اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-03-28

جماعت احمدیہ برطانیہ کے زیر انتظام 18ویں سالانہ پیس سمپوزیم کا انعقاداور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بصیرت افروز خطاب

دنیا بھر میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عدم انصاف ہی ہے

وہ عالمی طاقتیں جو ویٹو پاور رکھتی ہیں ہمیشہ غیرمنصفانہ طور پر اس کا استعمال کرتی ہیں، گویا ان کے ہاتھ میں یہ تُرپ کا پتّا ہے جسے جب چاہا جہاں چاہا استعمال کرلیا
اگر ویٹو پاور کا یونہی غیر منصفانہ استعمال ہوتا رہا تو پھر امن عالم کا تصور ایک دیوانے کے خواب سے بڑھ کر کچھ نہیں
کتنی ہی قومیں اور کتنے ہی ممالک عالمی طاقتوں کی اس رعونت اور بے رحمی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں

قرآن کریم نے بڑا واضح فرمایا ہے کہ اگر کوئی قوم ظلم کرتی ہے تو اس صورت میں بھی دوسری قوم کو حد سے بڑھ کر زیادتی کا اختیار نہیں

مَیں یقین رکھتا ہوں کہ صرف ایک راستہ سے ان جنگوں کو روکا جاسکتا ہے کہ انصاف کو پھیلانے کی یقین دہانی کرائی جائے اور جو بھی تصفیہ ہو وہ مساوات پر مبنی ہو

یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ جنگیں اور تنازعات جو آنحضرت ﷺ اور آپؐکے خلفائے کرام نے لڑیں وہ مکمل طور پر مدافعانہ نوعیت رکھتی تھیں

مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کا دفاع اور حفاظت کرو بجائے اس کے کہ ان کو نقصان پہنچایاجائے

اگر جنگ مسلط ہوجائے تو دوسری اقوام ظالم کو روکنے کیلئے متحد ہوجائیں،
ایک مرتبہ ظالم طاقت استعمال کرنے سے رُک جائے تو دوسری اقوام فوری طور پر جنگ کو ختم کردیں اور امن کو قائم کرنے کی طرف متوجہ ہوجائیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دوسری قوموں کے نمائندگان سے
عزت و تکریم اور احترام کے ساتھ پیش آؤ کیونکہ اگر ایسا نہیں کروگے تو پھر یہ امن و سلامتی کےقیام کیلئے خطرہ ہوگا

جماعت احمدیہ برطانیہ کے زیر انتظام 18ویں سالانہ پیس سمپوزیم کا انعقاداور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بصیرت افروز خطاب

ث 30 ممالک سے 1200مہمانوں کی شرکت ث احمدیہ عالمی امن انعام 2020ءAdi Roche آف آئرلینڈ کو اور 2023ءکاانعامDavid Spurdleآف یو.کےکو دیا گیا

مورخہ9مارچ 2024ء بروز ہفتہ جماعت احمدیہ برطانیہ کے زیر اہتمام 18ویں سالانہ پیس سمپوزیم کا انعقاد ہوا جس میں30 ممالک سےبارہ سو افراد شامل ہوئے۔
اسٹیج پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے دائیں جانب مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ جبکہ بائیں جانب Liberal Democrats پارٹی کے سربراہ Sir Edward Jonathan Davey تشریف رکھتے تھے۔
پروگرام کاآغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔مکرم نفیس احمد قمر صاحب نے سورۃ النساء کی آیت136کی تلاوت کی۔جسکا انگریزی ترجمہ حزیم احمد عارف صاحب نے پیش کیا۔ بعد ازاں محترم امیر صاحب یوکے نے تعارفی تقریر کی۔
استقبالیہ تقریر میں مکرم امیر صاحب نے سلام کے بعد تمام مہمانان کو خوش آمدید کہا اوربتایا کہ یہ پروگرام اس وقت دنیا کے شدید تناؤ کے ماحول میں ہو رہا ہے۔ گذشتہ سال ہم نے یہاں یوکرائن رشیا جنگ کے حوالے سے بات کی تھی اور اس پر مستزاد یہ کہ اب فلسطین اور اسرائیل کا تنازعہ زور پکڑ گیا ہے۔ اس وقت تک بچوں اورعورتوں سمیت کئی ہزار جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ دنیا کی لیڈر شپ کی جانب سے ان کے سدِباب کیلئے خاطرخواہ ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔ ہمیں اس وقت جنگ بندی اور متاثرین جنگ تک خوراک اور طبی امداد پہنچانے کی ضرورت ہے۔
حضورانور گذشتہ دو دہائیوں سے دنیا کو ایٹمی جنگوں کے خطرے سے متنبہ فرما رہے ہیں۔ دنیا کو عالمی امن کیلئے ایک بہتر لیڈر شپ کی ضرورت ہے جو ہمیں نہ صرف موجودہ بلکہ مستقبل کی ہولناکیوں سے بھی متنبہ کرے۔ اس بارے میں آج حضورانور ہماری راہنمائی کیلئے موجود ہیں حضور انور نے متعدد ممالک کی پارلیمنٹس میں خطاب فرمایا ہے اورانسانیت کی بقا کیلئے امن کی طرف راہنمائی فرمائی ہے۔ اللہ کرے کہ ہم ہر مقام پر مل کر امن کے قیام کیلئے باثمر کوششیں کرنے والے ہوں۔ جزاکم اللہ۔
اسکے بعدپیس سمپوزیم میں شامل بعض مہمانوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
Dame Siobhain McDonagh
Member of Parliament
آپ نے حالیہ جاری جنگوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میری ذمہ داری امن کی طرف بلانا ہے۔ لیبر پارٹی امن کے قیام کیلئے کام کر رہی ہے۔ میں ہر ایک کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہوں جو امن کیلئے بلاتا ہےاور احمدیہ جماعت امن کیلئے کام کر رہی ہے۔ یہاں برطانیہ میں بھی اسلام کے خلاف نفرت پھیل رہی ہے۔ جماعت احمدیہ جن کا ماٹو ’محبت سب کیلئے نفرت کسی سے نہیں‘ ہے یہاں بھی امن کے قیام کیلئے کوشاں ہے۔ امن اور انصاف کا حقیقی قیام ضروری ہے۔
Jonathan Lord
Member of Parliament
آپ نے کہا کہ معاشرے میں anti Islam اور anti Semitism بڑھ رہی ہے۔ جماعت احمدیہ مسلمہ کا نعرہ ’محبت سب کیلئے نفرت کسی سے نہیں‘ بہت پیارا ہے جس کی سب کو ضرورت ہے۔ میری سب کیلئے نیک تمنائیں ہیں۔ یہ ماٹو ہمیں اتحاد اور باہمی محبت میں بڑھانے کا سبب بنے گا۔
Rt. Hon. Sir Ed Davey
Member of Parliament
موصوف نے کہا کہ میں یہاں کئی پیس سمپوزیم میں شامل ہوا ہوں۔ اس امن کے پیغام کی اس سال بطور خاص سوڈان اور غزہ کے حالات کے تناظر میں بہت ضرورت ہے۔ ہمارے ملک کو اس معاملہ میں کلیدی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری نظریں آج راہنمائی حاصل کرنے کیلئے حضورانور پر ہیں۔ میں نے جنوری 2009ء میں غزہ کا دورہ کیا تھا۔ وہاں خانہ جنگی کے بعد ناقابلِ بیان مناظر تھے لیکن وہ اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں تھا جو ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ میں نے اس نفسیاتی اثر کا مشاہدہ کیا ہے جو اس جنگ کے نتیجے میں دونوں طرف ہو رہا ہے۔ وہاں پر بچوں اور عورتوں کے قتل عام کا بیان ناممکن ہے۔ ہمیں جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ ہمیں امن کی ضرورت ہے تاکہ فلسطینی اور اسرائیلی بے خوف زندگی گزار سکیں۔ مجھے حضور کی تقریر کا انتظار ہے کہ وہ اس بارے میں کیا راہنمائی فرمائیں گے۔ میری تمنا ہے کہ آج ہم یہاں صرف کھانے پینے کیلئے نہ اکٹھے ہوئے ہوں بلکہ حضور انور کی باتیں سن کر انہیں عملی جامہ پہنانے والے بھی بنیں۔
احمدیہ امن انعام
بعد ازاں محترم امیر صاحب یوکے نے دو سالوں کے امن انعام وصول کرنے والوں کا تعارف کروایا۔ پہلا 2020ء کا امن انعام تھا جبکہ دوسرا2023ء کا انعام تھا۔
احمدیہ عالمی امن انعام 2020ء
Adi Rocheجن کا تعلق آئرلینڈ سے ہے اور Chernobyl Children’s Projectکی سی ای او ہیں اور چرنوبل کے سانحہ کے بعد انہوں نے انسانی بنیادوں پر بچوں کیلئے طبی اور تعلیمی خدمات پیش کیںاس انعام کی مستحق قرار پائیں۔ امیر صاحب نے موصوفہ کا تعارف کروایا اور ان کو انعام لینے اور اسکے بعد مختصر خطاب کی دعوت دی۔ ان کے بارے میں مختصر تعارفی ڈاکومنٹری دلکھائی گئی۔ بعد ہ انہوں نے حضور انور ایدہ اللہ سے انعام وصول کیا اور سٹیج پر تشریف لا کر بعد سلام کہا کہ یہ انعام وصول کرنا ان کیلئے باعث اعزاز ہے۔ موصوفہ نے کہا کہ چرنوبل کے سانحہ کی سب سے بڑی قیمت وہاں کے بچوں نے ادا کی۔ انہوں نے اپنی ٹیم میں شامل ڈاکٹرز کی مساعی کا احسن انداز میں ذکر کیا۔ ایک بچی کو ڈاکٹرز نے جواب دے دیا تھا لیکن ہمارا ماٹو ہے کہ آخری سانس تک امید ہوتی ہے اور اس بچی کو بالآخر اس امید نے بچا لیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم سب کو مل کر اس امید کو جگانے کی ضرورت ہے۔ ہم سب کو مل کر انسانیت کو بچانے کی ضرورت ہے تب ہی ہم دنیا کو بچا سکتے ہیں۔
احمدیہ عالمی امن انعام 2023ء
2023ء کا انعام David Spurdleکو دیا گیا جن کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ ان کے ادارہ Stand by Me نے گذشتہ تیس سالوں میں پانچ ہزار سے زائد بچوں کی فلاح کیلئے خدمات پیش کیں۔ ان کے بارے میں مختصر تعارفی ڈاکومنٹری دکھائی گئی جس کے بعد موصوف نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے انعام وصول کیا اور بعد ازاں سٹیج پر تشریف لاکر مختصر اظہار خیال کیا۔
موصوف نے کہا کہ یہ انعام ان کیلئے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے لبنان سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ تباہ حال عمارتیں، بدحال لوگ، یتیم بے سہارا بچوں نے مجھے متاثر کیا۔ انہوں نے اپنے کام کے آغاز کا ذکر کیا اور اپنے فلاحی کام کے سفر کا خلاصہ بیان کیا اور آخر پر امن انعام ملنے پر شکریہ ادا کیا۔
خلاصہ خطاب حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ
حضورانور نے تمام مہمانوں کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا اور فرمایا:
آج ایک مرتبہ پھر ہم یہاں پیس سمپوزیم کے موقعے پر جمع ہوئے ہیں تاکہ ہم حقیقی امن کے قیام کیلئے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لے سکیں۔ گذشتہ دو دہائیوں سے مَیں دنیا بھر کی حکومتوں، سیاستدانوں اور عوام سے اپیل کر رہا ہوں کہ آپ اپنے معاشی اختلافات کو دُور کرکے دنیا میں حقیقی امن کے قیام کیلئے مل کر کوشش کریں۔ مَیں نے ہمیشہ اُن مذہبی اور سیاسی عوامل کی نشان دہی کی ہے کہ جو امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ مَیں نہ صرف بین الاقوامی تنازعات کے حل کیلئے اقوامِ عالم کو متوجہ کرتا رہا ہوں بلکہ مختلف ممالک کے داخلی معروضی حالات میں جہاں بہت سی قومیتیں اکٹھی رہتی ہیں، انہیں بھی سمجھاتا رہا ہوں کہ کس طرح ان مختلف گروہوں کو قریب لایا جاسکتا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ معمولی نوعیت کے علاقائی جھگڑے بسا اوقات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور اگر کوئی عالمی طاقت اپنے کسی ایجنڈے کے تحت اس صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہے تو جنگ کے شعلے دُور دُور تک جا پہنچتے ہیں۔ آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح بیرونی طاقتوں کی مداخلت نے عراق، شام اور پھر سوڈان کے حالات کو ابتر سے مزید ابتر کردیا۔ اگر ہم غور کریں تو ان داخلی ناہمواریوں کی اصل وجہ عدل و انصاف اور مساوات کا فقدان ہے۔ دنیا بھر میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عدم انصاف ہی ہے۔
حالیہ برسوں میں مختلف ممالک کے اندر اور باہر، عالمی سطح پر جس تیزی سے تنازعات میں اضافہ ہورہا ہے ان کی جانب سے منہ موڑ کر یہ سمجھنا کہ دنیا کو کوئی خطرہ نہیں ایسی جہالت ہے جو بالآخر دنیا کی ہلاکت پر منتج ہوگی۔ وہ طاقتیں جو اس حقیقت کو ماننے پر آمادہ نہیں تھیں کہ دنیا کا امن خطرے میں ہے اب برملا جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے ڈر کا اظہار کر رہی ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ جوہری ہتھیار کیسی ہولناک تباہی کا باعث ہوسکتے ہیں۔ سامنے کھڑی اس تباہی کو دیکھتے ہوئے بھی یہ لوگ اصلاح پر آمادہ نہیں اور نہ ہی اس تباہی کو روکنے میں سنجیدہ ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ ادارے جن کا مقصد ہی دنیا میں امن قائم رکھنا تھا وقت کے ساتھ ساتھ وہ بھی عالمی طاقتوں کی اجارہ داری کے زیراثر آچکے ہیں۔ مثلاً اقوامِ متحدہ انتہائی کمزور اور تقریباً غیر فعال ہے۔ وہ عالمی طاقتیں جو ویٹو پاور رکھتی ہیں ہمیشہ غیرمنصفانہ طور پر اسکا استعمال کرتی ہیں، گویا ان کے ہاتھ میں یہ تُرپ کا پتّا ہے جسے جب چاہا جہاں چاہا استعمال کرلیا۔ اگر ویٹو پاور کا یونہی غیر منصفانہ استعمال ہوتا رہا تو پھر امنِ عالم کا تصور ایک دیوانے کے خواب سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ کتنی ہی قومیں اور کتنے ہی ممالک عالمی طاقتوں کی اس رعونت اور بے رحمی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
ان دگرگوں حالات میں جہاں امنِ عالَم کی کوششیں بظاہر عبث معلوم ہوتی ہیں مَیں دنیا کو ایک بار پھر امن کی طرف بلارہا ہوں کیونکہ اسلام اور بانی اسلام حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہی ہے کہ مومن کا کام کوشش کرتے چلے جانا ہے۔ پس ہم نے بہرحال سچ بولنا ہے اور دنیا کو سچائی کا آئینہ دکھاتے چلے جانا ہے کیونکہ سب سے بڑا جہاد یہی ہے کہ بلا خوف و خطر جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہا جائے۔ پس جماعت احمدیہ ہمیشہ محکوم اقوام اور پسے ہوئے طبقات کیلئے پوری نیک نیتی کے ساتھ آواز بلند کرتی رہے گی خواہ ہماری آواز پر کوئی کان دھرے یا نہ دھرے۔ ہم اس سلسلے میں مسلسل کوشش کرتے رہیں گے اور اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔
یقیناً آپ میں سے بعض یہ جانتے ہوں گے کہ جماعت احمدیہ کس طرح دنیا میں امن کے قیام کیلئے کوشاں ہے۔ وہ طبقات جو عدم مساوات، ظلم اور نا انصافی کی وجہ سے محرومیوں کا شکار ہیں جماعت احمدیہ ان کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
اب مَیں ان ذرائع کا کچھ ذکر کروں گا کہ جنہیں اختیار کرکے دنیا میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے تو دنیا کے کسی مذہب کے بانی خواہ وہ موسیٰ علیہ السلام ہوں، خواہ مسیح علیہ السلام ہوں یا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم غرض کسی بانیٔ مذہب نے یہ تعلیم نہیں دی کہ ظلم و زیادتی سے دنیا کا امن تباہ کردیا جائے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو اسلام کے تو معنی ہی امن و سلامتی کے ہیں۔ پس اسلامی تعلیمات کو جس زاویے سے بھی دیکھا جائے یہ باہمی خیر و بھلائی اور امن و سلامتی کی تعلیم ہی نظر آئے گی۔
قرآن کریم نے بڑا واضح فرمایا ہے کہ اگر کوئی قوم ظلم کرتی ہے تو اس صورت میں بھی دوسری قوم کو حد سے بڑھ کر زیادتی کا اختیار نہیں۔ فرمایا تمہارے لیے معاف کرنا بہتر تو ہے مگر یہ مدنظر رہے کہ آیا معاف کرنا اصلاح کا باعث ہوگا یا نہیں۔
اگر ایک فریق معاہدہ کی خلاف ورزی کرے اور جنگ کی طرف جائے تو دیگر اقوام حملہ کرنے والے کے خلاف متحد ہوجائیں یہاں تک کہ وہ جارحانہ عمل سے باز آجائے اور جب وہ ایک مرتبہ جنگ سے رک جائے تو دیگر اقوام بھی طاقت کا استعمال نہ کریں۔ دیرپا امن کو انصاف کے ذریعہ قائم کرنے کا مقصد ہمیشہ مدنظر رہنا چاہیے، یہ نہیں ہونا چاہئے کہ فریقِ ثالث فائدہ اٹھا لے۔ اگر یہ اصول اقوام متحدہ اور دیگر متعلقہ شعبہ جات اپنے سامنے رکھیں تو تنازعات بہت آسانی سے ختم ہوجائیں گے۔
فرمایا دنیا میں جو تنازعات رونما ہورہے ہیں ان میں سے سب سے زیادہ خطرناک اسرائیل اور حماس کی جنگ ہے۔ اسی طرح روس اور یوکرائن میں جنگ جاری ہے۔ بعض لوگ اسرائیل اور فلسطین کے تنازعہ کو مذہبی جنگ تصور کرتے ہیں۔ اسکے برعکس یہ جیوپولیٹیکل اور علاقائی تنازعہ ہے۔ یوکرائن کی جنگ تو واضح طور پر جیو پولیٹیکل جنگ ہے جو علاقائی وجوہات کی بنا پر لڑی جارہی ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ صرف ایک راستہ سے ان جنگوں کو روکا جاسکتا ہے۔ وہ اس طرح کہ انصاف کو پھیلانے کی یقین دہانی کرائی جائے اور جو بھی تصفیہ ہو وہ مساوات کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔ بصورت دیگر اقوام متحدہ یا عالمی قوانین کا کوئی فائدہ نہیں اور پھر ایک ہی دستور اور قاعدہ ہوگا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔
فرمایا جہاں تک یوکرائن جنگ کا تعلق ہے، روس کے پاس اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں ویٹو پاور ہے اسی طرح یوکرین کے حامی بھی ویٹو پاور رکھتے ہیں۔ اگر فریقین ویٹو استعمال کریں تو تصفیہ کیسے ہوسکتا ہے۔ جب سے حالیہ جنگ شروع ہوئی ہے اسرائیل کے حق میں ویٹو پاور کو استعمال کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے 15میں سے 13ممبران نے فوری طور پر غزہ میں جنگ بندی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ لیکن امریکہ نے اپنی ویٹو کی پاور استعمال کی اور ریزولیوشن ناکام ہوگیا۔ وہاں امن کیسے قائم ہوسکتا ہے جہاں اکثر یت کی رائے کو اس قدرآسانی سے رد کیا جا سکتاہے۔ یہ انصاف نہیں ہے یہ جمہوریت اور مساوات کو مسترد کرنا ہے۔
اسلام انصاف کو قائم کرنے پر زور دیتا ہے۔ قرآن کریم کی سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۹ میں بیان کیا گیا ہے کہ کسی قوم یا لوگوں کی دشمنی تمہیں انصاف سے انحراف کی طرف نہ اکسائے۔ دیانتداری کو اختیار کرنا تقویٰ کے قریب ہے، یہاں تک کہ غیرمذہبی لوگ یقینی طور پر دیانت داری کو پہچان لیتے ہیں اور انصاف کے اس نمایاں معیار کو اپنانے کے فوائدجانتے ہیں۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ کیوں ان اسلامی تعلیمات کے باوجود جو میں بیان کررہا ہوں، الزام لگایا جاتا ہے کہ اسلام ایک انتہا پسند مذہب ہے۔ یہ بحث گذشتہ دنوں میں بعض لوگوں کے اشتعال انگیز اور گمراہ کن بیانا ت کے ذریعے پھر سامنے آئی ہے۔ اس سلسلہ میں یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ جنگیں اور تنازعات جو آنحضرت ﷺ اور آپؐکے خلفائے کرام نے لڑیں وہ مکمل طور پر مدافعانہ نوعیت رکھتی تھیں۔ قرآن کریم مسلمانوں کو جنگ لڑنے کی صرف اس وقت اجازت دیتا ہےجب اسلام کے دشمنوں کی طرف سے بے رحمانہ حملہ ہو یا ظلم و ستم کی انتہا ہوجائے۔ یہ اجازت قرآن کریم کی سورۃ الحج آیت 40 میں بیان ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کریم یہ واضح کرتا ہے کہ لڑائی کرنے کی اجازت دینے کا مقصد صرف اسلام ہی نہیں بلکہ تمام مذاہب کا دفاع کرنا ہے۔ ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر دوسروں پر ظلم کرنے والوں کو نہ روکا گیا تو چرچ ، یہودی عبادت گاہیں، مندراور مساجد اور تمام عبادتگاہیں جہاں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے تباہ ہوجائیں گی۔ مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کا دفاع اور حفاظت کرو بجائے اس کے کہ ان کو نقصان پہنایا جائے۔ اسکے علاوہ آنحضرت ﷺ نے مسلمان فوج کو لڑائی کیلئے بہت سے قواعد و ضوابط کی پاسداری کرنے کا ارشاد فرما رکھا ہے۔ پہلا یہ کہ جنگ ذاتی مقاصد اور زمینوں پر قبضہ اور دوسروں پر بالادستی کرنے کیلئے نہیں لڑی جائیں۔ مسلمانوں کو لڑائی کرنے کی صرف اس صورت میں اجازت دی گئی کہ اُن پر جنگ مسلط کردی جائے۔ اگر جنگ مسلط ہوجائے تو دوسری اقوام ظالم کو روکنے کیلئے متحد ہوجائیں، ایک مرتبہ ظالم طاقت استعمال کرنے سے رُک جائے تو دوسری اقوام فوری طور پر جنگ کو ختم کردیں اور امن کو قائم کرنے کی طرف متوجہ ہوجائیں۔
آنحضرتﷺ نے سختی سے عام شہریوں کو جنگ کا نشانہ بنانے سے منع فرمایا۔ یہ آجکل کی ماڈرن دنیا میں لڑی جانے والی جنگوں میں عام دیکھنے کو ملتاہے۔ آپؐنے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ جنگ کو جتنا محدود کرسکتے ہو کرو۔
فرمایا اسلام میں تو جنگی قیدیوں کے ساتھ انتہائی نرمی کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا گیا ہےاورہرقسم کے ظلم و سختی سے روکا گیا ہے۔ آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے کہ دوسری قوموں کے نمائندگان سےعزت و تکریم اور احترام کے ساتھ پیش آؤ کیونکہ اگر ایسا نہیں کروگے تو پھر یہ امن و سلامتی کےقیام کیلئے خطرہ ہوگا۔ یہ وہ بنیادی قوانین اوراصول ہیں جو اسلام نے جنگ سے متعلق قائم فرمائے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں جنگوں کا مقصد دراصل انصاف قائم کرنا ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں آج کی جنگیں تو مکمل طور پر ذاتی مفاد کی خاطر لڑی جارہی ہیں۔ اگر مسلم حکومتیں یا قومیں ان جنگوں میں شامل ہوتی ہیں تو انہیں بلاشبہ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ان جنگوں میں لڑنا چاہئے۔ اگر مسلم قومیں اسلامی اصولوں پرعمل پیرا ہوں تو حالات اس قدر خراب نہیں ہوں گے اور نہ ہی اس قدر شدید خلفشار، دشمنی، عداوت اور منافرت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوگی جو نسل در نسل چلتی رہے۔ پس تمام وہ اقوام جو جنگوں میں ملوث ہیں خواہ وہ مغربی اقوام ہوں جن میں اسلام اور اسلامی دنیا سے نفرت پیدا ہوگئی ہےیا مسلمان ہوں اُنہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ امن و سلامتی کا قیام تب ہی ممکن ہے جب اسلامی اصولوں کے مطابق جنگیں لڑی جائیں اوراختلافات کا تصفیہ کیا جائے ورنہ ہم ایک ایسی عالمی تباہی کے دہانے پر کھڑے رہیں گے جسکا بیان ممکن نہیں اور جس سے ایسے ہولناک نتائج نکلیں گے کہ آنے والی نسلوں کو اسکی قیمت چکانی پڑے گی۔
اب تو یہ خیال عام ہو رہا ہے کہ دنیا ایک جوہری تباہی کے دہانے پر ہے اور اسکی وجہ مغربی قوموں کے سربراہان اور راہنماؤں کی عدم دلچسپی ہےجس کی وجہ سے جنگ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ مغربی قوموں کا یہ جو نظریہ ہے کہ رشیا اور چین بُری قومیں ہیں اور یہ ممالک ہر لحاظ سے ہمارے دشمن ہیں تو یہ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کر رہا ہے نیز اسکے ذریعہ دشمنی اور عداوت پیدا کی جارہی ہے۔ اس وقت جس حد تک خطرات بڑھ چکے ہیں یورپی راہنماؤں کو چاہئے کہ اپنے مفاد کی خاطر ہی دیکھیں کہ ان کی اپنی سلامتی کو خطرہ ہے۔ ایک امریکی سینیٹر برنی سانڈرز کہتے ہیں کہ اس جنگ کے نتیجے میں 25؍26 ہزار لوگوں کا قتل ہوگیا ہے جس میں دو تہائی عورتیں یا بچے ہیں۔65؍ ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ کئی لاکھ بچے بھوک کی وجہ سے موت کے منہ تک پہنچ گئے ہیں اور ان کی کوئی مدد نہیں کی جارہی۔ مغربی حکومتیں اس لحاظ سے اسرائیل کے ساتھ ملی ہوئی ہیں اور یہ بھی ظلم میں شامل ہونے کے مترادف ہے۔ جس طرح ہولوکاسٹ میں لاکھوں یہودیوں کو مارا گیا تو اب اسی طرح کئی لاکھ فلسطینیوں کو اُن کے اپنے گھروں سے بے گھر کیا گیا ہے۔ انہیں اپنی زمین پر رہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ کئی ایسے مبصرین اور تبصرہ نگار ہیں جو اب کھل کر اسرائیل کی استحصالی پالیسی کا ذکر کر رہے ہیں۔ فرمایا مجھے اس سے کوئی خوشی محسوس نہیں ہوتی کہ میں ان باتوں کو بیان کروں لیکن میں دعا کرتا ہوں اور مجھے امید ہےکہ دنیا کو جلد از جلد عقل آجائے تاکہ اس ظلم و زیادتی اور ان جنگوں کو ختم کیا جائے۔ اس وقت اسرائیل اور فلسطین کے مابین اور روس اور یوکرائن کے درمیان مکمل جنگ بندی کی ضرورت ہے ورنہ ان جنگوں کے نتیجے میں سب کو نقصان پہنچے گا۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کو ان جنگوں کے بداثرات سے بچایا جائے اور آنے والی نسلوں میں معذور بچے نہ پیدا ہوں تو پھر چاہئے کہ پالیسی بنانے والے تمام لوگ اور ادارے اپنے ذاتی مفادات کی بجائے سنجیدگی اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کریں۔ اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانیت کی بقا کی خاطر کوشش کریں اورآنے والی نسلوں کیلئے ایسی دنیا چھوڑیں جو امن و سلامتی کی دنیا ہو۔ ہم سب کواپنی تمام تر توانائیاں اور کوششیں اسی بات میں صَرف کرنی چاہئیں۔
حضور انور نے آخر میں فرمایا کہ مَیں تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ آج یہاں تشریف لائے اور اُنہوں نے میرا خطاب سنا۔ مَیں معذرت خواہ ہوں کہ مجھے ایک طویل خطاب کرنا پڑا لیکن حالات کے مدنظریہ ضروری تھا۔مَیں ایک مرتبہ پھر آپ سب کا شکر گزار ہوں۔ بہت بہت شکریہ۔
(بشکریہ اخبار الفضل انٹرنیشنل 22؍مارچ2024ء)