمرانوں پر تسلّط کے ذریعہ دیکھنے میں آتاہے۔ ان ذرائع سے مظالم وجود میں آتے ہیں چاہے وہ کسی ظالم ،مطلق العنان حاکم کے ہاتھ سے ہو رہے ہوں جو عوام کے حقوق پامال کرکے اپنی طاقت کے بل بوتے پراپنے ذاتی مفادات کے لئے کوشاں ہو یا انہی وجوہات کی بنا پر کوئی بیرونی طاقت حملہ آور ہو کر دست درازی کرے ۔ اور پھر بعض دفعہ مظالم کی چکّی میں پسنے والے عوام باہر کی دنیا کو مدد کے لئے پکارتے ہیں۔
حضور نے فرمایا کہ ظلم کی جو بھی وجہ بن رہی ہو اس سے نمٹنے کے لئے پیغمبر اسلام ا نے ہمیں ایک نہایت سنہرا گُر عطا فرمایاہے۔حضور انے فرمایا :’’مظلوم اور ظالم دونوں کی مدد کرو‘‘۔
پیغمبر اسلام اکے صحابہ ؓنے دریافت فرمایا کہ انہیں مظلوم کی مدد کی تو سمجھ آتی ہے مگر ظالم کی مدد کیونکر کی جائے؟ اس پرآنحضورا نے فرمایا ظالم کا ہاتھ روک کر اس کی مدد کرو کیونکہ ظلم کرنے سے وہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا سزاوار ہو گا۔ اس لئے اس پر ترس کھاتے ہوئے اسے ظلم سے با ز رکھو۔
حضور نے فرمایا کہ یہ سنہرا اصول ہے جو انسانی معاشرت میں چھوٹے سے چھوٹے دائرہ میں بھی قابل عمل ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی۔ اس حوالہ سے قرآ ن پاک میں ارشاد ہے کہ اور اگر مومنوں میں سے دو جماعتیں آپس میں لڑپڑیں تو ان کے درمیان صلح کروائو ۔پس اگر ان میں سے ایک دوسری کے خلاف سرکشی کرے تو جو زیادتی کررہی ہو اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے فیصلہ کی طرف لوٹ آئے۔پس اگر وہ لوٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان عدل سے صلح کروائو۔ اور انصاف کرو ۔ یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتاہے۔ (سورۃ الحجرات : 10)
حضور نے فرمایا کہ یہ تعلیم مسلمانوں کو مخاطب کرکے دی گئی ہے مگر یہ اصول اپنا کرساری دنیا میں امن کا قیام ممکن بنایا جاسکتاہے۔اس قرآنی ہدایت میں انصاف کرنے کاحکم ہے ۔ پھر وضاحت کی گئی ہے کہ اگر انصاف کرنے کے باوجود امن قائم نہ ہو تو سب مل کر اس زیادتی کرنے والے گروہ سے جنگ کریں یہاں تک کہ وہ ہتھیار ڈال دے۔ اور جب اس قسم کا گروہ امن کا طالب ہو تو پھر انصاف کا تقاضا ہے کہ نہ تو اس سے ا نتقام لو اور نہ اس پر کوئی پابندیاں یا اقتصادی قدغن لگائو ۔ اس پر نظر ضرور رکھو مگر ساتھ ہی کوشش کرو کہ ان کی صورت حال بہتر ہو۔
حضور انور نے طاقتور قوموں کو یاددہانی کروائی کہ ان کے ہاتھ میں ویٹو(Veto)کی طاقت ہوتی ہے ۔انہیں چاہئے کہ وہ قیام امن کو بہرحال مدنظر رکھیں۔
حضور انور نے قیام امن کے ضمن میں فرمایا کہ ایک اور اصول جو قرآ ن حکیم نے ہمیں عطا فرمایا ہے وہ دوسروں کی دولت کی طرف طمع کی نظر سے دیکھنے کی ممانعت ہے ۔ فرمایا :’’اور ہم نے جو ان میں سے بعض لوگوں کو دنیوی زیبائش کے سامان دے رکھے ہیں تو اس کی طرف اپنی دونوں آنکھوں کی نظر کو پھیلا کر مت دیکھ کیونکہ یہ سامان ان کواس لئے دیاگیاہے کہ ہم اس کے ذریعہ سے ان کی آزمائش کریں۔ (سورۃ طٰہٰ آیت نمبر 132)
حضور نے فرمایا :دوسروں کی دولت کے لئے حرص کرنا اور حسد کرنا دنیا میں بے چینی کو بڑھانے کا سبب ہیں۔ فرد کی حیثیت سے جب دوسرے کے مال ومنال کا لالچ کیا جاتاہے تو یہ نہ ختم ہونے والی حرص انسان کا سکون درہم برہم کر دیتی ہے۔ قومو ں نے جب دوسری قومو ں کے اموال اور دولتوں کا لالچ کیا تو دنیا کاامن خطرے میں پڑ گیا ۔ تاریخ گواہ ہے اور ہر شخص بآسانی اس با ت کو سمجھ سکتاہے کہ دوسروں کی دولت ہتھیانے کی خواہش ہمیشہ بدنتائج ہی پیدا کرتی ہے ۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی ہے کہ اپنے وسائل پر نظررکھو اور اس کا بہترین استعما ل کرکے فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرو۔
حضور نے فرمایاکہ سرحدی چڑھائیاں کرکے دوسروں کے قدرتی ذخائر پر دسترس حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ بعض دفعہ طاقتور قومیں اثر ورسوخ کے بل بوتے پر دوسری قوموں کے مقابل میں دھڑے بنا کر ان کے وسائل اپنے اختیار میں لے لیتی ہیں۔ بعض حکومتوں کے مشیر اپنی کتابوں میں جب اس قسم کی کارروائیوں کو
بے نقاب کرتے ہیں تو غریب ممالک میں بے چینی کی لہریں دوڑ جاتی ہیں ۔پھر یہی بے چینیاں بعض دفعہ شدید ردّعمل کی صورت اختیار کرلیتی ہیں اور تشدد کی کارروائیاں بعض حلقو ں میں دیکھنے میں آتی ہیں اور وسیع پیمانے پر تباہ کاری کرنے والے ہتھیارو ںکی دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔
حضورانور نے فرمایاکہ آج کی دنیا کے لوگ اپنے آپ کو نسبتاًزیادہ سنجیدہ ،باشعور اور باخبر سمجھتے ہیں۔ حتی کہ غریب ممالک میں بھی ایسے افراد پائے جاتے ہیں جنہیں بعض علمی میدانوں میں اعلیٰ درجہ کی برتری حاصل ہو جاتی ہے ۔ان حالات میں توقع تو یہ ہونی چاہئے تھی کہ تمام قومیں مل کر یہ کوشش کرتیں کہ اس قسم کے انداز فکر سے بچاجائے اور ان غلطیوں سے باز رہا جائے جن سے ماضی میں خوفناک جنگیں پیدا ہوئیں ۔ خداداد دماغی صلاحیتوں اور سائنسی ترقی کو ا ستعمال میں لا کرہونا تو یہ چاہئے تھاکہ انسانی فلاح و بہبود کے طریقے ڈھونڈ نکالے جاتے ، قدرتی وسائل کے بہترین استعمال کے لئے ایک دوسرے کی مدد کی جاتی ۔ خداوند تعالیٰ نے ہر ملک کو کچھ ایسے وسائل عطا فرمائے ہیں کہ اگر ہر ملک ان وسائل کا صحیح استعمال کرے تو یہ دنیا واقعتًا جنت نظیر بن جائے ۔ بعض ممالک کو موسم ایسے عطا ہوئے ہیں اور زمینیں ایسی زرخیز عطا ہوئی ہیں کہ اگر مل جل کر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ جدید تکنیکی سہولتوں کو بروئے کار لایا جاتا تو دنیا سے بھوک کا خاتمہ ہو جاتا۔
حضور نے فرمایا کہ جن ممالک کو معدنیات کے ذخائر عطا ہوئے ہیں ان کو آزادی ہونی چاہئے کہ وہ معقول قیمتوں پر کھلی مارکیٹ میں اپنے ذخیروں کی تجارت کر سکیں ۔ اس طرح تمام ممالک ایک دوسرے سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں ۔ یہ منصفانہ راستہ ہے اور یہی وہ راہ ہے جسے خداوند تعالیٰ پسندفرماتاہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ خداتعالیٰ نے اپنے پیغمبر دنیا میں بھیجے تاکہ وہ مخلوق کی رہنمائی کریں کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی راہیں کیا ہیں ۔ مگر اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے یہ فرمان بھی جاری کردیا کہ ہر فرد مذہب کے معاملہ میں آزاد ہے ۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ جزا اور سزا کا عمل موت کے بعدہی واقع ہوگا مگر خداتعالیٰ نے جو نظام جاری فرمایاہے اس کے تحت جب مظالم اپنی انتہا ئوں کو چھونے لگیں اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو اس کے بعض طبعی نتائج اسی دنیا میں بھی ظاہر ہو جاتے ہیں ۔ جب ظلم بہت بڑھ جاتاہے تو ردّعمل بھی شدید ہوتاہے اور پھر اس چیز کی گارنٹی کوئی نہیں دے سکتا کہ ردّعمل صحیح ہوگا یا غلط۔حضور نے فرمایا کہ دنیا فتح کرنے کا صحیح طریق تو یہ ہے کہ غریب ممالک کو ان کے صحیح منصب پرکھڑا کیا جائے جو ان کا حق ہے۔
حضور نے فرمایاکہ اس وقت عالمی مسائل میں ایک بہت بڑا مسئلہ اقتصادی بحران ہے جسے Credit Crunch(یعنی قرضوں کی بازیابی کا فقدان) کہا جارہاہے ۔ شاید یہ با ت سننے والو ں کو عجیب معلوم ہو مگر اس مسئلے کے تما م شواہد ایک ہی بنیادی حقیقت کی طر ف نشان دہی کر رہے ہیں ۔قرآن حکیم میں ہمیں ہدایت ملتی ہے کہ ُسود سے اجتناب کرو۔ کیونکہ سُود ایک ایسی شدید برائی ہے جس سے گھریلو ،قومی اور بین الاقوامی سکون درہم برہم ہو جاتاہے ۔ قرآن حکیم نے خبر دار کیا ہے کہ جو لو گ سُود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہیں ہو تے مگر ایسے جیسے وہ شخص کھڑا ہوتاہے جسے شیطان نے (اپنی) مس سے حواس باختہ کر دیاہو۔ حضور انور نے سورۃ البقر ۃ کی آیات نمبر 276تا 280 کے حوالہ سے تشریح بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ ہم مسلمانوں کو اس ہدایت کے ذریعہ سُودی لین دین سے منع کردیا گیاہے ۔ اس کے پیچھے جو حکمت بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ جو سُود تم حاصل کرو وہ تمہاری دولت میں اضافہ نہیں کرتا باوجود اس کے کہ ظاہری نظر میں وہ بڑھتا ہو ا معلوم ہوتاہے۔ مگر آخر کار وہ وقت آتاہے جب اصل نتیجہ سامنے آ جاتاہے۔ مزید برآں ہمیں خدائی احکام میں متنبہ کیا گیاہے کہ اگر تم باز نہ آئوتو سمجھ لو کہ تم نے خدائی احکامات کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔
حضور انور نے فرمایاکہ آج کے Credit Crunch یعنی قرضوں کے بحران سے صورتحال نہایت وضاحت کے ساتھ سامنے آگئی ہے۔ شروع میں صورتحال یہ تھی کہ افراد جائیداد کی خرید کے لئے قرضے لیتے تھے اور تمام عمر اس قرض کی ا دائیگی کرتے کرتے مقروض ہونے کی حالت میں موت کے منہ میں چلے جاتے تھے مگر جائیداد کی ملکیت ان کو حاصل نہیں ہوسکتی تھی ۔ مگر آج کے دور میں حکومتیں قرضوں کے بوجھ تلے اس طرح دبی ہوئی ہیں کہ ان کی حالت زار پر یہی تشبیہ صادق آتی ہے کہ ان کی حواس باختگی ایسی ہے جیساکہ کوئی دیوانہ شخص۔ بہت بڑی بڑی کمپنیوں کا دیوالیہ نکل گیا ہے ۔ بہت سے بینک اور مالیاتی ادارے یاتو دیوالیہ ہو گئے ہیں یا حکومتی امداد کے ذریعہ انہیں ڈوبنے سے بچایا گیاہے ۔یہ سنگین صورتحال دنیاکے تمام ممالک میں پیش آرہی ہے خواہ وہ امیر ممالک ہو ں یاغریب ۔
حضور انور نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ لو گ مجھ سے زیادہ موجودہ حالات کے بارہ میں علم رکھتے ہیں ۔ حالت یہ ہے کہ جن لوگوں نے بینکوںمیں پیسہ رکھا ہواہے ا س پیسے کی کوئی قیمت نہیں رہی ۔ اب یہ حکومتوں پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح اور کس حد تک ان کی مدد کر ے گی۔ مگر بہرحال دنیاکے بیشتر ممالک میں خاندانوں کا ذہنی سکون ،تاجروں کا سکون اور اکابرین حکومت کا سکون برباد ہو گیاہے۔ کیا یہ صورتحال ہمیں سوچنے پر مجبور نہیں کرتی کہ یہ سب و ہی مسائل ہیں جن کے بارہ میں ہمیں وقت سے بہت پہلے خبردار کیا گیاتھا۔
حضور انور نے فرمایا کہ اللہ بہتر جانتاہے کہ اس صورتحال کے مزید کیا نتائج مرتب ہوںگے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے کہ امن کی طرف آجائو۔ امن کی طرف آنا تب ہی ممکن ہوگا جب لین دین اور کاروبار خالص اورمثبت روش پر چلائے جائیںگے اور جب تمام وسائل کا مناسب اور منصفانہ استعمال ہوگا۔
آخر میں حضور انور نے فرمایاکہ اختصار سے مَیں نے اسلامی تعلیمات میں سے چند نکات آپ کی خدمت میں پیش کئے ہیں جن کومَیں اس یاددہانی کے ساتھ ختم کر تاہوں کہ اصل اور سچا امن انسانوں کو صرف اس صورت میں مل سکتاہے کہ وہ اپنے ربِّ کریم کی طرف متوجہ ہوں۔ خدا تعالیٰ تمام انسانوں کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ ا س مرکزی حقیقت کوسمجھ سکیں ۔صرف اسی صورت میں وہ دوسروں کا حق ادا کر سکیںگے ۔
خطاب کے ا ختتام پر حضور انور نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا فرمایا کہ وہ تشریف لائے اور توجہ سے تمام گزارشات کو سنا۔